کینیا میں جنوبی ایشیائی باشندوں کو شہریت دینے کا اعلان

کینیا کی حکومت کا یہ اہم فیصلہ ہے


Editorial July 24, 2017
کینیا کی حکومت کا یہ اہم فیصلہ ہے . فوٹو : فائل

کینیا نے پاک بھارت اوریجن کے لوگوں کو اپنے 44 ویں قبیلے کا درجہ دیتے ہوئے کینیا میں قانونی طور پر مستقل رہائش اور شہریت کی اجازت دیدی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان کینیا کے صدر اوہورو کنیاٹا نے کیا ہے۔ انھوں نے کہا میں اعلان کرتا ہوں اور حکم دیتا ہوں کہ کینیا کے ایشیائی باشندے جن کا تعلق پاک و ہند سے ہے اب وہ ہمارے اپنے قبیلے کے افراد سمجھے جائیں گے اور یہ کہ انھیں 44 واں قبیلہ تصور کیا جائے گا۔

کینیا میں ایشیائی برادری کے الفاظ ان لوگوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جنہوں نے 19 ویں صدی کے اواخر میں مشرقی افریقہ کے اس ملک کو اپنا مسکن بنایا۔ اس وقت برطانوی حکومت کینیا میں ممباسا کی بندر گاہ سے یوگنڈا میں کمپالا تک ریلوے لائن بچھانے کا کام کروانا چاہتی تھی۔

کینیا میں کرائے جانے والی حالیہ مردم شماری میں جنوبی ایشیائی ممالک کے باشندوں کی تعداد 46000 بیان کی گئی ہے جو کینیا میں مقیم ہیں جب کہ دیگر ذرایع سے بتایا گیا ہے کہ کینیا میں مقیم ایشیائی باشندوں کی اصل تعداد میں مزید 35 ہزار افراد شامل ہیں جن کا 2009ء کی مردم شماری میں شمار نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے پاس کینیا کی شہرت نہیں تھی۔ تاہم اب صدارتی اعلان کے بعد جب سب ایشیائی باشندوں کو کینیا کی شہریت دیدی جائے گی جس کے بعد ان کو بھی ملک کے دیگر شہریوں کے مساوی حقوق حاصل ہو جائیں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کینیا میں مقیم جنوبی ایشیائی باشندوں میں سے بہت سے پہلے ہی کافی خوشحال ہیں اور نمایاں ترقی کر رہے ہیں تاہم ملکی شہریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے عمومی طور پر ان باشندوں کے لیے کچھ مسائل اور مشکلات بھی موجود تھیں جو اب دور ہو جائیں گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ صدارتی اعلان عام انتخابات سے چند ہفتے قبل کیا گیا ہے۔

کینیا کی حکومت کا یہ اہم فیصلہ ہے' اس سے جنوبی ایشیا کے باشندوں کے شکوک و شبہات کم ہوں گے' ان جنوبی ایشیائی باشندوں میں مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ ان جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف قوم پرست نفرت پھیلانے میں مصروف تھے اور ان کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے' کینیا کی حکومت کے اس اعلان کی دیگر افریقی ممالک کو بھی تقلید کرنی چاہیے۔