عرب خلیج بحران اور صلح کار  طیب اردوان

ترک صدر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قطر تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں


Editorial July 25, 2017
ترک صدر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قطر تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں ۔ فوٹو : فائل

عرب اورخلیجی ممالک کے درمیان جس تنازعے نے سر ابھارا ہے ، وہ یقیناً امت مسلمہ کے لیے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں ،کیونکہ پہلے ہی تقسیم درتقسیم کے عمل سے مسلمان ممالک کی جو ابتر صورتحال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ،چہ جائیکہ ایک نیا تنازع جو خدانخواستہ بڑھ کر 'جنگ' کی صورتحال اختیار کرلیتا، اس سے پہلے ہی ترک صدرکی کاوشوں کا آغازان کی مدبرانہ، قیادت اور مصلحانہ حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ تمام فریقین کے درمیان صلح کے لیے کوشاں ہیں اور جدہ میں شاہ سلمان بن العزیز سے ملے ہیں، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور بحران کے حل پر گفتگو کی ہے۔

ترک صدر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قطر تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں جب کہ خلیجی ممالک کے دورے سے قبل انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں بھی اس بات کا اظہار کیا کہ خلیج عرب ملکوں اور قطرکے درمیان تنازعے کو طول دینا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ قطر بھی تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ بحران کے دوران قطرکا کردار مثبت رہا ہے۔ترک صدر کی گفتگو سے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترکی امن اور استحکام قائم کرنے میں سہولت کارکا کام بجا لانے کی کوشش کر رہا ہے، اس کے بعد، ترک صدر پہلے کویت اور پھر قطر جائیں گے، جہاں اْن کی ملاقات شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ہوگی جب کہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ امیر قطر کا موقف خلیجی ملکوں کے درمیان رابطوں کی بحالی کی دعوت ثابت ہوگا۔

بلاشبہ امیر قطر کے خطاب کے جو نئے مندرجات سامنے ہیں وہ اپنے سابقہ موقف پر نظر ثانی اور رابطوں کی بحالی پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔اس ضمن میں پاکستان بھی اپنا موقف پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ وہ خطے میں مصلحت اور مفاہمانہ طرزعمل کی بھرپور حمایت کرے تاکہ خطے میں امن واستحکام کی راہیں نہ صرف ہموار ہوں بلکہ مسلم ممالک کا ایک مستحکم بلاک وجود میں آئے، جو کچھ مصر، شام ،عراق ، یمن اور افغانستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے اور ہورہا ہے وہ درد انگیز ہے، جس طرح عالمی استعماری قوتوں نے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے خون کی ہولی کھیلی ہے وہ رکنے کا نام لے رہی ہے۔ یہ کڑا وقت ہے امت مسلمہ پر ، ایک اور غلطی انھیں صدیوں پیچھے لے جائے گی ۔ لہذا خطے میں باہمی مذاکرات سے اور افہام وتفہیم سے مسئلے کا فوری حل نکالنا چاہیے یہی وقت کی ضرورت ہے۔