پاکستان کو 30 برسوں میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اگلے 30 برسوں تک خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے


Editorial July 25, 2017
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اگلے 30 برسوں تک خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ فوٹو : فائل

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اگلے 30 برسوں تک خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، 2050 تک دنیا بھر میں غذائی بحران سنگین ہوسکتا ہے۔ سائنسدان اور ماہرین ایک عرصے سے مختلف پلیٹ فارم پر موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ پانی اور غذا کی قلت کے خدشے سے خبردار کررہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں نان ایشوز کی سیاست کا چلن اس قدر عام ہوچکا ہے کہ حقیقی مسائل کی جانب کسی کی بھی نظر نہیں جاتی۔ جب کہ سائنسدان واضح کرچکے ہیں کہ موسم بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، دنیا بھر کی طرح یہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے، زرعی شعبے کو ہنگامی بنیاد پر ترجیح دینا ہوگی۔ لیکن دیگر مسائل کی طرح اس جانب سے بھی پہلوتہی حکومت اور متعلقہ اداروں کا وطیرہ بن چکا ہے۔

یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ دنیا کاشت کاری کے لیے جدید ذرایع استعمال کررہی ہے لیکن پاکستان میں اناج پیدا کرنے کا عمل اب بھی روایتی ہے، جسے تبدیل کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔ زرعی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین کی زرخیزی میں کمی آ رہی ہے اور کئی زرعی علاقے اب کاشت کے قابل نہیں رہے۔ زمین پر آبادی میں افزائش مسلسل جاری ہے لیکن زمین کا رقبہ اتنا ہی ہے اور زراعت کے لیے کاشت والے علاقے بھی کم ہو رہے ہیں، اس کی وجہ شہروں کا پھیلاؤ ہے۔

دوسری جانب انسان خود اپنی تباہی اپنے ہاتھوں پیدا کررہا ہے، جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ، پھیلتی آبادیاں اور قابل کاشت زمین کا نامناسب استعمال بھی خوراک کی کمی کے محرکات میں شامل ہے۔ اس وقت زمین پر بھوک کے پھیلنے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر 9 میں سے ایک شخص خوراک سے محروم ہے، اناج میں کمی کی ایک وجہ زمین کی زرخیزی میں کمی بھی بتائی جاتی ہے، سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کا عمل روکنا ناممکن ہے، 2030 میں دنیاکی آبادی 8 ارب 60 کروڑ کے لگ بھگ ہو جائے گی اور 2050 میں یہ آبادی 10ارب کے قریب پہنچ جائے گی۔

اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو 83 برس بعد زمین پر 11 ارب سے زائد نفوس بستے ہوں گے۔ اس قدر بڑی آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے راست لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پیدا ہونے والے اناج سے خوراک کم نہیں ہوئی ہے لیکن اصل مسئلہ اس کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہے، آیندہ تیس سال میں برپا ہونے والی متوقع خوراک کی کمی سے نمٹنے کے لیے ابھی سے صائب کوششیں کی جائیں۔