ڈرافٹنگ سسٹم کے سی سی اے نے علم بغاوت بلند کر دیا

زبردستی رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو کراچی سخت مزاحمت کرے گا،ریجن کا کردار ختم کیا جا رہا ہے، ترجمان


Sports Reporter July 26, 2017
زبردستی رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو کراچی سخت مزاحمت کرے گا،ریجن کا کردار ختم کیا جا رہا ہے، ترجمان۔ فوٹو: فائل

پی سی بی کے اقدامات سے نالاں کے سی سی اے نے ایک مرتبہ پھرعلم بغاوت بلند کردیا۔

ڈومیسٹک افیئرزکمیٹی نے آئندہ سیزن کے لیے ریجن کی ٹیموں کا سلیکشن ڈرافٹنگ کے انتخاب کی تجویز کو انتہائی غیر منصفانہ اقدام قراردیا گیا ہے، مذکورہ تجویزکے تحت 8کھلاڑی ریجن کے ہوںگے جبکہ 12 بذریعہ ڈرافٹنگ منتخب کیے جائیں گے۔

کے سی سی اے کا موقف ہے کہ کراچی ریجن کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ اور یہاں 250 سے زائد کلبز باقاعدگی سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، ڈرافٹنگ کا سسٹم غیر منصفانہ ہے اورکراچی ریجن کی تباہی کا باعث بنے گا۔ ترجمان نے کہا کہ کراچی ریجن ڈرافٹنگ کے اس عمل کو یکسر مستردکرتا ہے، کے سی سی اے کراچی ریجن کی ایک ٹیم کرنے پر پہلے ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کرا چکی ہے۔

ادھر ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ کراچی ریجن کی دو مستقل ٹیمیں ہونی چاہئیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ پی سی بی کی جانب سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ2016 میں کراچی کی دونوں ٹیموں نے فائنل تک رسائی حاصل کی، پی سی بی نے نیشنل ون ڈے کپ2016-17 منعقد کیا تو اس کے فائنل میں کراچی بلوزنے جگہ بنائی،کراچی ریجن کی انڈر 16ٹیم مسلسل تین جبکہ اسی ریجن کی انڈر 19ٹیم دو سال سے چیمپئن ہے۔

گزشتہ قائداعظم ٹرافی میں سپر 8 مرحلے میں واحدکراچی ریجن تھا جس نے رسائی حاصل کی باقی 7 ٹیمیں ڈپارٹمنٹس کی تھیں۔کراچی ریجن ڈرافٹنگ کے ذریعے سلیکشن پر اپنے سخت تحفظات رکھتا اور اس کا موقف ہے کہ اگر اس سسٹم کوزبردستی رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو کراچی ریجن سخت مزاحمت کریگا۔

یہ ممکن نہیں کہ سات زون کے 140کھلاڑی انٹر ڈسٹرکٹ سینئر میں حصہ لیں، ان میں سے صرف 8کھلاڑی پورے کراچی ریجن کی نمائندگی کے لیے منتخب کیے جائیں اور 12کھلاڑی بذریعہ ڈرافٹنگ منتخب ہوں۔ کے سی سی اے کا موقف ہے کہ کراچی ریجن میں تین بڑے ڈپارٹمنٹس گریڈ ٹوکھیل رہے ہیں جن میں پورٹ قاسم اتھارٹی، اسٹیٹ بینک اور پی آئی اے جن میں سرفراز احمد، انور علی، محمد سمیع، فیصل اقبال اور خرم منظور جیسے کھلاڑی موجود ہیں۔ جب آٹھ کھلاڑیوں کے نام ریجن کو دینے ہونگے تو مذکورہ کھلاڑی اور ان جیسے کئی کھلاڑی سمیت آٹھ کھلاڑی ہو جائیں گے باقی 12کھلاڑی پورے پاکستان سے ڈرافٹنگ کے ذریعے لیے جائیں گے توکراچی ریجن کے سات زونز کے 140کھلاڑی انٹر ڈسٹرکٹ سینئر میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے کے باوجود کراچی ریجن کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔کراچی ریجن اس ڈرافٹنگ سسٹم کو کسی طور قبول نہیں کریگا۔

نئے ڈرافٹنگ سسٹم سے ریجن کے سربراہ کی حیثیت یکسر ختم ہو جائیگی اور تمام تر اختیارات کوچ اور کپتان کو چلے جائیں گے۔جس سے کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔مذکورہ ڈرافٹنگ سسٹم ریجن کی کرکٹ کو تباہ کردیگا۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں چند لوگ ریجن کے اختیارات سلب کرکے سپر پاور بننا چاہتے ہیں جو کہ نئے ڈرافٹنگ سسٹم کومتعارف کرانے سے ثابت ہوتا ہے جبکہ یہ بات واضح ہے کہ ہرریجن کا کوچ پی سی بی کا تنخواہ دار ہے، پی سی بی میں ایک با اثر شخصیت موجود ہے جس کے کہنے پر سب چلنے پر مجبور ہوتے ہیں تو جو وہ کہیں گے کوچزکرینگے اور جوکوچزکہیں گے وہ کپتان کریگا،اس میں ریجن کا کردار تو ختم ہو گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ریجن کو مائنس کرنے کی جو پالیسی بورڈ کی ایک بااثرشخصیت نے اپنائی ہوئی ہے۔ اس کا بہت بھیانک انجام نکلے گا، ریجنز نرسری کا کام کرتے ہیں جنھیں کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔پاکستان میں 16ریجنزکام کررہے ہیں، جن میں سے آٹھ ریجنز کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا درجہ حاصل ہے جبکہ باقی آٹھ ریجنزکو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کادرجہ حاصل نہیں ہے، کھلاڑی ہمیشہ ریجن نے ہی پیدا کے ہیں،اس کے بعد ریجن میں اعلیٰ کارکردگی دکھا کر وہ ڈپارٹمنٹ میں چلے جائیں تو یہ الگ بات ہے۔

پی سی بی کے چند لوگوں کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہمیں کرکٹ کا حال بھی آئندہ چند برسوں میں ہاکی کی طرح ہوتا نظر آرہا ہے، کے سی سی اے نے خدشہ ظاہر کیاکہ اگر پی سی بی گورننگ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں نئے ڈومیسٹک فارمیٹ کی منظوری دیدی گئی توپاکستان میں ریجنزکی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہوگی۔

مقبول خبریں