ایل ای ڈی لائٹس درآمد میں 2 کروڑ کی ٹیکس چوری

9 امپورٹرزنے متعددکھیپوں کی کلیئرنس میں غلط بیانی سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا


Ehtisham Mufti July 28, 2017
مجرمانہ فعل کے ذریعے قومی خزانے کو ریونیوکی مدمیں مجموعی طورپر دوکروڑ33لاکھ روپے کا نقصان پہنچایاہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کسٹمز کیڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے ملک میں درآمدہونے والی ایل ای ڈی لائٹس کی درآمدی سرگرمیوں میں 2 کروڑ 33 لاکھ روپے مالیت کی کسٹمزڈیوٹی ودیگر ٹیکسوں کی مدمیں چوری کا انکشاف کیا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ریونیو چوری میں 9درآمدکنندگان شامل ہیں جن میں میسرز آر جے کارپوریشن، میسرز زیڈ اے ایچ انٹرنیشنل، میسرز زمیر ٹریڈنگ کمپنی، میسرز بوٹا انٹرنیشنل، میسرز گرین گلوبل، میسرز کنجھار انٹرنیشنل، میسرز ماروی انٹرنیشنل، میسرزنم ٹریڈرزشامل ہیں جنہوں نے ایل ای ڈی لائٹس کے متعدد درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے موقع پرمطلوبہ کسٹمزڈیوٹی ودیگرٹیکسوں عدم ادائیگیاں کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا ارتکاب کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹر پوسٹ کلیئرنس آڈٹ گل رحمان کی ہدایت پر ڈپٹی کلکٹرساجدعلی بلوچ، اپریزنگ آفیسرفیض مدثر اور اپریزنگ آفیسر اظہر عباس پر مشتمل ٹیم نے محکمہ کسٹمزسے کلیئرکرائے جانے والے ایل ای ڈی لائٹس کے کنسائمنٹس کی بعد ازکسٹم کلیرنس ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ مذکورہ 9 درآمدکنندگان نے متعدد کنسائمنٹس درآمد کیے ہیں اور ان کنسائمنٹس میں ایل ای ڈی لائٹس،ایل ای ڈی لائٹس پینل، ایل ای ڈی فلوڈ لائٹس،ایل ای ڈی کلربلب،ایل ای ڈی بل، اورایل ای ڈی پینل شامل ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ کی متعلقہ دستاویزات کے مطابق درآمدکنندگان کی جانب سے مذکورہ کنسائمنٹس کی کسٹمزکلیئرنس کیلیے ایچ ایس کوڈ نمبر 9405.1090 کا استعمال کیاگیا اور اس کوڈکے تحت ڈیوٹی وٹیکسوںکی رعایتوں غلط فائدہ اٹھایا حالانکہ مذکورہ ایچ ایس کوڈاور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ڈیوٹی وٹیکسوں کی رعایت صرف ایس ایم ڈی، ایل ای ڈی اوررینیوایبل انرجی کی فروغ کے لیے محدود ہے لیکن اس قانون کی موجودگی کے باوجود درآمدکنندگان نے مجرمانہ فعل کے ذریعے قومی خزانے کو ریونیوکی مدمیں مجموعی طورپر دو کروڑ 33 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایاہے۔

ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی ٹیم نے ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری کی نشاندہی کے بعد مذکورہ درآمدکنندگان کو چوری شدہ ریونیو کی وصولیوں کیلیے نوٹسز جاری کیے گئے لیکن امپورٹرز کی جانب سے ٹھوس جواب موصول نہ ہونے پرپوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے مزید کارروائی کیلیے ایڈجیوڈکیشن کلکٹریٹ کوکنٹراونشن رپورٹ بھیج دی۔

مقبول خبریں