شامی حکومت مخالفین سے مذاکرات کیلیے تیارکشیدگی کےباعث ہزاروں افراد کی نقل مکانی

مذاکرات کیلیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئیں، وزیر اطلاعات، صدر بشارالاسد کی کابینہ میں ردوبدل ، 7 نئے وزراتعینات۔


APP February 10, 2013
اکثر شامی باشندے لبنان، اردن، عراق، ترکی اور دیگر ممالک جا کر پناہ لے چکے ہیں،اقوام متحدہ، اپوزیشن امریکا میں دفاتر کھولے گی. فوٹو: رائٹرز

شام کی حکومت سیاسی مخالفین کیساتھ مذاکرات کیلیے تیار ہوگئی ہے۔

ہفتے کو شام کے وزیر اطلاعات نے حزب اختلاف کے رہنما کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شام کی حکومت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ مذاکرات کیلیے تیار ہے لیکن ان مذاکرات کیلیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئیں۔ وزیر اطلاعات عمرانے الزوہبی نے شام کے ٹیلی وژن پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شام کا جو بھی باشندہ ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے اس کیلیے دروازہ کھلا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات بلا کسی پیشگی شرط کے ہونگے۔شام کے صدر بشارالاسد نے اپنی کابینہ میں رد بدل کرتے ہوئے7 نئے وزراء تعینات کر دیے۔ مقامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر بشارالاسدنے ہفتے کو کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے نئے وزرا کی تعیناتی کاحکم جاری کردیا ۔



اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 5ہزار شامی باشندے روزانہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ہفتے کو ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین نے کہا ہے کہ ہزاروں خاندان شام سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اکثر شامی باشندے لبنان، اردن، عراق، ترکی اور دیگر ممالک جا کر پناہ لے چکے ہیں۔ کیمپوں میں بھی لاکھوں افراد مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔دریں اثنا شامی اپوزیشن اتحاد نے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کیلیے امریکا میں دفاتر کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ہفتہ کو اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ اپوزیشن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر جانے سے گریز کرے۔