ڈومیسٹک کرکٹ میں نئے تجربے کی منظوری کراچی کی کسی نے نہ سنی

فرسٹ کلاس ایونٹ میں 10 کرکٹرز ریجنز سے لیے جائیں گے، دیگر کا بذریعہ ڈرافٹ انتخاب، اعجاز فاروقی واک آؤٹ کرگئے


Sports Reporter/Abbas Raza July 29, 2017
کھلاڑیوں کو پورے سال کا کنٹریکٹ دیا جائے گا، کوچز کا معاوضہ بھی بڑھا دیا گیا، میدانوں اور پچزکی کوالٹی بہترہوگی۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR: پی سی بی نے ڈومیسٹک ریجنل ٹیموں کو ڈرافٹ سسٹم کا تڑکا لگانے کا فیصلہ کرلیا، پلان میں تھوڑی تبدیلی کے بعد اب 8کے بجائے 10 کرکٹرز ریجنز کے لیے جائیں گے، 2انڈر 19کھلاڑی بھی شامل ہونگے۔

پی سی بی گورننگ بورڈ کے گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہونے والے اجلاس کی صدارت شہر یار خان نے کی، دیگر ارکان نجم سیٹھی، شکیل شیخ، پروفیسر اعجاز فاروقی، میجر (ر) سید نعیم اختر، گل زادہ ،لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین، منصور مسعود خان، امجد لطیف اور سعید احمد بھی موجود تھے، اس موقع پر صرف ایک مسئلہ ایسا تھا جس میں تھوڑی مزاحمت اور بحث ہوئی دیگر پر سب ہاں میں ہاں ملاتے رہے، ڈومیسٹک ریجنل ٹیموں میں ڈرافٹ سسٹم لانے پر کراچی کا شدید اعتراض سامنے آیا۔

ریجن کے نمائندے اعجاز فاروقی موقف نظر انداز کرنے پر اجلاس کا واک آؤٹ کرکے چلے گئے، نجم سیٹھی نے بتایا کہ پہلے پیش کی جانے والی تجویز میں 12کرکٹرز ڈرافٹ اور 8براہ راست ریجن سے آنے تھے، اس پرکراچی کے ساتھ لاہور کو بھی اعتراض تھا، ڈرافٹ والے کھلاڑیوں کی تعداد 8کرنے کی تجویز سامنے آئی، بعد ازاں طے پایا کہ اب 10ڈرافٹ اور اتنے ہی براہ راست لیے جائیں گے، ساتھ 2انڈر 19 کرکٹرز بھی لازمی شامل ہونگے۔

شہریار خان نے کہا کہ ہمارا فیصلہ ریجنز میں کرپشن اور سیاست ختم کرنے کیلیے تھا، بہرحال معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرلیا جائے گا۔

کرکٹ کمیٹی کے سربراہ شکیل شیخ نے کہاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوان کرکٹرز کو پاور ہٹنگ کی ٹریننگ کرائی جائے گی،انھیں 6ماہ کے بجائے پورے سال کا کنٹریکٹ دیں گے تاکہ فارغ دنوں میں بھی معاشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، کوچز کا معاوضہ بھی بڑھا رہے ہیں، فرسٹ کلاس کرکٹ کے لیے مختص میدانوں کی حالت اور پچز کی کوالٹی بہتر بنائی جا رہی ہے،اس بار زیادہ مسابقتی کھیل ہوگا اور نیا ٹیلنٹ نکھر کر سامنے آئے گا۔

شکیل شیخ نے ڈرافٹ سسٹم کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور لاہور کے تحفظات ضرور سامنے آئے لیکن متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے، سسٹم کو زیادہ موثر انداز میں چلاتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کا مجموعی معیار بہتر بنانے کی کوشش کامیاب ہوگی۔