روس ایران اور شمالی کوریا پر امریکا کی نئی پابندیاں

روس نے ماسکو کے نواح میں واقع ایسی دو عمارتوں کو بھی قبضے میں لے لیا ہے


Editorial July 30, 2017
روس نے ماسکو کے نواح میں واقع ایسی دو عمارتوں کو بھی قبضے میں لے لیا ہے ۔ فوٹو : فائل

روس کے ساتھ تو امریکا کی پرانی رقابت ہے جس کی بنیادی وجہ روس کا اقتصادی نظام تھا جو امریکا اور باقی کی مغربی ممالک کے سرمایہ دارانہ نظام اقتصاد کے متضاد تھا جس کا امریکا اور مغربی ممالک میں مذاق اڑایا جاتا تھا۔ کئی عشرے تک امریکا کی سوویت روس کے ساتھ سرد جنگ جاری رہی بلکہ کئی مراحل پر دونوں کے درمیان ایٹمی جنگ ہو تے ہوتے رہ گئی۔ اب امریکی سینیٹ نے روس، ایران اور شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کا بل منظور کر لیا ہے۔

مغربی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ ختم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور پابندیوں کا حالیہ بل جو بظاہر روس اور شمالی پر پابندیاں عاید کرنے کے لیے ہے، دراصل اس کا اصل ہدف ایران ہی ہے۔ ویسے تو بل میں کہا گیا ہے کہ روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے پیش نظر اس پر پابندیاں سخت کی جائیں گی۔ تاہم بل کے مطابق یورپ کی ایسی کمپنیاں جو روس میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی۔ بل کی یہ شق یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے شامل کی گئی ہے۔

ادھر سینیٹ میں منظور شدہ بل میں ایران پر دہشتگردی کی حمایت کرنے اور شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل میزائل تجربات کے نتیجے میں ان ممالک پر پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس قانون کی توثیق میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اِس منظوری کے بعد روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی اْن کی کوششوں کا عمل رک بھی سکتا ہے۔ بل میں ایسی ایک شق بھی شامل ہے کہ کانگریس روس پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کے عمل کو روکنے کی مجاز ہو گی۔ سینیٹ میں جس قانونی قرارداد کی منظوری دی گئی ہے، اس میں ایران اور شمالی کوریا کے خلاف بھی نئی پابندیوں کو شامل کیا گیا ہے۔

ادھر روس نے اپنے خلاف تازہ امریکی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے واشنگٹن سے کہا ہے کہ وہ ملک میں موجود اپنے سفارتی عملے کو کم کرے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے جاری کردہ حکم میں امریکا سے کہا گیا ہے کہ وہ روس میں اپنا اضافی سفارتی عملہ یکم ستمبر 2017ء تک واپس بلوا لے۔ جس کے بعد روس میں تعینات امریکی سفارتی عملے کی تعداد 455 رہ جائے گی۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ اس وقت روس میں کتنا امریکی سفارتی عملہ ذمے داریاں ادا کر رہا ہے۔

روس نے ماسکو کے نواح میں واقع ایسی دو عمارتوں کو بھی قبضے میں لے لیا ہے جو امریکی سفارت کاروں کے زیر استعمال تھیں۔ علاوہ ازیں امریکا نے ایران کی جانب سے کیے گئے راکٹ تجربے کو اشتعال انگیز سرگرمی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔