قطر پر مزید پابندیاں لگنے کا امکان

گزشتہ ماہ چار عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کیا تھا


Editorial August 01, 2017
گزشتہ ماہ چار عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ فوٹو : فائل

HYDERABAD: قطر کے مخالف چار عرب ملکوں سعودی عرب، عرب امارات، بحرین اور مصر نے کہا ہے کہ دوحہ کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے اصول پر مبنی چھ نہیں بلکہ ان 13 مطالبات کو بھی تسلیم کرنا ہو گا جو اس بحران کے آغاز پر پیش کیے گئے تھے۔30 جولائی کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں بحرینی فرمانروا احمد بن عیسی آل خلیفہ سے ان چار عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ وہ قطر کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ ان شرائط میں کوئی رعایت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم قطر کو 'دہشت گردوں سے تعاون کرنے اور مالی امداد فراہم کرنے سے روکنے کے لیے عملی اور نیک نیتی کی خواہش' پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔الجزیرہ ٹیلی ویڑن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں بحرین کے وزیرِ خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے کہا کہ چاروں ملک تصدیق کرتے ہیں کہ ان کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔یہ بیان بظاہر 11 روز قبل ان چار ملکوں کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کی تردید کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ 13 مطالبات پر مزید اصرار کرنے کے بجائے نرمی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے قطر چھ اصولوں پر عملدرآمد کرے۔ادھر سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ مقدس اسلامی مقامات کو بین الاقوامی حیثیت دیے جانے کا قطری مطالبہ 'اعلان جنگ' ہو گا۔

قطر اور دیگر عرب ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے بعد ترکی نے ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات حل کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر قطر مخالف چار عرب ملکوں کے حالیہ بیان اور رویے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ان کے درمیان اختلافات ختم کرانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور یہ عرب ممالک قطر کے خلاف مزید سخت رویہ اپنانے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی عرب' متحدہ عرب امارات ' مصر اور بحرین کی جانب سے قطر پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے' اطلاعات کے مطابق عرب ممالک کے حکام ایک اجلاس میں شرکت کے لیے بحرین پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اس حوالے سے بات چیت کریں گے۔

گزشتہ ماہ چار عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا' اس کے علاوہ اس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کے ساتھ نہ صرف اپنی سرحدیں بند کر دیں تھی بلکہ قطر سے آنے اور جانے والی پروازیں بھی بند کر دی گئی تھیں۔ اس صورت حال کے بعد قطر میں عوام کو خوراک اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندری اور دیگر فضائی راستے اختیار کرنا پڑے۔ اب اگر قطر پر مزید پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس سے اس کے نہ صرف مسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا بلکہ اس کی معیشت بھی کمزور پڑنے کے خدشے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطر پر الزام ہے کہ وہ ایران کی جانب نرم گوشہ رکھتا ہے' لیبیا اور یمن کے باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس نے اپنے سرکاری چینل الجزیرہ کی مدد سے دوسرے عرب ملکوں کے خلاف میڈیا وار شروع کر رکھی ہے۔

قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون اور دیگر شدت پسند گروہوں سے تمام تعلقات توڑ کر ان کی مالی امداد بند کر دے اور دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تمام افراد کو ان چار عرب ممالک کے حوالے کرے۔ اس صورت حال کے تناظر میں قطر اور دیگر عرب ممالک کے تنازعات شدت اختیار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو مستقبل میں خلیجی ممالک کے مسائل میں اضافہ کر سکتے ہیں' بہتر ہے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انھیں باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے یہی بہترین راستہ ہے۔