پٹرول و گیس پر اضافہ ٹیکس حکومت نے 6 ماہ میں عوام کی جیبوںسے 120ارب نکال لیے

پٹرولیم لیوی 57.61 ارب، گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس24.92 ارب، ڈیولپمنٹ سرچارج آن گیس 7.57 ارب روپے


INP February 11, 2013
ٹیکسوں میں سے زیادہ ٹیکسز پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے عائد کیے ہیں جن کے ذریعے غریب عوام سے اربوں روپے کی وصولیاں کی جارہی ہیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور گیس پر عائد اضافی ٹیکسوں کے ذریعے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران مہنگائی سے مارے عوام کی جیبوں سے 120 ارب روپے سے زائد نکال لیے۔

وزارت خزانہ کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی کی مد سے 57 ارب 61 کروڑ روپے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی مد سے 24 ارب 92 کروڑ روپے ، ڈیولپمنٹ سرچارج آن گیس کی مد سے 7 ارب 57 کروڑ روپے، کروڈ پرائس پر ڈسکائوٹ ری ٹینڈ کی مد سے 7 ارب 45 کروڑ روپے اور خام تیل پر ونڈفال لیوی کی مد 24 ارب 63 کروڑ روپے وصول کرلیے ہیں۔

4

ٹیکسوں میں سے زیادہ ٹیکسز پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے عائد کیے ہیں جن کے ذریعے غریب عوام سے اربوں روپے کی وصولیاں کی جارہی ہیں جبکہ اس کے برعکس حکومت اور اپوزیشن میں بیٹھے درجنوں ارب پتی رہنما اپنے حصے کا بھی ٹیکس جمع نہیں کرا رہے جس کے باعث ملک میں جی ڈی پی میں ٹیکسوں کی وصولیوں کا تناسب خطے میں سب سے کم9.1 فیصد کے قریب ہے جبکہ حکومت ٹیکس بڑھانے کے لیے بار بار غریب عوام پر ہی بوجھ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات اور گیس پر سیلز ٹیکس کے علاوہ اضافی ٹیکسز عائد کرکے ملک میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس مہنگی کی جارہی ہے جس سے دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی مشکل ہورہی ہے۔ اس کے مقابلے میں خطے کے دوسرے ممالک سمیت دنیا کے متعدد ممالک اپنے عوام کو سستا تیل و گیس فراہم کرنے کے لیے ان پر سبسڈی بھی دے رہی ہیں جس کی وجہ سے وہاں پر مہنگائی کی شرح میں قدرے بہتر صورتحال ہے۔