ہفتہ رفتہ کاٹن مارکیٹ میں اتار چڑھائو فی من قیمت 5200 تا 6500 روپے رہی

اسپاٹ ریٹ فی من 6100روپے پرمستحکم،پھٹی فی 40کلو2000تا3000روپے، بنولہ کی قیمت فی من 650تا900روپے رہی


Business Reporter February 11, 2013
یکم فروری تک کپاس کی پیداوارکے اعدادوشمار کے مطابق روئی کی پیداوار ایک کروڑ23لاکھ 78ہزار گانٹھوں کی ہوئی۔فوٹو: فائل

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل واسپننگ ملزکی جانب سے روئی کی خریداری جاری رہی جبکہ کپاس کے کاشتکاروں کی جانب سے پھٹی کی رسد دن بدن کم ہوئے جانے کے باعث روئی کی قیمت میں مجموعی طورپر ملاجلارجحان رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں کوئی ردوبدل کیے بغیرروئی کا اسپاٹ ریٹ فی من 6100روپے کی قیمت پرمستحکم رکھا، صوبہ سندھ وپنجاب میں روئی کی قیمت فی من 5200تا 6500روپے رہی، پھٹی کی قیمت فی 40کلو 2000تا 3000روپے، بنولہ کی قیمت فی من 650 تا 900روپے رہی، کراچی کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین گزشتہ دنوں صوبہ سندھ اورپنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں کا دورہ کیا، وہاں انھوں نے کپاس کے کاشتکاروں، بیوپاریوں، جنرز سے ملاقات کی۔

انھوں نے بتایا کہ اس سال کپاس کی کھڑی فصل پر تباہ کن بارشوں نے کپاس کی فصل کوخصوصی طورپرصوبہ پنجاب میں متاثر کیا، صوبہ سندھ میں کپاس کی فصل میں گزشتہ سال کے نسبت 29.42فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ صوبہ پنجاب میں 18.12فیصد کی کمی واقع ہوئی، فصل کی کم پیداوار کی وجہ سے کپاس کے کاشتکاروں اوربنولہ اورکھل کی کم قیمتوں کی وجہ سے خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے، کئی کاشتکاردلبرداشتہ نظرآئے اورکپاس کی فصل کے نسبت زیادہ فائدہ پہنچانے والی فصلوں کی جانب مائل ہونے کے متعلق سوچ رہے ہیں تاہم گنے کے کاشتکاربھی شوگرملوں کی جانب سے ان کو ادائیگیوں میں زبردست پریشانی کے باعث وہ بھی دیگرفصل کی جانب مائل ہونے کے متعلق پلاننگ کرتے ہوئے نظرآرہے تھے۔

5

تاہم گنے کے کاشتکاروں کی پریشانی کومدنظررکھتے ہوئے خیال ہے کہ کپاس کے کاشتکارشاید کپاس کی فصل کوہی ترجیح دینے کے لیے مجبورہوں گے، بہرحال کپاس کے کاشتکار، بیوپاری اورجنرزخوش نظرنہیں آرہے تھے، نسیم عثمان نے بتایا کہ خصوصی طورپرچین کی جانب سے کورس کائوٹ کے کاٹن یارن کی زبردست درآمد کے باعث پاکستان نے ٹیکسٹائل اسپننگ ملزکوخاصا فائدہ ہورہا ہے۔

یکم فروری تک کپاس کی پیداوارکے اعدادوشمار کے مطابق روئی کی پیداوار ایک کروڑ23لاکھ 78ہزار گانٹھوں کی ہوئی جوگزشتہ سال کی اسی عرصے کی پیداوارایک کروڑ36لاکھ 15ہزار گانٹھوں کے نسبت 12لاکھ 37 ہزار گانٹھیں (9.09فیصد) کم ہے، صوبہ سندھ میں پیداوار 33لاکھ 47 ہزارگانٹھوں کی ہوئی جوگزشتہ سال کی پیداوار25لاکھ 85 ہزارگانٹھوں کے نسبت 11لاکھ 28ہزارگانٹھیں (29.2فیصد) زیادہ ہے، جبکہ صوبہ پنجاب میں پیداوار 90 لاکھ 31ہزار گانٹھیں ہوئی۔ گزشتہ سال کی پیداوار ایک کروڑ 10 لاکھ گانٹھوں کے نسبت19 لاکھ 98 ہزار گانٹھیں (18.12فیصد) کم ہے، نسیم عثمان کے مطابق کل پیداوارایک کروڑ30لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے، نیویارک کاٹن میں ملا جلارجحان رہا۔