جمہوریت کا کارواں اور زمینی حقائق

مسلمہ حقیقت ہے کہ جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہے


Editorial August 03, 2017
مسلمہ حقیقت ہے کہ جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہے ۔ فوٹو : فائل

وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی 221 ووٹ لے کر وزیر اعظم منتخب ہوگئے ہیں، ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے47 اور تحریک انصاف کے نامزد امیدوار شیخ رشید نے33 جب کہ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے4 ووٹ حاصل کیے۔ شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، صدر ممنون حسین نے ان سے حلف لیا، اس موقع پر مسلح افواج کے سربراہان، ارکان پارلیمنٹ، صوبائی گورنرز، وزراء اعلیٰ اور غیرملکی سفارتکاروں کے علاوہ اعلیٰ سول و فوجی افسران نے شرکت کی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ، وزیراعظم کا انتخاب ڈویژن کی بنیاد پر ہوا۔ شاہد خاقان کے وزیراعظم منتخب ہونے پر اسپیکر نے انھیں مبارکباد دی اور ان کی درخواست پر شاہد خاقان نے قائد ایوان کی نشست سنبھال لی۔

ملکی سیاسی صورتحال کے سیاق وسباق میں جمہوریت نے ایک مثبت ،خوش آیند اور قابل تعریف پیش رفت کی ہے، ایک نئے وزیراعظم کے انتخاب ، ان پر اعتماد کے آزادانہ ووٹ اور اسمبلی کی پر امن جمہوری کارروائی سے نہ صرف جمہوریت کو سربلندی حاصل ہوئی بلکہ جمہوری تسلسل کے آئینی اور قانونی طریقوں پر عملدرآمد سے اس تاثر اور حقیقت کو تقویت ملی کہ ملک و قوم ایک قانونی پراسیس سے گزرے ، عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے نتیجہ میں جو انتظامی شیک اپ ہوا اسے جمہوری اسپرٹ کے ساتھ برتا گیا، سر ونسٹن چرچل نے کیا خوب کہا تھا کہ ''جمہوریت کے خلاف بہترین دلیل یہ ہے کہ آپ پانچ منٹ ووٹر سے بات کرلیں''۔ حکمران جماعت ہی کے ایک سابق وزیر ، رکن قومی اسمبلی ، پارٹی کے سنجیدہ اور فعال کارکن کو وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے نامزد کیا گیا اور انھوں نے ایوان کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں قوم کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ 45 دن میں 45 مہینے کا کام کرکے دکھا دیں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن قبول کیا ہے ، تمام ادارے ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اگر کشتی میں چھید ہو گا تو سب ہی ڈوبیں گے، ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک بغیر ٹیکس کے نہیں چل سکتا ، کوئی ہماری طرف ہو یا اپوزیشن کی طرف ہر کسی کو ٹیکس دینا پڑیگا۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، معیشت کو مستحکم کیا،10ہزار میگاواٹ بجلی نظام میںشامل کی،60 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری آئی، انھوں نے ملکی سیاست کے ماضی کا بھی حوالہ دیا، اپنی حکومت کا سابقہ حکومتوں سے تقابلی جائزہ لیا، دلچسپ تقریر کی ، اپنا پیغام بلیغ اور مہذبانہ انداز میں پیش کیا، ان کا یہ کہنا بجا تھا کہ سیاست ملک میں ایک گالی بن چکی ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ آج ایوان کی سب سے بڑی ذمے داری اپنے تقدس کو بحال کرنا ہے، ملک نے چلنا ہے توآئین پر عمل کرنا ہو گا، ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری دیکھ کر تکلیف ہوئی ہے، ٹیکس ڈائریکٹری دیکھ کر لگتا ہے کہ سیاستدان اپنے کام سے مخلص نہیں۔ امن و امان کی بحالی ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

انھوں نے اسلحہ لائسنس کے حوالہ سے اعلان بھی کیا، فاٹا میں ترقی ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ بڑھانے ' یکم نومبر کے بعد ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ، موٹرویز اور ریلویز کا بہترین نظام قائم کرنے کے عہد کی تجدید کی اور کہا کہ نواز شریف کا کراچی کو پیکیج دینے کا وعدہ بھی پورا کریں گے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے امیدوار نوید قمر نے صائب بات کی کہ یہ ایوان مضبوط ہو گا تو حکومت بھی مضبوط ہوگی، امن و امان' صحت' تعلیم، زراعت کا فروغ اور غربت کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے امیدوار صاحبزادہ طارق اللہ، محمود اچکزئی ، آفتاب شیرپاؤ، اے پی ایم ایل کے افتخار الدین و دیگر نے اظہار خیال کیا۔ ارکان پارلیمنٹ چونکہ ایک نئے عہد کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ، مسائل اور چیلنجز سے نمٹنا بھی ہے، موجودہ سیٹ اپ کتنی دیر قوم کی خدمت کرتا ہے اور مستقل وزیراعظم کی آمد یا اسی سسٹم کے تسلسل کے امکانات کتنے ہیں۔

ان تمام حقائق سے خاقان انتظامیہ کو اپنے گہرے سیاسی شعور اور وژن کو کام میں لانا ہوگا جب کہ اس تاریخی حقیقت سے آگاہی ضروری ہے کہ حالیہ تبدیلیوں سے کوئی بحران ، انارکی، یا انتشار پیدا نہیں ہونے دیا گیا، عدلیہ کے فیصلہ پر رائے زنی کا جمہوری حق سب استعمال کر رہے ہیں، قانونی ماہرین اس پر بحث و تمحیص میں مصروف ہیں مگر اس حق کو معرکہ آرائی اور عوام میں کنفیوژن پھیلانے کے لیے ہرگز استعمال نہیں ہونا چاہیے، عدلیہ کے وقار کا ہر ایک کو لحاظ رکھنا چاہیے۔

ملک کو ایک شفاف انتظامی طرز حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں عوام کو جمہوریت سے ریلیف ملے، قانون کی حکمرانی ، دہشتگردی کا خاتمہ ہو اور مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، جرائم سمیت ہر سماجی برائی اور اخلاقی گراوٹ کا سدباب ہو۔ یہ عوام اور سیاستدانوں سمیت ریاستی اداروں کی جیت ہے کہ جمہوری نظام ڈی ریل نہیں ہوا، اس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے آزادانہ، جارحانہ اور ذمے دارانہ کردار کوبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سماجی بندشوں، تنگ نظری ،محکموں کی مجرمانہ غفلت اور عوام کی بے بسی کو جس موثر طریقے سے میڈیا نے اجاگر کیا اور بااثر ، طاقتور مافیاؤں کو جس جرات مندی سے بے نقاب کیا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک نے جمہوری تسلسل کی منزل پائی، ایک وزیراعظم نے عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے سامنے سر جھکایا اور دوسرے نے قومی اسمبلی میں حلف لیا۔ ریاستی رٹ کو نہ ماننے والوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی، کوئی خارجی طاقت سسٹم کے درمیان کسی قسم کی مداخلت یا سبوتاژ میں کامیاب نہیں ہوسکی، یہ ملکی جمہوری نظام سے سیاسی رہنماؤں اور عوام کے اعتماد اور کمٹمنٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس میں سیاست دانوں کی جیت ہے۔

انقلاب فرانس کے حوالہ سے یاد رہے فرانسیسی عوام نے بھوک، بدحالی، اشرافیائی ظلم و جبر اور محرومیوں کے باعث تبدیلی کا طبل بجایا، حکمرانوں کے قلعے برباد کردیے، تخت گرائے، اور جابر سلطانوں کے سر قلم کیے مگر بیچ انقلاب میں انتشار بڑھا ، مقہور و مفلوک الحال عوام انقلاب کے ثمرات کے منتظر تھے کہ موقع پاکر وہاں بھی ایک نپولین نمودار ہوا جس نے اقتدار پر قبضہ کیا، لیکن وطن عزیز میں جمہوریت کو آج کوئی خطرہ نہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ جمہوریت آگے بڑھ رہی ہے یہ اچھی بات ہے، انھوں نے اس رائے کا اظہار تقریب حلف برداری میں صحافی کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ آپ جمہوری عمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟ آرمی چیف نے کہا کہ جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ ہے، سب دیکھ رہے ہیں اور مطمئن ہیں، ہر چیز ٹھیک جا رہی ہے، ادھر سپریم کورٹ نے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے درمیان ملاقات کی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاضل جج جسٹس کھوسہ کی تحریک انصاف کے چیئرمین سے کبھی ملاقات یا بات نہیں ہوئی۔ اگرچہ سیاسی سطح پر سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کے بعض بیانات سے ارتعاش پیدا ہوا ہے ، پی ٹی آئی سے الگ ہونے کے بعد رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی پریس کانفرنس بھی تہلکہ خیز رہی، اس سے قبل ناز بلوچ بھی تحریک انصاف سے الگ ہونے پر میڈیا سے بات کرچکی تھیں ،بہر کیف الزامات اور معروضات سے جمہوری ماحول کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، اختلافات کو جمہوری اور قانونی دائرے میں رہنا چاہیے۔

مسلمہ حقیقت ہے کہ جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہے، ملک میں اظہار رائے کی آزادی ہے ، مگر اس کے پیرامیٹرز کو فالو کرنا ناگزیر ہے، مثال کے طور پر وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے کہا ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں، شاہد خاقان عباسی سی پیک کو سمجھتے ہیں ، سول ملٹری لیڈر شپ سی پیک پر بھی ایک پیج پر ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عائشہ گلالئی کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں ۔ بلاشبہ کوئی جمہوریت مسائل اور اختلاف رائے سے بے نیاز نہیں رہ سکتی، نوبت بہتان و کردار کشی تک نہیں پہنچنی چاہیے۔ دراصل ہمیں جمہوریت کی کامیابی میں خود کو اپنا سب سے سخت ترین محتسب اور جج ثابت کرنا ہوگا۔ کسی کو قوم کے جمہوری انداز نظر، سلطانیٔ جمہور پر ایقان اور اس سے وابستہ تفاخر پر طعنہ زن ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، تاہم یہ اسی وقت ہوگا کہ ہم سب جمہوریت کے کارواں میں شریک ہونگے، اور ملکی مفاد میں اپنے سارے اختلافات بھلا کر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔

چیلنجز بے پناہ ہیں ، ہمیں پرامن ہمسائیگی کے بجائے کشیدگی کو طول دینے والے جارحیت پسند اور جنگجویانہ عزائم رکھنے والے بھارت سے محتاط اور خبردار رہنا ہے جب کہ خطے میں قومی سلامتی کے خلاف ایک عالمی کھچڑی پک رہی ہے جس کا ہدف بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرکے سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے، مگر پاک فوج کی عسکری صلاحیت ، دفاع کے لیے مستعدی اور وطن عزیز کی سرحدوں کے ہمہ وقتی تحفظ پر مامور سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے وہ اپنے مذموم منصوبہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

لیکن داخلی امن و امان ، قومی یکجہتی اور جمہوری طرز عمل کے ذریعے اراکین پارلیمنٹ ملک کو اس نئے جمہوری سفر کے لیے زیادہ توانا اور چاک وچوبند کرسکتے ہیں، جس کے لیے انھیں اپنے قول وفعل میں ہم آہنگی، خندہ پیشانی ، کشادہ دلی اور عوام دوست پالیسیاں بناکر اس غلط تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ ملکی سیاسی نظام مسلمہ جمہوری اقدار، بصیرتوں اور سیاسی خیر سگالی و کشادہ نظری سے خالی سیاسی منظرنامہ ہے ۔ وقت نے پرانی بساط کو جزوی طور پر لپیٹ دیا ہے، ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، نئے وزیراعظم کی قیادت میں سیاسی اور جمہوری سیٹ اپ نے کام شروع کردیا ہے لہٰذا قوم کو اس بات کا پختہ یقین ہونا چاہیے کہ سیاست سے تلخی ، بہتان طرازی ، الزام تراشی اور گالم گلوچ کا کلچر اپنے اختتام کو پہنچے گا ، سیاست دان دنیا پر واضح کردیں کہ پاکستان ایک اہم سیاسی حقیقت ہے اور دہشتگردی کے عالمی عفریت کے سامنے ملک کے 20 کروڑ عوام سینہ سپر ہیں اور رہیں گے۔