اقتصادی و سیاسی روڈ میپ کی ضرورت

عالمی منصوبوں اور طے شدہ معاہدوں کی عدم تکمیل سے ہماری بے اعتباریت کا گراف ہمیشہ بڑھتا گیا


Editorial August 04, 2017
نئے وزیراعظم کا جمہوریت کی کشتی کو ساحل مراد تک لانے کے لیے بریک تھرو کرنا لازمی ہے۔ فوٹو: فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق جمعرات سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم آفس میں اپنے فرائض منصبی سنبھال لیے ہیں، نئے سیٹ اپ کو اپنے سیاسی، انتظامی اقدامات، فوری فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی سمت کے تعین کے لیے انتہائی صبر آزما ٹاسک ملا ہے، یہ حقیقت میں ایک مینڈیٹری اوورز کا کھیل ہے جس میں خاقان انتظامیہ کو کم سے کم وقت میں اپنے ایجنڈہ اور روبہ عمل لائے جانے والے بیشتر اہم منصوبوں کی مقررہ وقت میں تکمیل کرنا ہو گی، اس لیے ان پر پریشر بے پناہ ہے تاہم جمہوری جذبہ، اشتراک عمل اور سیاسی دور اندیشی کو بروئے کار لایا جائے تو کوئی کام مشکل اور ناممکن نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کی محنت اور فوکسڈ انداز عمل کا ذکر سینئر مبصرین پہلے ہی کر چکے ہیں، حکومتی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے اولین مرحلہ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا تک یہ بات پہنچانا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم بدل سکتا ہے مگر پالیسیاں برقرار رہیں گی۔

بلاشبہ اس پیغام کو عالمی برادری اور دنیا کے معاملات پر حاوی بڑی طاقتوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ملکی سیاسی تاریخ یہی رہی ہے کہ حکومتوں کے رخصت ہوتے ہی پالیسیاں بھی طاق نسیاں ہو جاتی تھیں اور عالمی منصوبوں اور طے شدہ معاہدوں کی عدم تکمیل سے ہماری بے اعتباریت کا گراف ہمیشہ بڑھتا گیا، لہٰذا یہ خوش آیند عندیہ ہے جو وزیراعظم نے اپنے سفر کی ابتدا میں دیا ہے، چنانچہ توقع کی جانی چاہیے کہ اسی جذبہ کے ساتھ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے مکمل ہوں گے، وفاقی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے اہم مشاورت آخری مرحلہ میں ہے، این اے 120 میں الیکشن کے لیے امیدوار کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے ۔

بدھ کو مری میں مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا کہ نواز شریف نے ہدایت کی کہ حکومت کی پالیسیز جاری رکھی جائیں، بلاشبہ وزیراعظم کی نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے قیادت سے مشاورت ناگزیر تھی، کابینہ کی تشکیل اور حلف برداری میں تاخیر کی وجہ سیاسی اور حکومتی حلقوں کے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے آیندہ کے کردار کے تعین سے تھا، بتایا جاتا ہے کہ چوہدری نثار کو باضابطہ طور پر کابینہ میں شمولیت کا کہا جائے گا، جمعرات کو مری میں مسلم لیگ ن کا ایک اور مشاورتی اجلاس ہوا۔

بعض مبصرین کے مطابق شہباز شریف کے پنجاب میں وزیراعلیٰ برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ تاہم ان کے مرکز میں آنے یا صوبے میں رہنے کے مضمرات اور پلس و مائنس پوائنٹس پر سیاسی تجزیہ کاروں، اپوزیشن حلقوں اور حکمراں جماعت کے اکابرین میں بحث جاری ہے۔ وزیراعظم آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرینگے۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی جانب سے تیار کردہ الیکشن بل2017ء پیش کر دیا جائے گا، الیکشن بل2017ء کو رواں سیشن میں منظور کر لیا جائے گا۔ واضح رہے چھٹی قومی خانہ و مردم شماری کے ابتدائی نتائج موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث مؤخرکر دیے گئے جب کہ ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ کی جانب سے عہدہ سنبھالنے اور مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے انعقاد پر نتائج پیش کر دیے جائیں گے۔

ادھر شریف خاندان نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ آیندہ چند روز میں سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی جائے گی، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کوئٹہ میں شہدائے8 اگست کی یاد میں تعزیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے، ملک محاذ آرائی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا جب کہ خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مختصر مدت کے لیے ایک وزیر اعظم کو لانے کے بعد دوسرے وزیر اعظم کو لانا اچھی روایت نہیں ہو گی۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے مطابق ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا جا رہا ہے،اجلاس ان کی زیرصدارت ہوا جس میں گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے روپے کی قیمت میں کمی پر میڈیا کے سامنے بریفنگ دینے سے معذرت کی، ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجوہات کو پبلک نہیں کیا جا سکتا، اس سے کرنسی مارکیٹ میں افواہیں سرگرم ہو جاتی ہیں۔

دریں اثنا اچھی پیش رفت یہ ہوئی کہ وفاق نے فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں جاری 15 منصوبوں کے لیے 10 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنے منشور، عوام کو درپیش مسائل کے حل، جمہوری ریلیف اور کرپشن سے پاک انتظامی اقدامات کی رفتار تیز کرنی چاہیے، تاکہ کسی کو جمہوری تسلسل اور قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے بارے میں کسی قسم کو کوئی تشویش لاحق نہ ہو۔

ایک انگریزی روزنامہ نے ملکی معاشی صورتحال کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات، تجارتی خسارہ، گردشی قرضوں اور دیگر اقتصادی دھچکوں سے خبردار رہنے کا انتباہ دیاہے، ان سب امکانات اور خدشات کو سامنے رکھا جائے اور یہی روڈ میپ آیندہ نئی حکومت کے سامنے رہنا چاہیے۔ نئے وزیراعظم کا جمہوریت کی کشتی کو ساحل مراد تک لانے کے لیے بریک تھرو کرنا لازمی ہے۔