پاکستان کے بارے میں 70 سنہری حقائق (پانچویں قسط)

ایکسپریس اردو بلاگ  ہفتہ 5 اگست 2017
پاکستان کے حوالے سے ایسی مثبت باتیں جن کے بارے میں شاید آپ پہلے نہیں جانتے ہوں۔

پاکستان کے حوالے سے ایسی مثبت باتیں جن کے بارے میں شاید آپ پہلے نہیں جانتے ہوں۔

ایکسپریس اردو بلاگز کی جانب سے اپنے قارئین کے لیے یوم آزادی کے موقع پر خصوصی سلسلہ شروع کیا جارہا ہے جس میں 14 اگست تک روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اور پاکستانیوں کے سنہری حقائق / اعزازات پیش کیے جائیں گے۔ 


پاکستان کے بارے میں 70 سنہری حقائق (پہلی قسط)

پاکستان کے بارے میں 70 سنہری حقائق (دوسری قسط)

پاکستان کے بارے میں 70 سنہری حقائق (تیسری قسط)

پاکستان کے بارے میں 70 سنہری حقائق (چوتھی قسط)

کوئٹہ میں جبلِ نور القرآن

پاکستان کے خوبصورت شہر کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے قریب ایک چھوٹی پہاڑی کو’جبلِ نورالقرآن‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہاں سینکڑوں میٹر طویل سرنگیں کھود کر ضعیف اور ناقابلِ مطالعہ قرآن مجید کے لاکھوں نسخے احتیاط سے رکھے گئے ہیں۔ اِن قرآنی نسخوں کو صاف بوریوں میں رکھا گیا ہے اور اب بڑھتے بڑھتے اِن کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔ اِس کے علاوہ یہاں قدیم اور نایاب قرآن مجید کے نسخے بھی موجود ہے۔ جبلِ نورالقرآن میں 600 سال پرانے ایسے نایاب نسخے بھی موجود ہیں جنہیں بڑی توجہ اور مہارت سے ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے جبلِ نورالقرآن کے تمام انتظامات چند درد مند حضرات نے اپنے بل پوتے پر سنبھال رکھے ہیں۔ اِن حضرات میں حاجی مظفر علی اور عبدالصمد لہڑی سرِ فہرست ہیں۔

 

کوہستان آرک، پاکستان کا ارضیاتی عجوبہ

اگر آپ نے کبھی کوہستان آرک کا نام نہیں سنا تو ہم بتائے دیتے ہیں۔ پورے سیارہ زمین پر یہ واحد مقام ہے جہاں کرہ ارض کا اوپری حصہ قشر (کرسٹ) اور نچلا حصہ مینٹل باہم ملتا دکھائی دیتا ہے ورنہ عام حالات میں یہ سینکڑوں کلومیٹر نیچے ہوتا ہے۔

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پروفیسر اولیور جیگوز نے کوہستان آرک پر تحقیق کی ہے۔ ماہرین کے مطابق خود کوہستان آرک کا مطالعہ نہ صرف زمینی ارتقاء کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اِس پر تحقیق سے نظامِ شمسی کے سیاروں کی پیدائش اور ظہور کو جاننے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ مندرجہ ذیل تصویر میں اولیور جیگوز کوہستان آرک کے پاس موجود ہیں۔

 

بدر اول پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ

پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارچہ (سیٹلائٹ) بدر اول 16 جولائی 1990ء کو خلا میں روانہ کرکے مصنوعی سیارچہ بنانے والے پہلے اسلامی ملک کا اعزاز حاصل کیا۔ بدر اول ایک چھوٹا تجرباتی سیٹلائٹ تھا جس کا مقصد پاکستانی سائنسدانوں اور انجینیئروں کے تجربے اور خود اعتمادی میں اضافہ کرنا تھا۔ اِس سیٹلائٹ کو وائس اور ڈیٹا کمیونکیشن کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اِس کا وزن 52 کلو گرام تھا اور اِسے چینی راکٹ لانگ مارچ ٹو ای (2E) کے ذریعے نچلے زمینی مدار (لو ارتھ آربٹ) میں بھیجا گیا تھا۔

 

 

 

بلوچی تھیریم، سب سے بڑا زمینی ممالیہ

بلوچی تھیریم دو لفظوں سے مل کر بنا ہے؛ بلوچی بلوچستان کا مختصر نام اور تھیریم کے معنی درندے کے ہیں۔ یہ جانور کروڑوں سال پہلے بلوچستان میں موجود تھا اور اِسے زمین کا سب سے بڑا ممالیہ کہا جاتا ہے۔

انگریز ماہرِ ارضیات و معدومیات سر کلائیو فورسٹر کوپر نے 1910ء میں پہلے اِس کی بعض ہڈیاں دریافت کی تھیں۔ پھر 1990ء کے عشرے میں فرانس کے مشہور ماہرِ معدومیات اور حیوانیات ڈاکٹر جین لوپ ویلکم نے کئی ماہ کی محنت اور کھوج کے بعد اِس عظیم الجثہ جاندار کی مکمل لیکن ایک سے زائد جانوروں کا کمپوزٹ ڈھانچہ دریافت کرلیا۔

اب سے ڈھائی سے ساڑھے تین کروڑ سال قبل بلوچی تھیریم ڈیرہ بگٹی کی اطراف بکثرت پائے جاتے تھے اور یہ علاقہ ایک گھنے جنگل جیسا تھا۔ ایک بالغ بلوچی تھیریم 5 میٹر اونچا اور 20 ٹن وزنی تھا یعنی آج کے پانچ ہاتھیوں سے زائد وزنی جانور تھا۔

 

ایک منٹ میں 5 بھارتی جنگی جہاز تباہ کرنے والے ایم ایم عالم

اسکواڈرن لیڈرمحمد محمود عالم (ایم ایم عالم) پاک فضائیہ کے لڑاکا ہوا باز تھے۔ انہوں نے 1953ء میں پاک فضائیہ میں کمیشن لیا اور ملک کے دفاع میں بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کیا۔ ایم ایم عالم کو 1965ء کی جنگ کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے پانچ ہنٹر جنگی طیارے مار گرانے کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔ ایم ایم عالم کی بہادری کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہ جرات سے نوازا تھا جبکہ ایم ایم عالم کا یہ کارنامہ ناصرف پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک سنہرا باب ہے بلکہ جنگی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک ریکارڈ بھی ہے۔ قوم کے یہ جانباز اور بہادر سپاہی 1982ء میں ایئر کموڈور کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اگرچہ یہ بہادر سپاہی 18 مارچ 2013ء کو جہان فانی سے کوچ کرگئے لیکن رہتی دنیا تک دشمن کے دلوں میں دھاک بٹھا گئے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔