نئی بھاری بھرکم وفاقی کابینہ

کشیدگی اور محاذ آرائی ملکی مفاد میں نہیں، نئی کابینہ بہار کا ایک خوشگوار جھونکا ہے


Editorial August 05, 2017
کشیدگی اور محاذ آرائی ملکی مفاد میں نہیں، نئی کابینہ بہار کا ایک خوشگوار جھونکا ہے . فوٹو : پی آئی ڈی

ایوان صدر میں نئی وفاقی کابینہ کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی جس میں صدر مملکت ممنون حسین نے وفاقی کابینہ سے عہدوں کا حلف لیا۔ مبصرین نے وفاقی کابینہ کے غیر معمولی حجم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی کابینہ میں 20 وفاقی وزرا اور9 وزیرمملکت تھے جب کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے ارکان کی تعداد 47 ہے جن میں 28 وفاقی وزرا اور 19 وزیر مملکت ہیں جن میں سے 4 ارکان حلف نہیں لے سکے ، چوہدری نثار اپنے پیشگی اعلان کے مطابق فاصلے پر رہے اور ان کی کابینہ میں عدم شمولیت سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند ہوگیا، میڈیا کے مطابق موجودہ کابینہ میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزرا کی تعداد 8 ہے جن میں سے 3 مسلم لیگ ( ن ) کی گزشتہ کابینہ میں بھی شامل تھے ۔تاہم ٹیکسٹائل کی الگ وزارت ختم کرکے اسے تجارت کے ساتھ منسلک کرنے، پوسٹل سروسز کو مواصلات سے الگ کرکے علیحدہ وزارت بنانے، وزارت پانی و بجلی کو بھی 2 حصوں میں تقسیم کرنے جب کہ پٹرولیم اور توانائی کو ملا کر نئی وزارت توانائی بنانے کے فیصلہ کو صائب قراردیا جاسکتا ہے ان وزارتوں کے انضمام یا رد وبدل سے ملکی معیشت کو سہارا ملنا چاہیے جب کہ لوڈ شیڈنگ کی شدت میں نمایاں کمی اور برآمدات میں اضافہ کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ وزرا کارکردگی میں پیش رفت کر کے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کریں ۔ وفاقی کابینہ جن وزرا پر مشتمل ہے ان میں خواجہ آصف وزیر خارجہ ، اسحاق ڈار وزیر خزانہ، خرم دستگیر وزیر دفاع ، احسن اقبال وزیر داخلہ، خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے ، مشاہد اللہ خان وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی، سردار محمد یوسف وفاقی وزیر مذہبی اْمور، سینیٹر صلاح الدین ترمذی اینٹی نارکوٹکس کے وفاقی وزیر، سید جاوید علی شاہ وفاقی وزیر برائے آبی ذرایع، عبدالقادر بلوچ وزیر سیفران جب کہ پچھلی حکومت کے 2 وزرائے مملکت سائرہ افضل تارڑ اور میاں بلیغ الرحمان کو وفاقی وزیر بناتے ہوئے صحت اور تعلیم کے قلمدان سونپے گئے ہیں، اس کے علاوہ دیگر وفاقی وزرا میں رانا تنویر، سکندر حیات بوسن، پیر صدرالدین، شیخ آفتاب ، کامران مائیکل، مرتضیٰ جتوئی، ریاض پیرزادہ، برجیس طاہر، زاہد حامد اور حاصل بزنجو شامل ہیں ، پلاننگ ڈویژن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ماتحت رہے گا ، پٹرولیم اور توانائی کو ملا کر نئی وزارت توانائی بنادی گئی ہے جس کے انچارج وزیر مملکت عابد شیرعلی مقرر کیے گئے ہیں۔

طلال چوہدری وزیر مملکت برائے داخلہ، مریم اورنگزیب انچارج وزیر مملکت برائے اطلاعات مقرر ہوئی ہیں، پرویز ملک وزیر مملکت برائے تجارت، طارق فضل چوہدری وزیر مملکت کیڈ، دانیال عزیز وزیرمملکت برائے امور کشمیرجب کہ عثمان ابراہیم وزیر مملکت برائے قانون مقرر ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ انوشہ رحمان ، جام کمال، پیر امین الحسنات، جنید انور چوہدری، محسن شاہ نوازرانجھا اور عبدالرحمان کانجو بھی وزیر مملکت بن گئے ہیں۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی کابینہ زیادہ سے زیادہ 49 وزرا پر مشتمل ہوسکتی ہے ۔ تاہم پیداشدہ صورتحال میں وزرا کی گنتی نہیں ان کی مجموعی کارکردگی اور ملکی سیاست، معیشت، عالمی برادری میں وطن عزیز کے سافٹ امیج اور داخلی و خارجی محاذ پر جمہوریت کی صائب اور غیر مشروط پیش قدمی اہمیت رکھتی ہے، وفاقی کابینہ کو تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے جمہوریت کے قافلہ کو آگے لے جانا ہے ، بدقسمتی سے جمہوریت سے منسلک عوامی ثمرات یا ریلیف کے حوالہ سے پچھلی حکومتوں نے بعض بنیادی شعبوں اور عوام کو درپیش مصائب و مشکلات کے مکمل ازالے اور اداروں کے مابین خیرسگالی، شفافیت اور تعلقات کار کی مثالی صورتگری میں کوئی بریک تھرو نہیں کیا ، اداروں کے مابین کشمکش سے تباہی مچی، چنانچہ کئی ماہ و سال مسلسل بداعتمادی، ہڑتالوں ،دھرنوں، شکوے شکایات اور ایک دوسرے کو نیچے گرانے میں گزر گئے ، عوام کی مایوسی بڑھتی گئی، شہروں میں دہشتگردی نے دم توڑا مگر اسٹریٹ کرائم نے شہریوں کا جینا محال کیا ، بدانتظامی اور کرپشن نے رہی سہی کسر پوری کردی۔

اب آنکھیں کھولنے کا وقت ہے، کشیدگی اور محاذ آرائی ملکی مفاد میں نہیں، نئی کابینہ بہار کا ایک خوشگوار جھونکا ہے، ملک کو ہر قسم کی بے یقینی کے دلدل سے نکالنا وفاقی کابینہ کے لیے سب سے اہم چیلنج ہے، جمہوری تسلسل جاری جب کہ اداروں کے مابین آئینی توازن خوشدلانہ انداز میں برقرار رہنا چاہیے ۔ شاہد خاقان عباسی کی ٹیم کو ایک بڑی آزمائش کا سامنا ہے، میڈیا اس کی بے رحم محتسب ہے، لہٰذا پھونک پھونک کر قدم اٹھائے، ہر قدم پیش رفت سے عبارت ہو، پارلیمنٹ کی بالادستی ظاہر ہو، ملکی معیشت ، جمہوری اقدار اور عوام کے بنیادی حقوق کی بازیافت کو یقینی بنایا جائے، سستے انصاف کی فراہمی، مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور جرائم کے خاتمہ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان اصولی اشتراک عمل ہونا چاہیے، حکومت کے پاس دستیاب وقت بہت ضایع ہوا ہے، نان ایشوز میں غیر ضروری دلچسپی اور سیاسی کشمکش نے جمہوری اداروں اور حکومت کو اہداف سے لاتعلق کردیا ،اب اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون سے عوام کو جینے کا حق ملے، جمہوریت کے حقیقی ثمرات عوام کی دہلیزپر ملیں ، ایک اہم کام انتخابی اصلاحات کو حتمی شکل دینے کی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ وعدہ کہ سی پیک کی جلد تکمیل کے لیے وہ خود اس کی نگرانی کریں گے شرمندہ تعبیر ہونے کا منتظر رہے گا۔