افغانستان میں داعش کی موجودگی

پاکستان نے بھارت کو باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے بارہا مذاکرات کی دعوت دی


Editorial August 05, 2017
پاکستان نے بھارت کو باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے بارہا مذاکرات کی دعوت دی ۔ فوٹو: فائل

ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا نے معمول کی ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی پاکستان کے لیے خطرہ ہے، داعش اور منشیات و انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثرسرحدی انتظام ضروری ہے، ایسا سرحدی انتظام چاہتے ہیں جہاں عوامی، تجارتی اور راہداری سہولیات حاصل ہوں، بھارت خود دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، بھارتی بے بنیاد الزامات اپنے دہشتگردی سے رنگے ہاتھ چھپانے کی کوشش ہے، بھارت نے خود پاکستان میںدہشتگردی کو فروغ دیا اور دہشتگرد سرگرمیوں کو مدد فراہم کی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، بھارت تحریک آزادی کو دہشتگردی قراردینے کی کوشش کررہا ہے جسے عالمی برادری مسترد کرچکی ہے، کشمیر کی مقامی تحریک کو دہشتگردی کا رنگ دینے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کشمیریوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو خونریزی سے روکے۔ ترجمان نے کہا افغانستان میں دہشتگرد حملوں اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے، ہم افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، افغانستان میں امن لانے کے ہر عمل میں شریک رہے ہیں، پاکستان کے لیے افغانستان کی انتہائی اہمیت ہے، افغان امن کے لیے ہر قسم اور ہر طرح سے اپنی ذمے داریاں نبھائیں، سرحد کے دونوں جانب دہشتگردی کے خلاف مربوط کارروائی اور مکمل امن کے لیے کوشاں ہیں۔

داعش عراق' شام اور یمن کے بعد افغانستان میں بڑی سرعت سے اپنے پاؤں جما رہی ہے' پاکستانی حکومت ایک عرصے سے پوری دنیا کی توجہ اس خطرے کی جانب مرکوز کرنے کے لیے کوشاں ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی پورے خطے کی سلامتی ، سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا اس عفریت کو مزید پروان چڑھنے اور استحکام پکڑنے سے قبل ہی ختم کر دیا جائے مگر ابھی تک اس جانب عالمی سطح پر مہر خاموشی کی کیفیت ہے۔ اب ایک بار پھر پاکستان نے افغانستان میں داعش کے اس خطرے سے پوری دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے آواز بلند کی ہے۔ افغانستان میں بڑھتا ہوا عدم استحکام داعش کے نمو کا باعث بن رہا ہے' افغانستان میں جب بھی کوئی دہشت گردی کی کارروائی رونما ہوتی ہے تو افغان حکومت اسے اپنی داخلی کمزوری سے محمول کرنے کے بجائے اس کا الزام بلا تصدیق پاکستان پر عائد کر دیتی ہے۔

جب تک افغانستان میں استحکام پیدا نہیں ہوتا تب تک دہشت گرد گروہوں پر قابو پانا ایک مشکل امر ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کی موجودگی کے باوجود افغانستان امن و امان کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کی خاطر چار فریقی رابطہ گروپ کی حمایت کی جس کا میکنزم اب بھی موجود ہے مگر غیر فعال ہونے کے باعث امن و امان کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کا تعلق ہے تو عالمی دنیا وہاں ہونے والی ریاستی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی اس کی اسی بے حسی اور بے اعتنائی نے بھارتی مظالم اور تشدد کی کارروائیوں کو مہمیز کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہیں، چند روز کے اندر مزید 8کشمیریوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کیا جا چکا ہے' بھارتی فوج پیلٹ گن کے علاوہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے بھی گریز نہیں کر رہی۔ پاکستان بارہا عالمی دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرا چکا ہے کہ بھارت جموں وکشمیر میں مسلم نسل کشی کے ذریعے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے لیکن عالمی دنیا نے اب تک پاکستان کے اس توجہ دلاؤ نوٹس کا کوئی موثر جواب نہیں دیا اور بھارت کی معمولی سطح پر بھی مذمت نہیں کی گئی۔

پاکستان نے بھارت کو باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے بارہا مذاکرات کی دعوت دی لیکن اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں بھارت کے ساتھ نہ صرف تعلقات مزید خراب ہوئے بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا اور انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزیاں سامنے آئیں جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جہاں تک داعش' منشیات اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کا معاملہ ہے تو پاکستان کو اپنی داخلی سیکیورٹی کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سرحدی انتظامات بھی موثر بنانے ہوں گے کیونکہ پاکستان کے اندر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں مگر انتظامی کمزوریوں کے باعث ان پر قابو پانے میں مشکلات درپیش ہیں۔