ٹرانسپورٹ منصوبہ ایشیائی بینک نے 400ملین ڈالرکاقرضہ منسوخ کیا

سرکاری حکام کو تکنیکی اورفنی امورمیں مہارت نہ ہونے پرناکامی کا منہ دیکھنا پڑا


Staff Reporter February 12, 2013
اس منصوبے کے ذریعے 20ہزار مسافروں کو فی گھنٹہ سہولیات دی جانی تھی فوٹو: اے ایف پی/ فائل

سندھ حکومت میں شامل جماعتوں کی عاقبت نااندیشی کے باعث ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2011میں کراچی کیلیے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم سمیت میگا ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلیے 400 ملین یوایس ڈالرکا قرضہ منسوخ کردیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق اکتوبر 2008 میںصوبائی حکومت نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ( ایس ایم ٹی اے )کا قیام عمل میں لاکر سابق شہری حکومت کراچی کے ٹرانسپورٹ سے متعلق تمام میگا منصوبے متعلقہ اتھارٹی کے سپرد کردیے، تکنیکی اور فنی امور میں مہارت نہ ہونے کے باعث ایشیائی ترقیاتی بینک کو ایس ایم ٹی اے سے بات چیت میں شدید دشواریاں پیش آئیں۔



جس کے باعث پہلے مرحلے میں بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے تین کوریڈورز اور اسٹیڈیز آف کراچی لائٹ ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلیے مختص قرضہ التوا میں ڈال دیا گیا ، بعدازاں صوبائی حکومت نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو تحلیل کردیا اور میگا منصوبے دوبارہ شہری حکومت کراچی کے سپرد کردیے تاہم ایشیائی ترقیاتی بینک کا اعتماد دوبارہ حاصل نہ کیا جاسکا اور بلاآخر 2011میں یہ قرضہ منسوخ کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بی آرٹی ایس کیلیے 223 ملین یوایس ڈالر مختص کیے تھے تاکہ تین ترجیحی کوریڈورز پر تعمیرات مکمل کرکے کراچی کے شہریوں کو سستی اور آرام دہ سہولیات پہنچائی جاسکے،اس منصوبے کے ذریعے 20ہزار مسافروں کو فی گھنٹہ سہولیات دی جانی تھی ۔