اسپاٹ فکسنگ؛ خالد لطیف کا ٹریبیونل کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

اسپورٹس رپورٹر  منگل 8 اگست 2017
قواعد وضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ہمیں کیس لڑنے کیلیے پورا موقع نہیں دیا گیا، وکیل خالد لطیف ۔ فوٹو: فائل

قواعد وضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ہمیں کیس لڑنے کیلیے پورا موقع نہیں دیا گیا، وکیل خالد لطیف ۔ فوٹو: فائل

 لاہور: اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل کرکٹر خالد لطیف نے ٹریبیونل کے سامنے حتمی تحریری دلائل جمع کروانے کی بجائے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبیونل کی جانب سے حتمی دستاویزات جمع کروانے کی آخری تاریخ 9 اگست کو پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ایک دو روز میں پی سی بی اور ٹریبیونل کے خلاف قانونی اقدامات اور ان کے دائرہ اختیار کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :خالد لطیف کے ایک بار پھر ٹریبیونل پر اعتراضات

وکیل بدر عالم کا کہنا تھا کہ قواعد وضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، ہمیں کیس لڑنے کیلیے پورا موقع نہیں دیا گیا، ٹریبیونل میں سماعت کے دوران بدسلوکی کی گئی اور ہراساں کیا گیا۔ بدسلوکی کرنے والوں کی نشاندہی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی کا نام نہیں لیں گے تاہم 19 مئی کی کارروائی کی وڈیو ریکارڈنگ دیکھنے سے سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خالد لطیف کی جانب سے پی سی بی اور اینٹی کرپشن ٹریبیونل کے دائرہ اختیار کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں 2 درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔