ٹرمپ افغان جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں امریکی وزیر خارجہ

اجلاس میں مشیروں سے حکمت عملی سے متعلق سخت سوالات پوچھے، ٹیم پورے خطے کے لیے آپشنزپرغورکر رہی ہے، ریکس ٹلرسن


News Agencies August 09, 2017
افغان طالبان، جنگجوؤں کی صرائے پل واقعے میں ملوث ہونے کی تردید،سعودی سفارتکارکے بیان کی شدید مذمت۔ فوٹو: نیٹ

ISLAMABAD: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے افغانستان کے لیے امریکی حکمت عملی سے متعلق سخت سوالات پوچھے ہیں امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ صدر ٹرمپ افغانستان کے معاملے میں ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل نہیں چاہتے۔

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے افغانستان کے لیے امریکی مشن سے متعلق واشنگٹن انتظامیہ کے مشیروں سے سخت ترین سوالات کیے ہیں، ٹلرسن کے مطابق ٹرمپ نہیں چاہتے کہ جو افغانستان میں ہوتا چلا آیا ہے۔ وہ ہوتا رہے وہ افغان جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، وائٹ ہاؤس نے افغانستان میں امریکی عسکری مداخلت کے 16 برس گزر جانے کے بعد اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کا منصوبہ بنایا ہے تاہم خبریں عام ہیں کہ صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم اس معاملے پر منقسم ہے کہ وہاں مزید فوجی دستے بھیجے جائیں یا تمام فوج نکال لی جائے۔

منیلا میں علاقائی سلامتی فورم میں شرکت کے موقع پر ٹلرسن نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے خود صدر ٹرمپ کوکیا مشورہ دیاہے، تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ ٹرمپ افغانستان میںجاری لڑائی سے انتہائی ناخوش ہیں، صدر اس صورتحال کو مزید قبول کرنے کو تیارنہیں، اس لیے انھوں نے اس سے متعلق سخت سوالات کیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ صدر کی قومی سلامتی کونسل اس موضوع پر تین مرتبہ مل چکی ہے جبکہ موجودہ حکمتِ عملی پر نظرثانی کے معاملے میں نائب صدر مائیک پینس بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔

ٹلرسن کا کہنا تھاکہ صدر ٹرمپ کے سوالات انتہائی اہم ہیں اور ماضی میں کوئی بھی اس طرح اس بارے میں بات کرنے کوتیارنہیںتھا، ٹلرسن نے بتایاکہ اس لیے ہم صدر کے سوالات کے تفصیلی اور بہتر جوابات دینا چاہتے ہیںاوراس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینا چاہتے ہیں، تاکہ مستقبل ویسا ہو، جیسا ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان کیلیے حکمت عملی ترتیب دینے والی ٹیم پورے خطے کے لیے آپشنز پر غور کر رہی ہے، مذکورہ ٹیم وائٹ ہاؤس اور کانگریس انتظامیہ کے درمیان جاری تنا ؤکی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے مکمل آپشن پر غور کرنے کے لیے قومی سلامتی کونسل کے 3اجلاس منعقد کیے اور جب بھی ہم نے تمام آپشنز کی بات کی تو اس کا مطلب پورا خطہ (پاک، افغان خطہ) ہے، اس منصوبے پر کام کرنے والی وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو رواں برس جون میں نئی حکمت عملی کا اعلان کرنا تھا، لیکن بعد میں اس اعلان کی تاریخ جولائی اور پھر مزید بڑھا کر ستمبر میں کر دی گئی۔

دوسری جانب طالبان نے صرائے پل میں افغان شہریوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے اورداعش کے ساتھ کام کرنے کی سختی سے تردید کی ہے، عرب، ترک اور پاکستانی نہیں صرف ازبک مجاہد ہمارے ساتھ شامل ہیں، افغان طالبان نے کابل میں ایک سعودی سفارتکار کی جانب سے طالبان تحریک کو دہشتگرد قرار دینے کے بیان کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں