جی ایس پی پلس سے استفادے کیلیے ریکس میں 809 فرمز رجسٹرڈ

کراچی سے تعلق رکھنے والی برآمدکنندہ کمپنیوں کی تعداد285 ہے،کنسلٹنٹ کمال شہریار


Ehtisham Mufti August 11, 2017
ٹی ایم اے میں ٹی ڈیپ کے اشتراک سے ’’ریکس‘‘ آگہی مہم کے تحت سیمینارمیں پریزنٹیشن۔ فوٹو : فائل

یورپین یونین کے جی ایس پی پلس سے استفادے کے لیے متعارف کردہ ''ریکس'' سسٹم میں مختلف شعبوں کی مجموعی طور پر 809 برآمدکنندہ کمپنیوں نے رجسٹریشن کرالی ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے برآمدکنندہ کمپنیوں کی تعداد285 ہے۔

ٹاول مینوفیکچررزایسوسی ایشن آف پاکستان میں جمعرات کو ٹی ڈی اے پی کی اشتراک سے ''ریکس'' آگہی مہم کے تحت منعقدہ سیمینار کنسلٹنٹ کمال شہریار نے برآمدکنندگان کو ریکس سسٹم سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ یورپین یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس اسکیم سے استفادہ کرنے والے ممالک کے برآمدکنندگان کو سرٹیفکیٹ آف اوریجن کے لیے''ریکس'' خود کارنظام متعارف کرایا گیا ہے کیونکہ رجسٹرڈ ایکسپورٹر ریکس سسٹم یورپین یونین کی جی ایس پی پلس کی ترجیحی ٹیرف پالیسی کے تحت برآمدات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سسٹم کے توسط سے پاکستانی برآمدکنندگان کویہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ریکس یورپین یونین ڈیٹابیس میں رجسٹریشن کے بعد ازخوداپنے برآمدی کنسائمنٹس کی سرٹیفکیٹ آف اوریجن جاری کرسکیں۔

کمال شہریار نے بتایا کہ پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دسمبر2017 کے اختتام تک مکمل طور پر ریکس سسٹم میں منتقل ہوجائے۔ ریکس سسٹم میں رجسٹریشن کے ساتھ ہی پاکستانی برآمدکنندگان ازخود ہی اسٹیٹمنٹ آف اوریجن جاری کرسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئے نظام کے متعارف ہونے سے ٹی ڈی اے پی کا مینوئل سرٹیفکیشن آف اوریجن کا نظام دسمبر2017 میں ختم ہوجائے گا جس کے بعد کوئی بھی برآمدکنندہ تصدیق شدہ انوائس یادیگرتجارتی دستاویزات ظاہرکرکے ٹی ڈی اے پی کے ذریعے سرٹیفکیٹ آف اوریجن حاصل نہیں کرسکے گا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ڈی اے پی کے ڈپٹی ڈائریکٹرجی ایس پی پلس کلیم اللہ نے کہا کہ برآمدکنندگان کی ریکس سسٹم میں رجسٹریشن کا طریقہ کارانتہائی آسان ہے لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ اپنی برآمدات کا حجم بڑھانے اور جی ایس پی پلس اسکیم سے مکمل استفادے کے لیے فی الفورریکس سسٹم سے منسلک ہوں۔

کنسلٹنٹ کمال شہریار نے بتایا کہ ٹی ڈی اے پی نے برآمدکنندگان میں ریکس سسٹم سے متعلق آگہی کا ایک وسیع البنیاد پلان ترتیب دیا ہے جس کے تحت جمعرات کو ٹی ایم اے ہاؤس میں منعقدہ ہونے والا یہ آٹھواں سیمینار ہے۔ اس سے قبل سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، لاہور میں بھی سیمینار منعقد کیے جاچکے ہیں جبکہ آئندہ ہفتے لاہورمیں دومزید سیمینارمنعقد کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں