میمو گیٹ حسین حقانی کو پاکستان آمد پر مکمل سیکیورٹی دینے کا حکم

سیکریٹری داخلہ کی عدم حاضری پرسپریم کورٹ کا اظہار برہمی، اٹارنی جنرل اور عاصمہ جہانگیر سے مشاورت کے بعد حکم جاری کیا.


INP February 13, 2013
عاصمہ جہانگیر کوآئی جی پولیس اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کے ساتھ سیکیورٹی کے مشاورتی عمل میں شریک ہونے کی بھی ہدایت۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل کیس کی سماعت کے دوران حسین حقانی کی پاکستان آمد پر انھیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ حسین حقانی کو پاکستان آمد، قیام اور واپسی تک مکمل سیکیورٹی دی جائے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم اٹارنی جنرل عرفان قادر اور حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر سے مشاورت کے بعد دیا۔عدالت نے کیس کی سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی ۔ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے8 رکنی لارجر بینچ نے میمو گیٹ اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔ سیکریٹری داخلہ کی عدم حاضری پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ساڑھے 11 بجے پیش ہونے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ کو حسین حقانی کی پاکستان میں سیکیورٹی سے متعلق بریفنگ کیلیے منگل کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے۔

10

حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ کی طرف سے ایک خط ملا ہے، جس میں پوچھا گیا ہے کہ حسین حقانی کب پاکستان آئیں گے۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کی حاضری کا انتظار کیے بغیر اٹارنی جنرل اور عاصمہ جہانگیر سے مشاورت کے بعد حکم جاری کیا کہ حسین حقانی کی پاکستان آمد، قیام اور واپسی تک انھیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر، آئی جی پولیس اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کے ساتھ سیکیورٹی کے مشاورتی عمل میں شریک ہوں۔ چیف جسٹس نے عاصمہ جہانگیر سے استفسار کیاکہ آپ بتائیں کیس کی سماعت کب تک ملتوی کی جائے، اس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ الیکشن کے بعد کی کوئی تاریخ دے دیں، انتخابات ہونے والے ہیں، وزارت داخلہ مصروف ہے۔