سندھ میں مفت و لازمی تعلیم کا بل منظوری کیلیے آج پیش ہوگا

منظوری کے بعد 5 سے 16 سال کے بچے مستفید ہونگے، پیر مظہر کی زیرصدارت اجلاس


Staff Reporter February 13, 2013
مختلف امور پر تبادلہ خیال، ترقیاتی منصوبوں میں متعلقہ افسران کی غفلت پر اظہار برہمی۔ فوٹو: فائل

صوبائی وزیرتعلیم پیر مظہرالحق نے کہا ہے کہ بدھ کوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں 5 سال سے لے کر16 سال کے بچوں کی مفت و لازمی تعلیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ بات انھوں نے منگل کو اپنی زیر صدارت منعقدہ ای کاجلاس میں بتائی۔ اجلاس میں سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو، اسپیشل سیکریٹریز سجاد حسین عباسی، سید شرف علی شاہ، ایڈیشنل سیکریٹری اکیڈمک اینڈ ٹریننگ شہناز مظہر، وزیر تعلیم کے کنسلٹنٹ ظفرجاوید ہاشمانی ،پی ڈی سیڈا ڈاکٹر زبیر شیخ ، چیف پروگرام مینیجر آر ایس یو پرویز احمد سیہڑ، ڈی جی کالجز ڈاکٹر ناصر انصار، ڈائریکٹر نان فارمل ایجوکیشن ساگر سمیجوسمیت تمام ایڈیشنل و ڈپٹی سیکریٹریزتعلیم، تمام ریجن کے ڈائریکٹر اسکولز ریجنل ڈائریکٹر کالجز و دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔

12

اجلاس میں سینیئر وزیر کو وزیراعلیٰ سندھ کے احکام سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفگ بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ نئی اور رواں ڈی پی ڈیولپمنٹ اسکیموں، مفت درسی کتب کی تقسیم، نصاب پر نظر ثانی کرنے سمیت دیگر معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں آرٹیکل25 اے کے تحت مفت و لازمی تعلیم کی فراہمی کے بارے میں لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے بھی خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر تعلیم نے محکمہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں میں افسران کی جانب سے سست رفتاری و غفلت برتنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کے احکام جاری کیے۔

انھوں نے بتایا کہ میں نے جب سے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالا تو محکمہ تعلیم کی جانب سے پہلی بریفنگ جس میں عالمی بینک اور یورپی یونین کے نمائندگان بھی موجود تھے، بتایا گیا کے سندھ میں 7700 اسکول بند ہیں۔ ہم نے ان اسکولوں کو کھلوانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا اور میں نے خود سندھ کے دوردراز کے علاقوں کا اچانک دورہ کیا۔ 4200سے زائد بند اسکولوں میں دوبارہ تدریسی عمل بحال کرایا اور اس دوران 1100گھوسٹ اسکول بھی پکڑے جن پر وڈیروں کے قبضے تھے۔

مقبول خبریں