حقانی کہانی جاری ہے
لاہور کا ایک صحافی جس کا پاکستانی آبائی تعلق کراچی سے تھا سفارت کی اسناد بغل میں دبا کر واشنگٹن جاپہنچا۔
ایک بے چین اور ہر وقت کی بے قرار روح کراچی سے لاہور آئی تو ہمارا اس سے پہلا تعارف ہوا۔ بڑا ہی تیز و طرار اور نچلا بیٹھنے سے ہمیشہ منکر۔ شہرت تو کراچی میں بھی بہت تھی طلبہ کے حلقے میں قبولیت عام کی خبریں کبھی لاہور بھی پہنچ جاتی تھیں۔ پھر ایک دن لاہور میں اس سے ملاقات بھی ہو گئی اور پتہ چلا کہ یہی وہ حسین حقانی ہے لاہور والے جس سے ملنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد اس نوجوان صحافی کے ساتھ کام بھی کیا اور دوستی بھی کی۔ ان دنوں وہ مشرق بعید کے ایک معروف انگریزی ہفت روزہ کی نمایندگی کرتا تھا۔ پھر بڑی ہی کم مدت میں حقانی صحافت اور سیاست دونوں شعبوں میں نامور ہوا۔ اس کی تیز رفتار اور بھرپور نیم سیاسی سرگرمیوں کو کسی نے پسند کیا اور کسی نے ناپسند لیکن ہر حال میں اس کی ذہانت کی جھلک بہت نمایاں رہی۔
یہ اردو بولنے والا لاہور کے لیے اجنبی تھا لیکن اس کی تیز رفتار نقل و حرکت اور میل جول نے اسے زندگی کے مختلف شعبوں میں بہت معروف اور بڑی حد تک مقبول بھی بنا دیا۔ لاہور میں چونکہ لسانی تعصب نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اب تو لاہور کے گھروں میں بچوں سے اردو بولی جاتی ہے۔ میں بچوں کو ڈانٹتا ہوں کہ وہ گھر میں تو آپس میں اپنے گائوں وادی سون کی زبان بولا کریں لیکن وہ یہ زبان بول نہیں پاتے البتہ سمجھتے ہیں اور جب چھٹیوں میں گائوں جاتے ہیں تو انھیں زیادہ دقت نہیں ہوتی۔
میں عرض یہ کر رہا تھا کہ کراچی کا اردو اسپیکنگ حقانی پنجابی بولے بغیر ہی بہت جلد لاہوری بن گیا۔ لاہور ایک بے تکلف اور کھلا شہر ہے اور نسل اور زبان میں الجھتا نہیں ہے اگرچہ منیر نیازی جو لاہوری نہیں تھے مگر لاہوری بن گئے تھے یہ کہا کرتے تھے کہ لاہور اپنے ہاں آنے والوں کو دیکھ بھال کر قبول کرتا ہے یہ نہیں کہ جس کا جی چاہے منہ اٹھا کر چلا آئے اور اس شہر میں رہائش اختیار کر کے لاہوری بن جائے۔ حقانی کو لاہور نے بخوشی قبول کر لیا اور یہ لاہوری بن گیا چونکہ یہ شہر فاتحوں، مہمانوں اور مسافروں کو کھلی بانہوں سے قبول کرتا ہے اس لیے لاہور میں مقیم حقانی ہمیشہ لاہوری بن کر رہا اور سیاسی کشمکش جہاں بھی ہوئی اس میں کسی نہ کسی طرف سے حقانی بھی سیاستدان نہ ہونے کے باوجود دخیل رہا۔
حسین حقانی کی عام شہرت اور ذہانت کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی لیکن اس بار یہ حکومت حقانی کے پرانے 'کرمفرمائوں' کی نہیں نئے لوگوں کی تھی جناب آصف علی زرداری کی حکومت۔ اسی حکومت میں جب ایک بار امریکا میں سفارت کا مسئلہ پیدا ہوا اور اسلام آباد کے ایوانوں اور راہداریوں میں امیدواروں کا خوب گھمسان کا رن پڑا تو اس مقابلے میں حسین حقانی فاتح ٹھہرا ۔ یوں لاہور کا ایک صحافی جس کا پاکستانی آبائی تعلق کراچی سے تھا سفارت کی اسناد بغل میں دبا کر واشنگٹن جاپہنچا۔ دنیا کی واحد سپر پاور میں پاکستان کا نمایندہ اور وہ پاکستان جو ان دنوں امریکا کے لیے نہایت ہی اہم تھا۔ پاکستان کی ایک اہمیت تو بہت پرانی تھی اور وہ تھا اس کا ایٹم بم جو امریکا کے لیے سوہان روح اور ناقابل برداشت تھا لیکن فوری نوعیت افغانستان کے معاملے کی تھی اور اس دہشتگردی کی جس سے خطرے کا امریکا نے غلغلہ برپا کر رکھا تھا۔
اب ذرا غور کیجیے ایک طرف اسامہ بن لادن اور اس کا گروہ دوسری طرف پاکستان کی کمزور حکومت جو پاکستان کے مسائل سے زیادہ حکمرانوں کے ذاتی مسائل میں الجھی ہوئی تھی اور اس کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور تیسری طرف حقانی کے حاسد۔ اللہ تعالیٰ نے حاسدوں کے شر سے بچنے کی دعا بھی بتائی ہے۔ اتنے بڑے عہدے پر ایک عام آدمی جو اشرافیہ میں سے نہیں تھا محض ایک صحافی کیسے فائز ہو گیا۔ اس لیے اس کا یہاں سے رخصت کرنا لازم ہے چنانچہ سازشوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا، ہنوز جاری میمو اسکینڈل بھی اور نہ جانے اور کیا کیا، حقانی بالآخر چلا گیا۔ اس پر مقدمے بنائے گئے جو اب تک جاری ہیں اب ایک مقدمے میں جس کی ایف آئی آر بھی کسی نے نہیں لکھوائی سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا لیکن حقانی نے پاکستان آنے سے ہی انکار کر دیا ہے، علاوہ کمزور مقدموں کے یہاں اسے جان کا خطرہ ہے جس ملک میں گورنر اور وزراء کی جانیں محفوظ نہیں وہاں ایک ریٹائرڈ سفیر کی کیا حیثیت جس کو دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔
حقانی اس سے پہلے ایک بار کسی مقدمے کے سلسلے میں پاکستان آیا اس کی آمد سے پہلے میں نے اس سے کہا کہ یہ خطرہ مول نہ لینا لیکن وہ چلا آیا یہاں اسے چھپنا پڑا اور پھر خفیہ طور پر وہ واپس چلا گیا۔ اب صورت حال یوں ہے کہ وہ امریکا میں بیٹھا پڑھا رہا ہے اور پڑھ رہا ہے روٹی کما رہا ہے امریکا میں خود کمانا پڑتا ہے یہ ملک پاکستان نہیں ہے مگر حقانی کو معافی نہیں مل رہی۔ اگر وہ ناراض نہ ہو تو ایک مشہور لطیفے کا یہ ٹکڑا کہ وہ نکرے بیٹھ کر دہی کھا رہا ہے کسی کا کیا لیتا ہے۔ میرے خیال میں حقانی جیسے کارآمد پاکستانی کو ہم ضایع نہ کریں اگر اس نے کسی کی سفارت چھینی تھی یا کسی پر سبقت لے گیا تھا تو اب یہ سب ختم ہے۔ حقانی پاکستانی ہے اور وہ کہیں بھی رہے پاکستانی ہی رہے گا ہم اسے پاکستان سے بے دخل نہ کریں تو بہتر ہو گا۔ وہ ایک کارآمد پاکستانی ہے۔
اب اس نے پاکستان کے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر اپنے اندیشوں اور جان کو لاحق خطروں کا اظہار کیا ہے چنانچہ سپریم کورٹ نے حکومت سے اس کی حفاظت کا کہا ہے تاکہ وہ پاکستان آ سکے لیکن وہ پاکستان کی انتظامیہ پر مشکل سے یقین کرے گا، تاہم اس نے خط لکھ کر اتمام حجت کر دیا ہے اور حاضری سے اپنی مجبوری کو تین صفحات کے خط میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ فی الحال اسے پاکستان نہیں آنا چاہیے یہی بہتر ہے۔