قومی کرکٹرز سے بورڈ کا بھونڈا مذاق

اگر فٹنس ٹیسٹ لینے تھے یا کوئی اور پلان تھا تو پلیئرز کو این او سی جاری ہی نہیں کرتے


Saleem Khaliq August 20, 2017
پاکستان کرکٹ کی تاریخ ایسے ہی لطائف سے بھری پڑی ہے۔ فوٹو: فائل

میں نے ابھی ابھی گوگل پر سرچ کیا ہے،لاہور سے سینٹ لوشیا ویسٹ انڈیز کا فاصلہ 13 ہزار کلو میٹر سے زائد ہے، اب آپ وہاں کھیل رہے ہوں اور اچانک پاکستان سے بلاوا آ جائے کہ ''بیٹا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس آ جاؤ ہمیں تمہاری فٹنس دیکھنی ہے، پھر قومی ٹی ٹوئنٹی بھی کرانے کا سوچ رہے ہیں''ایسے میں غصہ آنا تو جائز ہے۔

اس وقت پاکستانی کرکٹرز کا یہی حال ہے، کافی عرصے بعد انگلینڈ نے بھی بڑی تعداد میں ہمیں لفٹ کرائی اور ٹی ٹوئنٹی ایونٹ میں کئی پاکستانی ایکشن میں ہیں، مگر آفرین ہے پی سی بی پر جس نے ایسا قدم اٹھایا کہ آئندہ کوئی ہمارے پلیئرز کو بلاتے ہوئے سو بار سوچے گا، ساتھ جب پی ایس ایل کیلیے کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کی بات آئے گی تو بھی خاص طور پر ویسٹ انڈیز تو نخرے دکھانے میں حق بجانب ہو گا، ہر ماہ لاکھوں روپے اکاؤنٹ میں منتقل کرانے والے بورڈ آفیشلز کیا اتنے کم عقل ہیں کہ یہ نہیں جانتے انٹرنیشنل لیگز میں کسی کو فٹ ہوئے بغیر لیا ہی نہیں جا سکتا، پھر اگر فٹنس چیک کرنا ہی تھی تو 8،9 کرکٹرز کو واپس بلانے کے بجائے ایک ٹرینر کو ویسٹ انڈیز بھیج دے دیتے، وہ وہاں جا کر سب کے ٹیسٹ لے لیتا مگر ایسا نہ کیا گیا۔

اب سنا ہے قومی ٹی ٹوئنٹی ایونٹ بھی موخر ہو رہا ہے، یہ بھی مذاق ہے بغیر سوچے سمجھے فیصلہ کر لیا کہ ٹورنامنٹ کرائیں گے پھر اچانک مسائل نظر آئے تو تاریخیں آگے بڑھا لیں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ پی سی بی میں کتنے ''اہل لوگ'' بیٹھے ہیں، نئے چیئرمین نجم سیٹھی نے آتے ہی اپنے کھلاڑیوں کو ناراض کر دیا، عمر اکمل کا تنازع بھی سامنے آ گیا، اب انھیں علم ہو گیا ہو گا کہ چیئرمین شپ سنبھالنا اتنا آسان نہیں، اب تو یہ بہانہ بھی نہیں چلے گا کہ '' میں نے نہیں یہ تو میاں (شہریارخان) نے کیا تھا''، اس وقت ویسے ہی پاکستان عالمی کرکٹ میں تنہائی کا شکار ہے، کشیدگی کی وجہ سے بھارت سے میچز نہیں ہو رہے، افغانستان بھی بھارتی بولی بولتے ہوئے الگ ہو چکا، بنگلادیش نے ٹور سے انکار کیا تو اس سے سیریز ملتوی کر کے تعلقات خراب کر لیے، ایسے میں ویسٹ انڈیز سے بھی تنازع مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اگر فٹنس ٹیسٹ لینے تھے یا کوئی اور پلان تھا تو پلیئرز کو این او سی جاری ہی نہیں کرتے اور اگر اجازت دے دی تو درمیان میں بلانے کا کوئی جواز نہیں،بارباڈوس کے کپتان پولارڈ کھلے عام پی سی بی کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں، اس سے کھلاڑیوں کو مالی نقصان بھی ہوگا جس کا ازالہ بورڈ کو کرنا چاہیے، عمر اکمل کا مسئلہ بھی سنجیدگی سے حل نہیں کیا جا رہا بلکہ بڑا سا پریس ریلیز جاری کر کے دنیا بھر میں اسے اور اجاگر کیا گیا، نجانے اور کتنی جگ ہنسائی ہو گی۔

پی سی بی میں اب سنا ہے طویل عرصے سے عہدے پر براجمان سی او او سبحان احمد کی تبدیلی کا وقت بھی آنے والا ہے، ان میں یہ ''کوالٹی'' رہی کہ ہر چیئرمین کے ساتھ جڑ جاتے تھے، مگر اب نجم سیٹھی اپنی کسی قریبی شخصیت کو لانا چاہتے ہیں۔

سابق انٹرنیشنل کرکٹر پی جے میر کا نام بھی لیا جا رہا ہے، اپنی ٹیم بنانے کا سلسلہ تو نجم سیٹھی نے شہریارخان کے دور سے ہی شروع کر دیا تھا، تمام ڈپارٹمنٹس کے سربراہ ان کے اپنے لوگ ہیں، ہارون رشید کو بھی نئی پوسٹ تخلیق کر کے لایا گیا، اب سی او او بھی بھروسے کا شخص ہو گا تو کسی معاملے میں رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، البتہ ہارون رشید جیسے لوگوں کے مشوروں نے ابھی سے سیٹھی صاحب کیلیے مشکلات پیدا کرنا شروع کر دی ہیں، دیکھتے ہیں ان کی ٹیم انھیںکامیاب بناتی ہے یا ناکام۔

پی سی بی ان دنوں سری لنکن ٹیم کو پاکستان بلانے کیلیے بھی کوشش کر رہا ہے، اگر ایسا ممکن ہوا تو شہریارخان کو بھی کریڈٹ جائے گا، جانے والے کو لوگ یاد نہیں رکھتے مگر یہ حقیقت ہے کہ ان کے دور میں ہی سری لنکن بورڈ سے بات چیت شروع ہوئی تھی جسے نجم سیٹھی نے آگے بڑھایا، ایک بار پھر لاہور میں میچ کرانے کی بات ہو رہی ہے لیکن اگر آپ ملک میں حقیقی معنوں میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرانا چاہتے ہیں تو دیگر شہروں میں بھی میچز کا انعقاد کرانا ہوگا، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان سب کو باری باری میزبانی دیں، ایک جگہ میچز سے نہ صرف شائقین اپنے سامنے ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے سے محروم رہیں گے بلکہ پورے ملک کے محفوظ ہونے کا تاثر بھی نہیں جا سکے گا۔

ویسے کرکٹ بورڈ کی پالیسی بھی سمجھ سے باہر ہے، ایک طرف آپ نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تزئین و آرائش کیلیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کر رہے ہیں، دوسری جانب چیئرمین صاحب فرماتے ہیں کہ '' سو فیصد غیر ملکی کرکٹرز کراچی جانے کو تیار نہیں، وہاں کوئی میچ نہیں ہو گا'' دلچسپ بات یہ ہے کہ سابقہ چیئرمین نے اگلی پی ایس ایل کا فائنل نیشنل اسٹیڈیم میں کرانے کا اعلان کیا تھا مگر بورڈ کے نئے سربراہ نے اس کا امکان یکسر مسترد کر دیا، اگر ایسا ہے تو چند کروڑ روپے سے اسٹیڈیم کے بنیادی مسائل حل کر لیں اتنی خطیر رقم خرچ کرنے سے کیا فائدہ ہو گا؟

پاکستان کرکٹ کی تاریخ ایسے ہی لطائف سے بھری پڑی ہے، نجم سیٹھی نے اپنے گزشتہ دور میں بگ تھری کو قبول کیا اور ڈالرز کی بوریاں لانے کا کہا، شہریارخان نے بگ تھری کو ختم کرانے کا کریڈٹ لیا اور پاکستان کے مالی فائدے کی بات کہی، آپ بتائیں ہم لوگ کیا سمجھیں کون صحیح تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی بنیادوں پر سربراہان کی تقرریوں سے کرکٹ کے مسائل ختم نہیں ہو سکتے، ابھی تو سیٹھی صاحب نئے نئے آئے ہیں خوب چھکے لگا رہے ہیں مگر انھیں یاد رکھنا چاہیے ، چار چھکے لگا کر کوئی اسٹار نہیں بنتا اس کیلیے لمبی اننگز کھیل کر سنچری بنانا پڑتی ہے، دیکھتے ہیں وہ ایسا کر پاتے ہیں یا نہیں۔