سوئٹزرلینڈ نے امریکا کیساتھ متنازع بینک ڈیل پر دستخط کردیے

سوئس بینکوں کو امریکی صارفین کے ڈپازٹس کی معلومات واشنگٹن کو دینا ہونگی۔


AFP February 15, 2013
ڈیل کے نفاذ کیلیے پارلیمنٹ سے منظوری ضروری، ریفرنڈم بھی کراسکتے ہیں، سوئس حکومت فوٹو: فائل

لاہور: سوئس حکومت نے جمعرات کو امریکا کے ساتھ متنازع ڈیل پر دستخط کردیے جس کے تحت تمام سوئس بینکوں کو اپنے تمام امریکی صارفین کے ڈپازٹس کی رپورٹ امریکی ٹیکس حکام کو دینا ہوگی۔

معاہدے کا مقصد سوئٹزرلینڈ کے امریکی فارن اکائونٹ ٹیکس کمپلائنس ایکٹ (ایف اے ٹی سی اے) پر عملدرآمد کو آسان بنانا ہے، یہ قانون مارچ 2010 میں بنایاگیا اور اسی وقت سے دونوں ملکوں کے درمیان جھگڑے کی بنیاد بنا ہوا تھا۔ گزشتہ روز برن میں معاہدے پر امریکی سیفر ڈونلڈ بیئر اور سوئس اسٹیٹ سیکریٹری اور انچارج فنانشل وٹیکس امور مائیکل امبوہل نے دستخط کیے۔ سوئس حکومت کے مطابق اس معاہدے کے نفاذ کے لیے اس کی سوئس پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے اور اس پر ریفرنڈم بھی کرایا جاسکتا ہے، ڈیل پر عملدرآمد یکم جنوری 2014 کو ہوگا جب امریکا ایف اے ٹی سی اے پرعملدرآمد شروع کرے گا تاکہ سوئس بینکوں کو امریکا میں کارروائی سے بچایا جا سکے۔

3

سوئس وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ سوئس حکومت کے پاس معاہدے پر دستخط کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں سوئس مالیاتی اداروں کو امریکامیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا۔ یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ ان 7 ممالک میں سے ایک ہے جو امریکی ایف اے ٹی سی اے پر عملدرآمد پر تیار ہوئے ہیں، اس قانون کے تحت تمام امریکی شہریوں کی دنیا میں کسی بھی جگہ آمدنی اور اثاثوں پر ٹیکس لیا جائیگا۔