آئی پی ایل انگلش بورڈ اور پلیئرز میں محاذ آرائی کا خدشہ

پرائر نے ایونٹ کے دوران ٹیسٹ میچز شیڈول کیے جانے کوغیر منصفانہ قرار دیدیا۔


Sports Desk February 15, 2013
پرائر نے ایونٹ کے دوران ٹیسٹ میچز شیڈول کیے جانے کوغیر منصفانہ قرار دیدیا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: آئی پی ایل کے معاملے پر انگلش کرکٹ بورڈ اور پلیئرز کے مابین محاذ آرائی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

وکٹ کیپر بیٹسمین میٹ پرائر نے ایونٹ کے دوران ٹیسٹ میچز شیڈول کیے جانے کو غیر منصفانہ اقدام قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق ای سی بی کئی سال سے انڈین پریمیئر لیگ کے شیڈول کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں مصروف رکھنے کی روش پر قائم رہا ہے، رواں سال کا ایڈیشن 3 اپریل سے 26 مئی تک شیڈول ہے، انگلینڈ کی نیوزی لینڈ کیخلاف ہوم سیریز 16 مئی سے شروع ہورہی ہے جس کیلیے کرکٹرز کو 5 تاریخ تک واپس آنے کا پابند کیا گیا ہے۔

آدھے سیزن کی دستیابی کے پیش نظر آئی پی ایل کی فرنچائزز انگلش کھلاڑیوں کے دام لگانے میں سرد مہری کا مظاہرہ کرتی ہیں، اسی صورتحال میں مینجمنٹ کی طرف سے لیگ کے تمام میچز کیلیے ریلیز نہ کیے جانے پر کیون پیٹرسن نے ون ڈے کرکٹ کو ہی خیر باد کہنے کا اعلان کردیا تھا،اب میٹ پرائر نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا کہ زیر معاہدہ ہونے کے ناطے وہی کرتا ہوں جو ای سی بی کہتا ہے۔

2

ٹیسٹ کھیلنا میری ترجیح مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کرکٹرز آئی پی ایل میں بھی شرکت کرنا چاہتے ہیں، شیڈول متصادم ہونے کی وجہ سے ہمارے بھاری مالی نقصان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،دو سال سے آئی پی ایل میں فروخت نہ ہونے والے پرائر نے کہا کہ شائقین ٹوئنٹی 20 لیگز کو پسند کرتے اور پلیئرز صلاحیتوں کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں۔

آئی پی ایل میں شرکت نہ کرنے کی احساس محرومی تشویش میں اضافے کا سبب بن رہی ہے،ای سی بی کو بروقت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ میٹ پرائر نے بگ بیش میں سڈنی تھنڈر کی نمائندگی کی تھی جبکہ آئی پی ایل کیلیے انگلش کرکٹرز میں سے کیون پیٹرسن اور ایون مورگن ہی فروخت ہوئے، ای این بیل اور روی بوپارا کی بولی ہی نہیں لگائی گئی۔ دوسری طرف ایک بھی ٹیسٹ نہ کھلنے والے آسٹریلوی پلیئر میکسویل10اور کین رچرڈسن 7 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئے۔ انگلش پلیئرز ایسوسی ایشن پلیئرز کو مکمل ایڈیشن میں شرکت کی اجازت دلانے کیلیے کوشاں ہے۔