44ارب کے گھپلوں میں خاتون افسرکے ملوث ہونے کا انکشاف

اوگرا میں اسٹاک ایکسچینج کی مینوپلیشن پرتیار3 رپورٹس ایک دوسرے سے متضادہیں


Ehtisham Mufti February 15, 2013
اوگرا میں اسٹاک ایکسچینج کی مینوپلیشن پرتیار3 رپورٹس ایک دوسرے سے متضادہیں فوٹو فائل

اوگرا میں اسٹاک ایکسچینج کی مینوپلیشن کے حوالے سے44 ارب روپے مالیت کے مبینہ گھپلوں سے متعلق تحقیقات میں قومی احتساب بیورو ''نیب'' کے ایک افسر اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی خاتون افسر شازیہ بیگ کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کوبتایا کہ اسٹاک ایکس چینج میں مینوپلیشن کے حوالے سے اب تک3 رپورٹس مرتب کی گئی ہیں جو سپریم کورٹ میں داخل کردی گئی ہیں لیکن جمع کرائی جانے والی مزکورہ تینوں رپورٹس ایک دوسرے سے متضادہیں جس سے اس امر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ داخل کرائی جانے والی تینوں تحقیقاتی رپورٹس غلط اورگمراہ کن ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیب آرڈیننس مجریہ1999 کی شق30 اور شق31 کے تحت سپریم کورٹ میں غلط رپورٹ داخل کرانے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

14

ذرائع نے بتایا کہ اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ایس ای سی پی کی افسر شازیہ بیگ کیخلاف ان سائیڈ ٹریڈنگ پر پہلے ہی اکتوبر2012 سے تحقیقات کی جارہی ہے اور جرم ثابت ہونے پر مذکورہ خاتون افسر کو ایک سال قیداوربھاری جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ انہی خاتون افسر کیخلاف ایچ آر پالیسی کی خلاف ورزی پر بھی مزید ایک سال قید اور اضافی جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسکینڈل میں ملوث مذکورہ خاتون افسر نے ممکنہ سزا سے بچائو کیلیے ایس ای سی پی افسران کے خلاف من گھڑت الزامات کی نئی مہم شروع کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث مزکورہ خاتون افسر نے اپنے بچائو کے لیے ایس ای سی پی کے ایک سابق چیئرمین ، سابق کمشنر ایس ای سی پی اور نیب کے ایک افسر کے علاوہ بعض اسٹاک بروکرز کی پشت پناہی حاصل کررکھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ44 ارب روپے مالیت کے مبینہ گھپلوں سے متعلق سپریم کورٹ میں داخل کرائی جانے والی تینوں تحقیقاتی رپورٹس ایک دوسرے سے مختلف اورگھپلوں کو ثابت نہیں کرپارہی ہیں جس کے پیش نظر ایس ای سی پی حکام کی جانب سے ایک چوتھی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی جارہی ہے جوجلد ہی سپریم کورٹ میں پیش کردی جائے گی۔

مقبول خبریں