جمہوریت اور دھماکے … ڈیماکراطیس کی ایسی کی تیسی

مشہور و معروف تھیٹر پاکستان میں یہ ڈراما مسلسل چونسٹھ سال سے اسٹیج ہو رہا ہے، اس کا نام جمہوریت ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq August 04, 2012
[email protected]

وہ مشہور و معروف لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک شخص اپنے خستہ حال کمرے میں ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر بیٹھا مکئی کا بھٹہ کھا رہا تھا۔ بدن پر ایک میلی سی دھوتی تھی اور اوپر ایک سو چھیدوں پر مشتمل ائر کنڈیشنڈ بنیان تھی۔ وہ سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے کہہ رہا تھا کہ بھئی ہمارا تو بس ایک ہی نصب العین ہے، اچھا کھانا اور اچھا پہننا ۔۔۔ وہ بھٹہ کھانے اور اپنے شکم مبارک پر ہاتھ پھیرنے کے بعد سگریٹ کا وہ ٹوٹا پی رہا تھا جو اس نے سڑک سے اُچکا تھا اور اب ناک سے دھواں نکال نکال کر عیاشی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ یہ لطیفہ آپ نے بارہا سنا ہو گا لیکن شاید اسے ڈرامہ ٹائز ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ ہم نے دیکھا ہے بلکہ بار بار دیکھا ہے بلکہ روزانہ دیکھ رہے ہیں۔

مشہور و معروف تھیٹر پاکستان میں یہ ڈراما مسلسل چونسٹھ سال سے اسٹیج ہو رہا ہے، اس کا نام جمہوریت ہے، اگرچہ بیچ بیچ میں ''وقفہ بہت ضروری ہے'' کے طور پر کچھ اسپیشل اور ایکشن سے بھرپور سین بھی آئے لیکن اس وقت بھی اس کا نام جمہوریت ہی رہا ۔ ایک مرتبہ اس کے ساتھ بنیادی جمہوریت کا دم چھلہ لگا تھا۔ دوسری بار اسلامی جمہوریت اور تیسری بار اعتدال پسند روشن خیال جمہوریت کا ،آج کل اس کے ساتھ کوئی دم چھلہ نہیں ہے بلکہ مور کی طرح اس کی دم پر پکا پکا ٹھپہ عوامی کا لگا ہوا ہے بلکہ اس کی دم چمک بھی رہی ہے۔

جگنو میاں کی دم جو چمکتی ہے رات کو
سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں

اس نرالی جمہوریت کو دیکھ کر اصولی طور پر تو ہنسی آنا چاہیے لیکن دیکھنے کے ساتھ بُھگت کر رونے کو من کرنے لگتا ہے، ویسے ہمیں اس یونانی بدنصیب پر اکثر بعد از مرگ رحم آتا ہے جس کا نام ''ڈیما قراطیس'' تھا، اس بے چارے نے اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑی تھیں، ایک ایٹم تھا یعنی اس نے مادے کے سب سے چھوٹے ذریعے کو دریافت کر کے اس کا نام رکھا (A-TOM) یعنی ناقابل تقسیم رکھا۔ ستم ظریفی اس بے چارے کے ساتھ یہ ہوئی کہ اس نے جس ذرے کو ناقابل تقسیم کہا تھا، دنیا اس کے پیچھے پڑ گئی اور آخر کار اسے تقسیم بلکہ پھاڑ کر چھوڑا، باقی دنیا کا تو پتہ نہیں کہ وہاں اس ذرے کے پھٹنے اور ایٹم (A-TOM) کے ٹوم (TOM) ہونے سے کیا کیا ہو رہا ہے لیکن اپنے یہاں کا ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہوا۔

کیا ہو رہا ہے اور کیا کیا ہونے والا ہے، اصل میں ہم ازلی و ابدی بسیار پسند بھی ہیں، ایک کے بجائے دو دو چوپڑیاں اور کئی کئی بیویاں پسند کرتے ہیں، اس لیے ایٹم کو بھی ایک نہیں ہم نے نو بار پھاڑا یا ، غالباً نو (9) کا عدد اس لیے رکھا گیا تھا کہ بلی کی نو جانیں ہوتی ہیں اور ہمارے عوام کی بھی پوری نو جانیں ہیں، آخر 64 سال سے ان کو مسلسل مارا جا رہا ہے اور پھر بھی زندہ ہیں، نہ صرف زندہ ہیں بلکہ شرمندہ بھی نہیں ہیں البتہ جب سے نو ایٹم پھاڑے گئے ہیں تب سے ان کی چیخیں ضرور نکل رہی ہیں، کوئی بات نہیں آج چیخیں نکل رہی ہیں کل جانیں بھی نکل جائیں گی، خیر ایٹم کو چھوڑیئے کہ ہمارے لیے یہ بھی بہت ہے

مرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں
ذرا دیکھو سجن مجبوریاں ہیں

چوڑیاں تو جیسی بھی ہوں کانچ کی ہوں لوہے کی ہوں یا پھر ایٹمی ہوں مجبوریاں ہی ہوتی ہیں، کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ پاکستان کے عوام خوش نصیب بڑے ہیں اگر ایٹمی دھماکوں کی طرح جمہوریتیں بھی ''نو نو'' رائج ہو جاتیں تو کیا ہوتا کیوں کہ مسئلہ تو ''ڈیما قراطیس'' کو اپنی قبر میں شرمندہ کرنا ہے اور اس کام میں اگر پڑوسی ہم سے آگے ہو جائے تو ہمارا اس سے آگے نکل جانا ٹھہرتا ہے۔ ڈیما قراطیس کا ''ذرہ'' پھاڑا تو ہم نے نو پھاڑے۔

انھوں نے ایک جمہوریت بنائی اگر ہم اس ایک کے جواب میں بھی نو جمہوریتیں بناتے لیکن ٹھہرئیے یہاں شاید ہم کچھ غلط ہو رہے ہیں ہاں سو فیصد غلط ہو رہے ہیں یہی تو ہوتا ہے ریاضی اور حساب کتاب میں نالائق ہونے کا نقصان۔ اب جو ذرا غور کیا تو ثابت ہوا کہ ہم غلطی پر تھے دھماکے بھی نو ہوئے ہیں اور جمہوریتیں بھی نو عدد ہم بھگت چکے ہیں۔ ایک وہ جمہوریت جو قائداعظم سے سکندر مرزا تک چلی، دوسری ایوب خان سے بھٹو تک رہی تیسری بھٹو نے شروع کی اور ضیاء الحق نے تمام کی، پھر ضیاء الحق کے بعد بینظیر اور نواز شریف کی دوہری جمہوریت رہی اور پھر پرویز مشرف اور اب عوامی جمہوریت اور کمال کی بات اس حساب کتاب میں یہ ہے کہ ان جمہوریتوں کے درمیان جس دور کو ''جمہوریت'' نہیں کہا جاتا یعنی حضرت آغا محمد یحییٰ خان کا دور ۔۔۔ وہی اصل میں جمہوریت تھی کہ کم از کم انتخابات تو کرا گئی ان انتخابات سے پہلے اور بعد میں جو بھی انتخابات ہوئے یا انتخابات کے نام پر میلے لگائے گئے وہ دراصل کرسیوں کی نیلامیاں تھی، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ ہم جمہوریت کے معاملے میں بھی پڑوسی سے پیچھے نہیں ہیں اس نے ایک دھماکا کیا ہم نے نو اس کے منہ پر مارے وہ ابھی تک اس پہلی جمہوریت سے کام چلا رہا ہے اور ہم نت نئی جمہوریتوں کے مزے لیتے رہے۔

ہونہہ۔۔۔۔ ہم سے چلا ہے مقابلہ کرنے، یہ منہ اور مسور کی دال، دھوتی کیا اور دھوتی کا پھیلانا کیا، لیکن ہم چور کو گھر تک پہنچانے والے کھرے لوگ ہیں چنانچہ جمہوریت اور دھماکوں کی طرح صرف ''نو'' پر بھی نہیں ٹھہرے، دھماکے تو اتنے تسلسل سے ہم کر رہے ہیں اور اتنے مختلف النوع دھماکے کر رہے ہیں کہ دنیا کے سائنس دان ''بال پین بہ دندان'' ہو کر رہ گئے، کبھی بجلی دھماکا، کبھی پٹرولیم دھماکا، کبھی گیس دھماکا تو کبھی آٹا چینی دھماکا، دھماکے پر دھماکا، دھماکے پر دھماکا اتنے زیادہ کہ ہم اپنے ملک کا تخلص وزیرستان کے ساتھ دھماکستان بھی رکھ سکتے ہیں اور جمہوریتیں واہ جگہ جگہ اور قدم قدم پر جمہوریتیں ہی جمہوریتیں پارلیمنٹ کی جمہوریت، کابینہ کی جمہوریت، ہر صوبے کی جمہوریت، پولیس کی جمہوریت، چمچوں کی جمہوریت، چمچوں کے چمچوں کے چمچوں کی جمہوریت، جدھر دیکھئے ادھر تو ہی تو ہے بلکہ اب تو جمہوریت اتنی وافر ہو گئی ہے کہ سڑکوں پر ہر دو چار میل کے بعد ایک جمہوریت کھڑی ہو کر عوام کو عوام کی حکومت عوام کے ذریعے کا سبق یاد کرا رہی ہے جسے کچھ لوگ چھٹی کا دودھ بھی کہتے ہیں۔۔