انتخابات یا مشرق وسطی…

سیاسی نظام کے پیچھے دو بنیادی مقاصد ہمیشہ کارفرما رہے ہیں۔ ایک طاقت اور اختیارات کا ارتکاز دوسرے نجی ملکیت کا تحفظ۔


Zaheer Akhter Bedari August 04, 2012
[email protected]

ISLAMABAD: آج کل ہر سیاست دان ہر مذہبی رہنما کی زبان پر انتخابات کا لفظ چڑھا ہوا ہے۔ انتخابات کے ساتھ ساتھ ''شفاف اور غیر جانبدارانہ'' انتخابات کی اضافت بھی لگائی جا رہی ہے اور سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالنے سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ شاید اسی سال اس ڈرامے پر عمل درآمد ہو جائے گا۔ ہماری جدید اور مہذب دنیا میں حکومت کا سب سے ترقی یافتہ طریقہ جمہوریت تسلیم کیا جاتا ہے۔

غلام داری سماج کے خاتمے کے بعد نجی ملکیت کے کلچر کے ساتھ دنیا کے سیاسی نظاموں میں جو تبدیلیاں آتی رہیں اگر ان کا ذرا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ بدنما حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر سیاسی نظام کے پیچھے دو بنیادی مقاصد ہمیشہ کارفرما رہے ہیں۔ ایک طاقت اور اختیارات کا ارتکاز، دوسرے نجی ملکیت کا تحفظ۔ اس حوالے سے اگر ہمارے ترقی یافتہ سیاسی نظام ''جمہوریت'' پر نظر ڈالی جائے تو اس کی پشت پر بھی یہی دو عوامل موجود نظر آتے ہیں لیکن ان دو بنیادی عوامل کو اتنی چالاکی سے جمہوریت کے پردے میں چھپا دیا گیا ہے ۔

شخصی حکمرانیوں کے بعد خواہ وہ فوجی آمریت کی شکل میں رہی ہوں یا بادشاہت کی شکل میں، طاقت کا ارتکاز چونکہ فردِ واحد کے ہاتھوں میں ہوتا تھا جو صنعتی ترقی کے بعد سرمایہ داروں کے لیے سوٹ نہیں کرتا تھا، چونکہ سرمائے کا ارتکاز اس نظام میں ایک طبقے کے ہاتھوں میں ہوتا تھا، لہٰذا اس نظام کے مفکرین نے یہ فارمولا نکالا کہ طاقت اور اختیار ایک ہاتھ سے نکل کر ایک طبقے کے ہاتھوں میں آ جائیں اور اس فراڈ کو خوبصورت اور قابل قبول بنانے کے لیے اس پر عوامی جمہوریت کا پردہ ڈال دیا گیا۔ یوں طاقت ایک فرد کے ہاتھ سے نکل کر ایک ایسے طبقے کے ہاتھوں میں آ گئی جسے ہم اشرافیہ کے نام سے جانتے ہیں۔

جس کی تعداد ہر جگہ کم و بیش دو فیصد ہی تسلیم کی گئی ہے۔ اس فراڈ کا اصل مقصد اس دو فیصد طبقے کے ہاتھوں میں جمع ہونے والی اسّی فیصد دولت کا تحفظ ہے۔ اس فراڈ کو عوامی جمہوریت کا نام دیا گیا۔اس میں دو فیصد لٹیرے طبقے کے ہاتھوں میں اسّی فیصد دولت اور کروڑوں اربوں کی جائیداد آ گئی اور 98 فیصد طبقے کے ہاتھوں میں اس کے دو ہاتھ نجی ملکیت کے طور پر رہ گئے جو ہر جگہ سرمائے کے اضافے کے لیے متحرک رہتے ہیں۔ جمہوریت کا یہ تصور اگرچہ نیا نہیں بلکہ ڈھائی ہزار سال پہلے قدیم یونان میں بھی موجود تھا

جو اس دور میں شہری حکومتوں کی شکل میں جاری و ساری تھا ۔ اس دور کے سیاسی مفکرین نے غالباً اس جمہوریت کے مضمرات کا اندازہ کر لیا تھا، لہٰذا انھوں نے جمہوریت کے ایک ایسے نظام کی حمایت کی جس میں عوام کے نام پر مراعات یافتہ طبقے کی حکومت کے بجائے فلسفیوں کی حکومت کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔ سقراط نے علم و دانش کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہوئے مذہب کو انسان کا ذاتی مسئلہ قرار دیا۔ افلاطون نے کہا ''جب تک فلاسفر حکمران نہیں ہوتے، نہ شہر نقصانات سے بچ سکتے ہیں، نہ شہروں میں امن قائم ہو سکتا ہے۔'' اسی طرح ارسطو کا کہنا تھا کہ ریاست زندگی کی خاطر وجود میں نہیں لائی جاتی بلکہ اچھی زندگی کی خاطر وجود میں آتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یونانی دانشوروں کے دور میں ہر جگہ چھوٹی چھوٹی آبادیاں تھیں اور یہی آبادیاں اس دور کی شہری ریاستیں بن گئی تھیں، جہاں ریاست کے تمام شہری حکومتی فیصلوں میں اور حکومت چلانے میں براہِ راست شریک رہتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آبادیوں میں اضافہ ہوتا گیا اور ریاست کا حجم بڑھتا گیا۔ اسی تناظر میں حکومتی ڈھانچوں میں بھی تبدیلی آتی رہی اور اب ریاست کروڑوں عوام پر مشتمل ہے اور حکومت منتخب افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جسے ہم نیابتی جمہوریت کہتے ہیں۔ اس جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ عوام عموماً انتخابات میں حصّہ لینے والوں کے ذاتی کردار، سیاسی خدمات کے بجائے پارٹی کی حمایت کے حوالے سے اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔

مغربی جمہوریت میں اگرچہ امیدواروں کے کردار اور خدمات کو دیکھا جاتا ہے لیکن زیادہ اہمیت پارٹی کے منشور کو دی جاتی ہے اور پارٹیاں عموماً ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیتی ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام سے متفق ہوتے ہیں بلکہ ان کے سیاسی ایمان کا حصّہ ہوتا ہے۔ یوں مغربی جمہوریتوں میں سرمایہ پرستی اس کی اساس ہوتی ہے اور اس پورے سسٹم کے پیچھے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے سرپرست موجود ہوتے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ 65 سال گزرنے کے باوجود ہم ابھی تک خاندانی جمہوریتوں کے دلدل ہی میں پھنسے ہوئے ہیں اور خاندانی جمہوریت کا واحد مقصد قومی دولت کی لوٹ مار ہوتا ہے۔ آج ہمارے سامنے حکومت اور اپوزیشن کے بڑے اوتاروں کے خلاف اربوں روپوں کی کرپشن کے کیسز زیرِ سماعت ہیں اور موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی پوری کھیپ لوٹ مار کی مرتکب ہے۔ اب چونکہ پی پی پی اپنی باری مکمل کر رہی ہے، اس لیے باری کے منتظر سیاسی اوتاروں کا شدّت سے مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت کی پیدا کردہ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو نجات دلانے کا واحد نسخہ انتخابات ہیں۔ یعنی منتظر لٹیروں کو لوٹ مار کا موقع فراہم کرنا،

جہاں تک مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ وغیرہ کے مسائل ہیں ان کے حل کے لیے طویل المدتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ کسی کے پاس الٰہ دین کا چراغ نہیں کہ رگڑ کر یہ مسائل حل کر دے۔ جہاں تک اربوں کھربوں کی کرپشن کا تعلق ہے، اس کا سدباب ازحد مشکل ہے، کیونکہ وہ اس نظام کی شریانوں میں خون کی طرح رواں دواں ہے۔

اس پس منظر میں انتخابات کا مقصد صرف اور صرف چہروں کی تبدیلی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسی لیے عوام کی بھاری اکثریت چہروں کی تبدیلی کے اس پرانے کھیل سے سخت متنفر ہے کیونکہ جب تک خاندانی سیاست اور خاندانی حکمرانیوں کا کلچر موجود ہے، عوام کے مسائل کا حل ہونا ممکن نہیں۔ غالباً یہی وہ حقیقت تھی جسے مشرق وسطیٰ کے عوام نے سمجھ لیا تھا اور خاندانی حکمرانیوں کے خلاف وہ تاریخی تحریکیں چلائیں، جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اب عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ خاندانی حکمرانیوں کو ختم کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے عوام کے راستے پر چلیں گے یا انتخابات کے راستے پر چل کر خاندانی حکمرانیوں کے کلچر کو جاری رہنے دیں گے؟

مقبول خبریں