سیلز ٹیکس ود ہولڈنگ ریجیم ایکسپورٹر ایف بی آر پر برس بڑے

ریونیو بورڈ کے ایکسپورٹ دشمن رویے سے صنعتیں بیرون ملک منتقل ہورہی ہیں، ٹاول مینو فیکچررز


Ehtisham Mufti February 16, 2013
پیداواری لاگت میں اضافہ، مسابقت مشکل ہوجائیگی، پریگمیا، ایس آر او 98 واپس لینے پر زور۔ فوٹو : فائل

LONDON: ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان نے ایس آراو98 مجریہ 2013 برآمدی شعبے پرایف بی آر کاخودکش حملہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر کے انہی برآمدات دشمن پالیسیوں کی بدولت پاکستانی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر عالمی منڈیوں میں اپنے حریفوں کے ساتھ مسابقت سے قاصر ہے۔

ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین مہتاب چاؤلہ نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹاول سیکٹر کے برآمدکنندگان سیلز ٹیکس اسپیشل پروسیجر میں ترمیم اور ایس آر او 98 کے خلاف سراپا احتجاج ہیں کیونکہ مذکورہ ایس آراو کے تحت سیلزٹیکس مقاصد کیلیے ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ کے دائرہ کار کو برآمدکنندگان تک توسیع دیدی گئی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز کو پیشگی اطلاع اور مشاورت کے بغیر ایس آر او کے اجرا پر انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیرمنصفانہ اور یکطرفہ اقدام درحقیقت ایف بی آر کے کاروبار مخالف رویہ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

مہتاب چاؤلہ نے کہا کہ ایک جانب ایف بی آرانکم ٹیکس، سیلزٹیکس اور کسٹمز ریفنڈز کی مد میں برآمدی شعبے کے اربوں روپے مالیت کے کلیمزکی ادائیگیاں نہیں کررہا جبکہ دوسری جانب پہلے سے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان پر زیادہ سے زیادہ ذمے داریاں عائد کرتے ہوئے ٹیکسوں کے مزید بوجھ تلے دبایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان پر انکم ٹیکس، سیلزٹیکس اور فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کے لیے نہ صرف ودہولڈنگ ایجنٹس کی نئی ذمے داریاں بغیر کسی معاوضے کی عائد کی جارہی ہیں بلکہ اس شعبے کے دیگر وسائل کا بھی ضیاع کیا جارہا ہے۔



انہوں نے بتایا کہ 68 فیصد ڈائریکٹ ٹیکس وصولیاں ودہولڈنگ ٹیکس ریجیم کے ذریعے کی جارہی ہیں لیکن اسکے باوجود ایف بی آر کی جانب سے برآمدکنندگان کو کسی قسم سہولت میسر نہیں اور نہ ہی جواباً انہیں کوئی صلہ دیا جارہا ہے بلکہ ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ کو ٹیکس ڈپارٹمنٹس بار بار آڈٹ کیلیے طلب کرتے ہیں۔ مہتاب چاؤلہ نے کہا کہ ایف بی آر کے کاروبارمخالف رویے اور برآمدات دشمن پالیسیوں کی بدولت پاکستان سے صنعتیں بیرون ملک منتقل ہو رہی ہیں۔

پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررزاینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمد شفیق نے کہا کہ متعددمسائل کی موجودگی میں ایس آراو 98 کے اجرا کے بعد برآمدکنندہ صنعتوں کے پاس صنعتیں بند کر کے سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کا واحد راستہ رہ گیا ہے۔ انہوں نے ایس آراو98 واپس لینے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اس ایس آراو پر عملدرآمد کے انتہائی مضر اثرات ہونگے، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے حریفوں کے ساتھ مسابقت میں مشکلات بڑھ جائیں گی۔

مقبول خبریں