ملکی استحکام کی خاطر جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اترنے دینگے جسٹس مشیر عالم

کوٹا سسٹم سندھ کے ساتھ نا انصافی ہے، جمہوریت کی بحالی کے بعد عدلیہ کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی حقدار تھی


Nama Nigar February 16, 2013
جسٹس مشیر عالم نے مزید کہا کہ 3 نومبر کے واقعے میں وکلاء، سول سوسائٹی اور اخبار نویسوں کا خون شامل ہے اور زندہ قومیں ہی آزادی حاصل کرنے کے لیے خون دیتی ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن 3 نومبر 2007 کو تاریخ نہیں دہرائی گئی بلکہ نئی تاریخ رقم کی گئی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ٹنڈو الہ یار میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی نو تعمیر عمارت کے افتتاح کے موقع پر وکلاء اور میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جسٹس فیصل عرب، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیدرآباد حسن فیروز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مٹیاری سکندر علی لاشاری، رجسٹرار ہائی کورٹ مسٹر عبدالمالک، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹنڈو الہ یار جاوید احمد کیریو،سینئر سول جج ٹنڈو الہ یار عبدالقدوس میمن، سول جج مس نیلم، ٹنڈو الہ یار بار ایسوسی ایشن کے صدر غلام قادر ڈیتک، جسٹس آفتاب احمد و دیگر شامل تھے ۔

3

جسٹس مشیر عالم نے مزید کہا کہ 3 نومبر کے واقعے میں وکلاء، سول سوسائٹی اور اخبار نویسوں کا خون شامل ہے اور زندہ قومیں ہی آزادی حاصل کرنے کے لیے خون دیتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں تعلیم کی کمی ہے جہاں عمارتیں ہیں وہاں اساتذہ نہیں جہاں اساتذہ ہیں وہاں طالب علم پڑھنے کو تیار نہیں، کوٹہ سسٹم سندھ کے ساتھ نا انصافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کے بعد عدلیہ کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ حقدار تھی لیکن اس کے باوجود ملکی استحکام کی خاطر جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے وقت سندھ میں ساڑھے 3 لاکھ کیسز زیر التوا تھے۔لیکن ایک لاکھ سے زائد کیسوں کو نمٹادیا گیا ہے اور مارچ تک تمام زیر التوا کیسز بھی نمٹا دیے جائیں گے۔انھوں نے وکلاء اور ججوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کرکے عدلیہ کے وقار کو بلند کریں۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس مشیر عالم کے ٹنڈو الہ یار پہنچنے پر وکلاء نے ان کا پرتپاک استقبال کیاجبکہ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی بعد ازاں انھوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا دورہ بھی کیا۔

مقبول خبریں