پاک ایران گیس پراجیکٹ پر بیشتر امور طے قیمت پر بات چیت دوبارہ ہوگی

پاکستان نے ایران کے ساتھ طے پانے والے گیس سیل پرچیز ایگریمنٹ میں شامل شق کو استعمال کے تحت گیس کی قیمت میں کمی، ذرائع


Numainda Express February 17, 2013
پاکستان نے ایران کے ساتھ طے پانے والے گیس سیل پرچیز ایگریمنٹ میں شامل شق کو استعمال کے تحت گیس کی قیمت میں کمی کے لیے کہا ہے، ذرائع فوٹو: فائل

پاکستان نے ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت درآمدی گیس کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حکام نے بتایا کہ دو روز قبل پاکستان میں ختم ہونے والے ایران پاکستان مذاکرات میں بہت سے امور طے پاگئے ہیں تاہم گیس کی قیمت اور گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے ایران سے حاصل کردہ قرضے کی واپسی کا شیڈول اور ادائیگیوں کا طریقہ کار طے ہونا ابھی باقی ہے جس کے لیے توقع ہے کہ رواں ماہ (فروری) دوبارہ مذاکرات ہونگے۔

وزارت پٹرولیم کے حکام نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے ایران پر زور دیا جارہا ہے کہ گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پاکستان کو فراہم کی جانے والی گیس کی قیمت ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا پائپ لائن (تاپی) کے ریٹ کے برابرلائی جائے، ایران باہمی فروخت اور خریداری کے معاہدے (جی ایس پی اے) کی قیمت پر دوبارہ مذاکرات کی شق کے تحت قیمتوں کو کم کرے تاکہ اسے ترکمانستان کے ساتھ حتمی شکل دیے گئے ریٹ کے برابر لایا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ طے پانے والے گیس سیل پرچیز ایگریمنٹ میں شامل شق (قیمت ری نیگوسیشن شق) کو استعمال کے تحت گیس کی قیمت میں کمی کے لیے کہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی گیس کی قیمت تاپی گیس پائپ لائن جتنی ہوجاتی ہے تو پاکستان آئی پی، جی ایس پی اے کے تحت منظور ہونیوالی قیمت کے مدمقابل اس منصوبے کے آپریشنل ہونے تک ڈیڑھ ارب ڈالر کی بچت کرسکے گا۔

پاکستان گیس کی بین الاقوامی قیمتوں کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور اگر امریکا و یورپی مارکیٹ میں گیس کی قیمت کم ہوئی تو اس صورت میں پاکستان کیلیے ایران سے حاصل کی جانیوالی گیس کی قیمت تاپی سے بھی کم ہوسکتی ہے۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے سینئر افسر نے بتایا کہ ابھی چونکہ کچھ امور طے پانا باقی ہیں اس لیے ایران کی تدبیر انرجی اور پاکستان کی انٹر گیس کمپنی ایرانی فرم کی طرف سے پاکستان میں 781 کلومیٹر پائپ لائن کی تعمیر کیلیے معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں تاہم وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حکام پر امید ہیں کہ اس معاہدے پر رواں ماہ کے اختتام سے قبل دستخط ہوجائیں گے۔

مقبول خبریں