لگام
اگر ملک کے عوام بیدار ہوں اور اپوزیشن ایماندار ہو تو حکمرانوں کی خر مستیوں کو روکا جاسکتا ہے
پاکستان کے غریب عوام 70 سال سے سیاستدانوں کے جھوٹے وعدوں پر رل رہے ہیں اور جھوٹے وعدے کرنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انتخابات سے قبل انتخابی ماہرین اہل سیاست کو ایسے خوبصورت وعدے یاد کراتے ہیں کہ عوام ان وعدوں پر خوش ہوجاتے ہیں۔ خوبصورت اور دلربا وعدوں کا آغاز مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔ ان کے انتخابی وعدوں میں سب سے زیادہ متاثر کن وعدہ مزدور کسان راج کا تھا، یعنی بھٹو صاحب عوام سے یہ وعدہ کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر ملک میں مزدور کسان راج قائم کریں گے۔
ملک کے ایک بڑے جاگیردار کا یہ وعدہ اگرچہ غیر منطقی اور ناقابل عمل تھا لیکن عوام کا دل بہلانے کے لیے یہ ایک متاثر کن نعرہ تھا۔ بھٹو کا دوسرا دل کش اور مقبول لیکن بے معنی نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان تھا۔ روٹی کپڑا اور مکان انسان کی بنیادی ضرورتوں کا حصہ تھے اور کسی نہ کسی طرح یہ تینوں چیزیں عوام حاصل کر رہے تھے کہ ان کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہ تھا۔
روٹی سخت محنت کے بعد ہی سہی ہر انسان حاصل کر رہا تھا کیونکہ زندہ رہنے کے لیے روٹی کا حصول لازمی تھا۔ سو روٹی ہر آدمی پورے پیٹ نہ سہی آدھے پیٹ ہی سہی حاصل کر رہا تھا، اسی طرح کپڑے کا مسئلہ تھا، انسان ننگا نہیں پھر سکتا تھا، سو موٹا چھوٹا لنڈا کا سہی ہر انسان کو اپنی ستر پوشی کے لیے کپڑا حاصل کرنا پڑتا تھا کیونکہ وہ ننگا نہیں رہ سکتا تھا۔ سو کپڑا انسان کو اچھا برا حاصل تھا۔ اب رہا مکان سو غریب نہ سرے محل میں رہ سکتا تھا نہ لندن کے 25 ارب کی قیمت کے فلیٹ میں وہ رہ سکتا تھا نہ کسی بلاول ہاؤس کی وہ تمنا کرسکتا تھا نہ اس کی نظریں جاتی امرا کے محلوں کی طرف اٹھ سکتی تھیں، اسے سر چھپانے کے لیے ایک چھت کی ضرورت ہوتی ہے سو وہ جھونپڑی کی شکل میں ہو یا کچے مکانوں کی شکل میں رہائش کا انتظام کرنا پڑتا تھا۔
بھٹو صاحب عوام کو کس طرح کا مکان دینا چاہتے تھے اس کی انھوں نے وضاحت نہیں کی تھی، سو یہ نعرہ بھی مبہم اور بے معنی تھا لیکن بھٹو صاحب کے پروپیگنڈے کی تکنیک ایسی تھی کہ یہ بے معنی نعرہ بہت مقبول ہوا۔ بھٹو صاحب لگ بھگ پانچ سال اقتدار میں رہے لیکن ان کے نعرے پورے نہ ہوئے یعنی وہ اپنے انتخابی نعروں کو پورا نہ کرسکے۔ غالباً اسی ناامیدی نے عوام کو بھٹو سے اس قدر بدظن کردیا کہ ضیا الحق نے انھیں پھانسی پر چڑھا دیا لیکن عوام خاموش رہے۔
بھٹو کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا محسن کش یعنی ضیا الحق برسر اقتدار آیا اور اسلامی نظام نافذ کرنے کا وعدہ کرنے کی وجہ اسے مرد مومن مرد حق کہا گیا لیکن یہ وعدہ محض عوام کو خوش کرنے کے لیے تھا سو وفا نہ ہوا۔ چونکہ یہ وعدہ ایک فوجی آمر کا تھا سو اس کے وفا نہ کرنے کا عوام نے نوٹس نہ لیا۔ ضیا الحق اس وعدے کو سیاستدانوں کی طرح عوام کو خوش کرکے اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہتا تھا سو وہ 11 سال تک ملک پر قابض رہا اور ان گیارہ سال میں عوام کو کوڑے دیے، جیلیں دیں اور مزدوروں کو گولیاں دیں۔
ضیا الحق کے بعد جتنے بھی سیاستدان برسر اقتدار آئے وہ جھوٹے وعدوں پر برسر اقتدار آئے عوام کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ہر سیاسی جماعت کا ایک منشور ہوتا ہے اور اس منشور کی حیثیت جمہوریت کے مزار پر رکھے جانے والے پھول کی سی ہوتی ہے نہ اس پر عمل کیا جاتا ہے نہ اس کو یاد رکھا جاتا ہے یہ کاغذوں میں زندہ رہتا ہے اور کاغذوں کے کفن ہی میں اس کو دفنایا جاتا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں کی جمہوریت میں لاکھ برائیاں ہوں لیکن ان ملکوں کی سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے موقع پر عوام کے سامنے اپنا منشور پیش کرنا پڑتا ہے عوام منشور کے حوالے سے اپنا ووٹ دیتے ہیں اور منشور اور انتخابی وعدوں کو یاد ہی نہیں رکھتے بلکہ اگر یہ وعدے پورے نہ ہوئے تو عوام وعدہ کرنے والوں اور منشور پیش کرنے والوں کے گلے پکڑتے ہیں اور یہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ وعدے کرنے والے سیاستدان عوام کے درمیان رہتے ہیں اور جواب دہ ہوتے ہیں اس کے برخلاف ہمارے ملک میں خوش نما وعدے دے کر عوام سے ووٹ لینے والے سیاستدان انتخابات جیتنے کے بعد عوام کی بستیوں سے اسی طرح غائب ہوجاتے ہیں جس طرح گدھوں کے سر سے سینگ غائب رہتے ہیں۔ پھر اگلے الیکشن ہی میں یہ معززین نئے نعروں کے ساتھ عوام کی بستیوں میں تشریف لاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان کا وقت کہاں اور کس طرح گزرتا ہے؟ اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ ان کا وقت یا تو عوام کی دولت کی لوٹ مار میں گزرتا ہے یا بڑے بڑے وفدوں کے ساتھ کروڑوں روپے کے خرچے سے غیر ملکی دوروں میں گزرتا ہے یا پورے نہ ہونے والے پروجیکٹس کے سنگ بنیاد رکھنے اور ان سنگ بنیادوں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے میں گزرتا ہے۔ یہ ہے ہماری جمہوریت جو 70 سال سے اس ملک کے غریب عوام پر مسلط ہے اور اس کو آمروں سے بچانے کے لیے جمہوریت کے یہ مجاور اپنے آپس کے اختلافات بھلا کر اس طرح متحد ہوتے ہیں کہ جمہوریت ان کی سانس بنی رہتی ہے جس کے بغیر ایک منٹ گزارنے سے ان کا دم گھٹنے لگتا ہے۔
الیکشن سر پر کھڑے ہیں، اہل سیاست اقتدار حاصل کرنے کے لیے جوڑ توڑ کے ساتھ خوبصورت منشور اور متاثر کن انتخابی نعروں کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دھوکا دہی کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا یا اسے روکنے کی کوشش کی جائے گی؟
اگر ملک کے عوام بیدار ہوں اور اپوزیشن ایماندار ہو تو حکمرانوں کی خر مستیوں کو روکا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عوام کی اکثریت جمہوریت کے اسرار و رموز سے واقف ہے نہ ہماری اپوزیشن قابل اعتبار ہے ان کمزوریوں کا حکمران طبقات فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے وقت کا بڑا حصہ کرپشن کی گنگا میں ہاتھ بلکہ منہ دھونے میں گزار دیتے ہیں اور آج پاکستان کے عوام کرپشن کی انھی داستانوں کو میڈیا میں دیکھ رہے ہیں اور حیران ہو رہے ہیں۔
اہل سیاست کی ناک میں نکیل ڈالنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ الیکشن سے پہلے ہر جماعت سپریم کورٹ میں یا ایک آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن میں اپنا منشور جمع کرانے اور پانچ سال میں اس پر عملدرآمد کا شیڈول پیش کرے کہ وہ ہر سال منشور کے کتنے حصے پر عملدرآمد کرے گی ایک سال یا دو سال کے دوران سپریم کورٹ برسر اقتدار جماعت کے دیے ہوئے شیڈول کا جائزہ لے اگر شیڈول کے مطابق منشور پر حکمران عملدرآمد کر رہے ہیں تو انھیں اقتدار کی مدت پوری کرنے کے مواقع مہیا کیے جائیں اگر شیڈول کے مطابق منشور پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے تو ایسی حکومت کو برخاست کرکے نئے الیکشن کرائے جائیں۔ موجودہ حالات اور عوام کے سیاسی شعور کے حوالے سے اس قسم کی لگام ڈالنا ضروری ہے۔