مردم شماری اتفاق کی صورت نکالی جائے

ملک گیر مردم شماری جو 19 برس بعد ہوئی ہے اس پر اعتراضات سامنے آئے ہیں


Editorial August 30, 2017
ملک گیر مردم شماری جو 19 برس بعد ہوئی ہے اس پر اعتراضات سامنے آئے ہیں : فوٹو : فائل

ISLAMABAD: ملک گیر مردم شماری جو 19 برس بعد ہوئی ہے اس پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، سندھ حکومت سمیت اپوزیشن اور دیگر جماعتوں نے عدم اعتماد جب کہ بعد نے اعداد و شمار کے ابتدائی نتائج کو مسترد کر کے لائحہ عمل اور احتجاج کا عندیہ دیا ہے جب کہ وفاقی حکومت نے مردم شماری کے نتائج پر سندھ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ سارا عمل شفاف طریقے سے ملک بھر میں دو مراحل میں مکمل کیا گیا، نتائج تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، بلوچستان کے علاوہ تینوں صوبوں کی مانیٹرنگ کمیٹیاں مردم شماری کے عمل کی نگرانی کرتی رہیں، نتائج لوگوں سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ، محکمہ شماریات نے اس امر کی وضاحت کی کہ فوج اور محکمہ کے پاس ایک جیسے نتائج ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ ایک طویل تعطل کے بعد ہونے والی مردم شماری کے نتائج سے اصولی اتفاق کی کوئی مشترکہ کوشش تمام اسٹیک ہولڈرز کو کرنی چاہیے اور اس کا جلد کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونا چاہیے اور کوشش یہ ہونی چاہیے اس نازک اور انتہائی اہم کام کی تکمیل میں وفاقی حکومت، عسکری قیادت، صوبائی حکومتوں اور گھر گھر شمار کنندگان نے جس جذبہ اور کمٹمنٹ کے ساتھ اس مشن کی تکمیل کی ہے اسے پوائنٹ اسکورنگ کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور جہاں بھی کوئی کوتاہی، لغزش یا تکنیکی کمی واقع ہوئی ہے، عملی سقم نظر آرہا ہو تو اس کا شفاف طریقہ سے حل تلاش کرنے کی تعمیری انداز میں سعی کی جانی چاہیے۔

جمہوریت اگر فیئر پلے کا نام ہے تو پیپلز پارٹی سندھ، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) ، پاک سرزمین پارٹی ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی سمیت تمام ملک گیر سیاسی جماعتیں مسئلہ کا ٹھندے دل سے حل ڈھونڈیں، مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرنا یا اعدادو شمار پر عدم اعتماد ظاہر کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے کیونکہ مردم شماری انتھک اور خالصتاً تکنیکی عمل ہے اور برسوں بعد ایک جمہوری فضا میں ایک آئینی ضرورت کی طرف رجوع کیا گیا ہے ۔ پیر کو جاری ایک بیان میں نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت قومی مالیاتی ایوارڈ میں سندھ کا حصہ نہ بڑھانے کے لیے مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم ظاہر کی ہے تاکہ سندھ کا قابل تقسیم پول میں سے حصہ نہ بڑھ سکے۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے چار ویمن کرائسس سینٹر کھولنے کے مقدمہ میں آبزرویشن دی کہ تازہ مردم شماری میں خواتین کی آبادی کم ظاہر کی گئی، خواتین کو غلام بنانے کے بجائے بااختیار بنانا ہوگا، جب کہ بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین نوابزادہ سراج رئیسانی نے کہا ہے کہ مردم شماری کے افتتاحی نتائج کو متنازعہ بنانے والے خود سندھ میں متنازعہ ہیں ، فوج کی نگرانی میں مردم شماری کا عمل صاف اور شفاف ہوا ہے سندھ مردم شماری کو متنازعہ بناکر سازش نہ کریں۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں خیبر پختونخوا کی نمایندگی نہیں،آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ مردم شماری پر تحفظات ہیں۔

مردم شماری میں شفافیت کی بنیادی شرط جمہوری ملکوں میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ مردم شماری قطعی سیاسی نہ ہو، ایک زمانہ تھا کہ مہذب ملکوں میں مردم شماری کی مینڈیٹری حیثیت کو شہری ہراسمنٹ سے تعبیر کرتے اور اسے ایک بوجھ سجھتے تھے، اندازہ کیجیے کہ شماریاتی ڈویژن کے مشیر آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نتائج پیش ہوئے تو کسی وزیر نے اعتراض نہیں کیا ، ادارہ شماریات کے ایک رکن شماریات حبیب اللہ خٹک کا کہنا ہے تمام صوبوں میں مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں، ان کمیٹیوں کو بریفنگ دیتے رہے، وفاقی حکام کے مطابق مردم شماری کے حوالے سے شکایات کو نمٹانے کے لیے اضافی وقت دیا گیا تھا، سندھ سمیت اس حوالے سے جن حلقوں نے مردم و خانہ شماری کے نتائج پر اعتراضات اٹھائے ہیں وہ درست نہیں۔ یہ استدلال قابل غور ہے کہ مردم شماری کے لیے عوام کے بے حد اصرار پر فوج نے اس عمل میں شراکت اور اس کی مانیٹرنگ کی ذمے داری لے لی تھی۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی مین اسٹریم اور سول سوسائٹی کو مطمئن کرنے کے لیے مناسب فورم پر مکالمہ ہو جب کہ مردم شماری سے جڑی ہوئی سب سے اہم حقیقت ملکی اقتصادی ، سماجی اور دیگر انتظامی شعبوں کی ترقیاتی اسکیموں کو نئی مردم شماری نتائج سے ہم آہنگ کرنے کی ہے تاکہ ایک سائنسی اور مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ ملکی معیشت کو استحکام ملے، صحت تعلیم ، روزگار، رہائش، ٹرانسپورٹ، بلدیاتی مسائل حل ہوں ، عوام کو جمہوری ریلیف اور ثمرات سے مستفید کرنے کے مواقع میسر ہوں، مردم شماری ریکارڈ کو اتفاق رائے کے بعد ایک ٹھوس، شفاف اور قابل اعتبار میکنزم کی بنیاد ملنی چاہیے جس کا ایک مستقل مانیٹرنگ سسٹم وقفہ وقفہ سے جائزہ لیتا رہے اور شکایات کا وہیں ازالہ ہو، دوسرا بڑا مرحلہ ان نتائج پر مبنی نئی انتخابی حلقوں کی تیاری اور منظوری کا ہے، اس لیے اس ایشو کو حکومت ، سیاسی جماعتیں اور شماریاتی ڈویژن سنجیدگی سے طے کریں۔ دور اندیشی اور صبر و تحمل کا تقاضہ ہے کہ اس مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتیں اصولی موقف اختیار کر کے معاملہ کو جلد حل کریں کریں۔