کھٹملوں کی شاخ زرین کرسی مل
کھٹملوں کی ایک اور قسم انتہائی ناپسندیدہ ہوتی ہے
کھٹمل ویسے بھی کوئی پسندیدہ مخلوق نہیں ہے اور ان کے لیے تقدیر اور تدبیر کے دونوں قاضیوں نے مرگ مناجات کی سزا طے کر رکھی ہے یعنی ان کا شمار ان موذیوں میں ہوتا ہے جنھیں '' قبل الایذا '' بھی مارنا ضروری ہے ۔لیکن ان میں بعض اقسام تو نہایت ہی ناپسندیدہ اور فوری طور پر واجب القتل ہوتی ہیں، ان میں ایک قسم تو وہ ہے جس کا رونا ایک ہندی فلمی گانے میں بھی رویا گیا کہ یہ ان خاص الخاص ''جسموں '' پر ناجائز اور بالکل ہی بغیر کسی استحاق تجاوز کردیتے جن کو دیکھنے کو '' آنکھیں ترستیاں ''ہیں۔ کچھ عشاق تو ان جسموں کو ایک نظر دیکھنے کو ترستے رہتے ہیں اور یہ کم بخت کھٹمل ان مخملیں جسموں پر نہ صرف چہل قدمی کرتے رہتے ہیں بلکہ ''خون '' بھی چوس لیتے ہیں وہ خون اگر کسی عاشق کو مل جائے تو اسی جگہ واری صدقے ہوکر اور تڑپ تڑپ کر جان دے ڈالے اور یہ کم بخت بغیر کسی رشتے کسی استحقاق کسی ادائیگی اور کسی تردد کے ان پر رواں دواں رہتے ہیں۔
عشاق کے نزدیک تو کھٹملوں کی اس قسم کے لیے صرف ایک ہی سزا ہے اور یہ وہی سزا ہے جو بدترین رقیب کے لیے طے شدہ ہے۔لیکن کھٹملوں کی یہ قسم کوئی خاص یا مستقل قسم کی نہیں ہے کبھی کبھی کوئی کوئی کھٹمل اتفاقاً حادثتاً یا ضرورتاً یہ پیشہ اختیار کر لیتا ہے جو عشاق اور شعرا کا ناپسندیدہ ہے۔ ان بے چاروں کو تو یہ بھی پتہ نہیںہوتا کہ وہ جس بدن پر رزق بلکہ رزق حلال کی تلاش میں پھر رہے ہیں وہ مخملی ہے یا کمبلی ان کو ایک دو بوند خون چاہیے ہوتا ہے، چاہے کہیں بھی ہاتھ بلکہ منہ لگے یعنی
مے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو
ایک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
لیکن عشاق اپنی جگہ صحیح ہیں بلکہ ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عشاق لوگ تو اس رقیب روسیاہ کو دو ناخنوں کے درمیان کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں اور اگر ہم ہوتے تو اسے کسی سو من وزنی ٹرک کے ٹائر تلے رکھنا پسند کرتے یا کسی ریل کی پٹری پر کسی طرح چپکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مگر کھٹملوں کی ایک اور قسم انتہائی ناپسندیدہ ہوتی ہے بلکہ اسے قسم کے بجائے ایک الگ خاندان یا قبیلہ یا برادری کہنا چاہیے جو نسلی اورنسبی لحاظ سے تو کھٹمل ہوتے ہیں لیکن اپنا خاندان الگ کر چکے ہیں بلکہ نام تک بدل چکے ہیں اور کھٹمل یعنی کھاٹ مل کی جگہ'' کسر سی مل ''کہلاتے ہیں، اسے ایک طرح سے آپ کھٹمل قوم کا اشرافیہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ عام کھٹمل بیچارے عوام کی طرح اب بھی کھاٹ میں ملتے ہیں جب کہ یہ لوگ کرسی نشین ہوکر خاص بن چکے، رہائش بھی تبدیل کر چکے ہیں۔ کھاٹ مل عام آبادی یعنی کھاٹ میں رہائش پذیر ہوتے ہیں جب کہ یہ کرسی مل لوگ نقل مکانی کر کے ''پوش '' ایریاز میں رہتے ہیں اگر چہ یہ مقام اور کام کے ساتھ بھی تبدیل کرکے کرسی مل ہو چکے ہیں لیکن لیڈروں کی طرح انسانی یا عوامی زمرے سے نکل بھی نہیں سکتے چنانچہ جس طرح کسی نشین لوگ کبھی کبھی خود کو کھاٹ ملوں میں شمار کرلیتے ہیں خاص طور پر الیکشن کے دنوں میں اسی طرح یہ کرسی مل بھی کبھی کبھی خود کو کھاٹ مل کہہ اور لکھ لیتے ہیں۔
باقی دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے کہاں مدقوق لاغر قحط مارے بھک مرے کھاٹ مل اور کہاں فربہ پرگوشت ہٹے کٹے موٹے تازے اور کھاتے پیتے کرسی مل ۔ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی بلکہ کہاں غفورا اور کہاں سیٹھ عبدالغفور ، بقول رئیس امروہوی
کشتگان غرور کی باتیں
صاحبان غرور کیا جانیں
اور غفورے پہ جو گزرتی ہے
سیٹھ عبدالغفور کیا جانیں
بیچارے غفورے کو اول تو خالی کھاٹ میں یہاں وہاں ہر پھر کر خوراک کے لیے خوار ہونا پڑتا ہے اور اگر کبھی کسی کھاٹ نشین کو اتفاق سے کھاٹ پر بیٹھنے کا موقع مل جائے تو اس کے جسم سے وہ بے پناہ بدبو آتی ہے کہ کھاٹ مل کا بھی سرچکرا جائے پھر جب پیاس سے مجبور ہوکروہ اس کا خون پینے کی سعی کرتا ہے تو وہاں خون تو نہیں ہوتا ایک قسم کا پتلا نیم سرخ نیم زرد سیال ہوتا ہے جس میں مٹھاس نام کو بھی نہیں ہوتی میٹھا بد مزہ بد ذائقہ کڑوا ترش سا کوئی سیال ہوتا ہے لیکن بیچارے کھاٹ مل کو زہر مار کرنا پڑتا ہے جس کے اثرات سے اب آہستہ آہستہ کھاٹ مل بھی ان ہی خداماروں کی طرح مدقوق لاغر اور ناتواں بنتے جا رہے ہیں بلکہ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ دنوں ہفتوں اورمہینوں تک کھاٹ خالی بلکہ اُلٹی بھی پڑی رہتی ہے، اس عرصے میں کھاٹ گویا ایک سے چاہیے ''ان شن'' پر ہوتے ہیں۔اس کے برعکس اشرافیہ یعنی کرسی مل ان کا تو ہر دن عید اور ہر رات شب برات ہوتی ہے، کرسی نشین لوگ اول تو کرسی سے اُٹھتے نہیں اوراگر ایک اٹھتا ہے تو دوسرا پہلے سے انتظار میں ہوتا ہے کہ یہ اٹھے تووہ دھب سے بیٹھ جائے بلکہ اکثر تو ایک دوسرے کو کھینچ کھانچ اور گرا کر کرسی پر بیٹھتے ہیں گویا ہر وقت نیا '' دسترخوان''۔
اور پھر خون بھی وہ جس میں دنیا جہاں کے پھلوں مرغوں چرغوں شرینیوں چکنائیوں اور خوشبؤوں کا ملن ہوتا ہے، شربتوں میں ایک خاص شربت کو مکس فروٹ کہا جاتا ہے لیکن کرسی نشینوں کا مکس فروٹ صرف فروٹ کا ہی نہیں ڈرائی فروٹ لحمیات معدنیات اور اے سے لے کر زیڈ تک وٹامنوں اور پروٹینوں کا مرکب ہوتا ہے، کہ ایک گھونٹ بھروں تو ماء اللحم طیوری اصلی جوہردار کا مزا آجائے اور اتنی آسان اتنی سہل خوراک کہ کرسی چھین جانے کے ڈر سے کرسی مل گول پہلو بھی نہ بدلیں اور پھر اتنے ہر خون اور بھرے پُرے جسم کہ منہ لگانے کی بھی ضرورت نہیں تھوڑی دور سے بھی کھینچو تو منہ بھر بھر جائے
اک گھونٹ میں نے پی
اور سیر دنیا کی دیکھو میں کرکے آگیا