دو خطرناک محاذ

شمالی کوریا امریکا کے مقابلے میں ایک کمزور ملک ہے


Zaheer Akhter Bedari August 31, 2017
[email protected]

شمالی کوریا اور امریکا کی محاذ آرائی کا سبب ایٹمی ہتھیار ہیں، شمالی کوریا امریکا اور جنوبی کوریا کے اتحاد کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ایٹمی ہتھیار تیارکر رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکی حکمرانوں کا موقف یہ ہے کہ شمالی کوریا کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیارکا رہنا دنیا کے لیے ایک خطرناک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور امریکا اور اس کے اتحادی کسی قیمت پر شمالی کوریا کی ایٹمی حیثیت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ادھر شمالی کوریا کی قیادت بضد ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار اپنے پاس رکھے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر اسے امریکی شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال بھی کرے گی۔ دونوں ملکوں کے اس سخت موقف کی وجہ سے دنیا کے اہل علم اور اہل دانش سخت تشویش میں مبتلا ہیں کہ کیا دنیا ایٹمی جنگوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بعینہ یہی صورتحال بھارت اور چین کے درمیان پیدا ہو رہی ہے چین کا موقف ہے کہ بھارتی فوجی چین کے سرحدی شہر ڈوکلام میں گھس رہے ہیں اور چین اپنی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کے فوجیوں کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا۔ صاحب الرائے حلقے دونوں ملکوں کے اس سخت موقف کو جنگ کا پیش خیمہ کہہ رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس خوف کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جنگ چھڑ جاتی ہے تو کیا یہ جنگ ایٹمی جنگ میں نہیں بدل سکتی؟ کیونکہ دونوں ملک ایٹمی ملک ہیں اور بڑی تعداد میں ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ کیا دونوں محاذوں پر جو جنگی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اس کے اسباب ایٹمی جنگوں کے حوالے سے منطقی ہیں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے جو دو کم طاقت والے ایٹم بم استعمال کیے تھے اس سے پیدا ہونے والی تباہی کے بعد بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور خطرناک حد تک ذخیرہ اندوزی منطقی ہے اور دنیا کے انسانوں کی تباہی کا ذریعہ نہیں بنیں گے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں محاذوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی نہ صرف ان متحارب ملکوں کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ ساری دنیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس قسم کی خطرناک صورتحال پیدا کرنے کا اختیار چند حکمرانوں کو کس طرح دیا جاسکتا ہے؟

اس حوالے سے اگر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس خطرناک ترین صورتحال کے پیدا ہونے کے اسباب کیا ہیں تو جواب یہی آتا ہے کہ یہ ساری صورتحال انسانوں کی تقسیم کا نتیجہ ہے۔ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا صدیوں سے ایک قوم تھے لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد متحدہ کوریا کے دو ٹکڑے کرکے انھیں دو ملکوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ایک ملک کی یہ تقسیم ایک ہی ملک کے عوام کی تقسیم میں بدل گئی اور سامراجی ملکوں نے اس تقسیم کو محض اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے ایٹمی جنگوں تک پہنچا دیا۔

انسانوں کی تقسیم آخر کار ملکوں کی تقسیم میں بدل گئی اور آج ساری دنیا اس تقسیم کی وجہ سے تباہ کن حالات کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ ہی کے بعد جرمنی کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس تقسیم کے ذمے داروں نے ذرہ برابر شرم محسوس نہیں کہ سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے انسانوں اور ملکوں کی تقسیم اپنے ساتھ کس قدر خوفناک مسائل لاتی ہے۔ 1947 میں ہندوستان کو تقسیم کردیا گیا۔ اس تقسیم کی وجہ دین دھرم کا تضاد تھا۔ اس تضاد نے نہ صرف ہزاروں سال سے متحد ملک کا بٹوارا کردیا بلکہ 22لاکھ بے گناہ انسان اس تقسیم کی نذر ہوگئے۔

مشرق وسطیٰ میں ایک خطرناک تقسیم ہوئی اور اس تقسیم کی وجہ سے یہاں بھی 70 سالوں سے انسانوں کا خون بہہ رہا ہے اور اسی تقسیم کے فریق فلسطینی اور یہودی ہیں کیا یہ تقسیم آسمانی ہے یا زمینی؟ بلاشبہ یہ تقسیم انسانوں ہی کی پیدا کردہ ہے یہاں بھی ایک فریق ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ایٹمی ہتھیار دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ اگر ان ذخائر سے نصف سے بھی کم ہتھیار استعمال ہوں تو دنیا تباہ ہوجائے گی۔ اور المیہ یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا اختیار ایسے تنگ نظر اور کم ظرف لوگوں کے پاس ہے جو اپنی ناک سے آگے دیکھنے کے اہل نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے دنیا بھر کے حکمرانوں کے ہاتھوں میں قومی مفادات کا ایک ایسا فلسفہ تھمادیا ہے کہ اس فلسفے نے دنیا کو جہنم میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ قومی مفادات کے لیے قوم کا ہونا ضروری ہے سو سیاسی بدبختوں نے انسانوں کو سیکڑوں قوموں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے اور ان قوموں کے درمیان قومی مفاد کی ایک ایسی دیوار کھڑی کردی ہے کہ ہر قوم اس دیوار کے اندر محصور ہے۔

دنیا میں جہاں ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا اختیار رکھنے والے لوگ موجود ہیں وہیں ایٹمی ہتھیاروں سے پیدا ہونے والی تباہی کا ادراک رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ یہ ان کی ذمے داری نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس آواز کو ایک طاقتور تحریک میں بدل دیں تاکہ دنیا ان تباہ کن ہتھیاروں سے نجات حاصل کرسکے ۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ اہل سیاست مذہبی قیادت اور حکمران طبقات ایٹمی ہتھیاروں پر فخر کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام کو اس فخرمیں شامل کرکے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔

چینی اور ہندوستانی دو الگ الگ قومیں ہیں اور زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے ایک دوسرے سے برسر پیکارہیں دونوں ملکوں کے پاس اس متنازعہ زمین کے ٹکڑے کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ بے استعمال زمین پڑی ہوئی ہے لیکن زمین کے اس ٹکڑے کی ملکیت پر دونوں ملکوں کو اس لیے اصرار ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک جغرافیائی لکیر لگا دی گئی ہے۔ شمالی کورین اور جنوبی کورین کا تعلق ایک ہی قوم سے ہے انھیں زبردستی اپنے مفادات کے لیے تقسیم کرکے ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا گیا ہے اور جنوبی کوریا کی پشت پر امریکا کھڑا ہے جو جنوبی کوریا میں اپنی فوج رکھتا ہے، جنوبی کوریا میں اس کے فوجی اڈے ہیں یہ سب اس لیے ہیں کہ امریکا اس علاقے میں اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ دنیا کو اپنی طاقت سے خوفزدہ رکھے۔

شمالی کوریا امریکا کے مقابلے میں ایک کمزور ملک ہے لیکن ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے وہ اب اس قدر طاقتور ہوگیا ہے کہ وہ دنیا کی سپرپاور کو للکار رہا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی ملکوں کے حکمران غیر محتاط اور پاگل پن کی حد تک جذباتی ہیں ان کی ذرا سی جذباتیت دنیا کو ایک ایسی ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے جو اگر چھڑ جائے تو یہ دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہے گی۔ یہی حال چین اور ہندوستان کا ہے۔ چین آبادی کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اس تناظر میں اس پر یہ ذمے داری بھی آتی ہے کہ وہ چھوٹے سے سرحدی علاقے کے لیے جنگ کی طرف نہ جائے ۔ ہندوستان کا حکمران طبقہ کشمیر میں بھی زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بے گناہوں کا خون بہا رہا ہے اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک فیصلوں کا اختیار سیاستدانوں کو ہوگا۔

مقبول خبریں