جمہوری ملکوں کی دو خوبیاں
ترقی کا تسلسل ٹوٹنے کا بہانہ اس قدر عامیانہ اور بے ہودہ ہے کہ کسی ملک میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔
جمہوری ملکوں خصوصاً مغرب کے جمہوری ملکوں کی دو خوبیاں ایسی ہیں جو مسلم ملکوں میں موجود نہیں، اس حوالے سے پہلی خوبی یہ ہے کہ ان جمہوری ملکوں میں خاندانی نظام موجود نہیں نہ سیاست اور اقتدار پر چند خاندانوں کا قبضہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے دوسری خوبی یہ ہے کہ جب صدر یا وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری کرلیتا ہے تو وہ ازخود اقتدار سے الگ ہوجاتا ہے۔
ان حکمرانوں میں زندگی بھر اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش نہیں ہوتی، ان دو خوبیوں کی وجہ سے ان جمہوری ملکوں میں عوام جمہوریت کو بوجھ نہیں سمجھتے۔ ترقی یافتہ ملکوں کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنا نہیں چاہتے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھر سیاسی اور اقتصادی طور پر پسماندہ ہیں لیکن ان ملکوں کا حکمران طبقہ اپنی آئینی اور جمہوری مدت مکمل کرنے کے بعد بغیرکسی آنا کانی کے اقتدار سے الگ ہوجاتا ہے، اس حوالے سے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بھارت میں صرف اندرا گاندھی نے اقتدار سے غیر اخلاقی طور پر چمٹے رہنے کی کوشش کی لیکن اپنی اس مجرمانہ خواہش کی وجہ سے وہ بھارت کی جمہوری تاریخ کی بدنام حکمران بن گئیں۔
پاکستان پسماندہ ملکوں میں شمار ہوتا ہے لیکن پاکستان کا حکمران طبقہ اس حوالے سے اتنا ترقی پسند واقع ہوا ہے کہ وہ ایک دو بارکی اقتداری مدت سے مطمئن ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بار بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے اس مجرمانہ خواہش کو پورا کرنے کے لیے یہ شرم سے محروم اور اقتدار کا لالچی طبقہ آئین میں ترامیم سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس حوالے سے یہ عجیب و غریب عذر یا جواز پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ہم اقتدار چھوڑدیں تو وہ ترقی رک جائے گی جس کا آغاز ہم نے کیا ہے۔ ہمارے ملک میں حکمرانی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
دوسرے جمہوری ملکوں میں حکمرانوں کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ وہ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد سیاسی پارٹیوں کے سر پر سوار نہیں رہتے بلکہ اپنی باقی زندگی نجی مصروفیات میں گزار دیتے ہیں۔ ترقی کا تسلسل ٹوٹنے کا بہانہ اس قدر عامیانہ اور بے ہودہ ہے کہ کسی ملک میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اس لیے کہ اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے پیش رو کے ان کاموں کو جاری رکھتی ہے جن سے قومی مفاد وابستہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں ترقی کا تسلسل ٹوٹنے کا بہانہ کرنے والے برسوں نہیں عشروں سے اقتدار پر قابض ہیں لیکن ان کے کھاتے میں ایک بھی ایسا کام موجود نہیں جسے ترقی کا نام دیا جاسکے۔ ترقی کا ہر کام عوام سے جڑا ہوا ہوتا ہے اگر کسی ترقی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے تو اسے ہرگز ترقی نہیں کہا جاسکتا بلکہ اسے حکمران طبقے کی عیاری ہی کہا جاسکتا ہے۔
ترقی کا مطلب عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے اگر ہم اپنی 70 سالہ قومی زندگی پر نظر ڈالیں تو ترقی کا نام و نشان نظر نہیں آتا بلکہ اس کے برخلاف عوام کی زندگی اور زیادہ تنزلی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔ پاکستان کے عوام 70 سال پہلے جس غربت کا شکار تھے آج اس سے زیادہ غربت کا شکار ہیں یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک ایسی عریاں حقیقت ہے جو قدم قدم پر دیکھی جاسکتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں ترقی ہورہی ہے لیکن یہ ترقی پاکستان کی اشرافیہ اور اس کے دلالوں تک محدود ہے۔ 22 کروڑ عوام کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ کیا اس قدر سادہ لوح ہے کہ وہ ترقی کا مفہوم ہی نہیں جانتا؟ ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارا اشرافیائی حکمران طبقہ ترقی کا مفہوم جانتا ہی نہیں بلکہ اپنے اقتدار کا ہر پل ''ترقی'' میں بتا دیتا ہے۔ لیکن اس ترقی کا مطلب کروڑ پتی کے ارب پتی اور ارب پتی کے کھرب پتی بننے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس حوالے سے تازہ مثال ہمارے حکمران خاندان اور ان کے رفقا کی دی جاسکتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے نہیں بلکہ اربوں ڈالرکی کرپشن کے الزامات میں ریفرنسز عدالتوں میں کیوں اورکس کے خلاف دائر ہیں؟ کیا یہ الزامات مزدوروں کے خلاف ہیں،کسانوں کے خلاف ہیں؟ عام غریب طبقات کے خلاف ہیں؟ ڈاکٹروں کے طبقے کے خلاف ہیں؟ وکیلوں کے طبقے کے خلاف ہیں؟ ادیبوں، فنکاروں اور شاعروں کے خلاف ہیں؟
نہیں۔ یہ سارے الزامات اس اشرافیہ کے خلاف ہیں، خواہ وہ حال کے اقتداری طبقے کے خلاف ہوں یا ماضی کے اقتداری طبقے کے خلاف جہاں کرپشن کا نام آتا ہے وہاں اشرافیہ کا نام آتا ہے۔ کرپشن کئی طرح سے کی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں دو کھرب روپوں سے زیادہ کی بینک قرضے معاف کرا لیے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کیا یہ قرضے مزدوروں نے معاف کرالیے، کسانوں نے معاف کرالیے، دو کھرب کا بھاری قرضہ معاف کروانے والوں میں دو غریب بھی شامل ہیں ہمارے ایک سیاست دان بلکہ نیم سیاست دان پر 462 ارب کی کرپشن کے الزام ہیں لیکن عدالتوں میں زیر سماعت ہے یہ صاحب حاکم تو نہیں حاکموں کے فرنٹ مین کہلاتے ہیں۔
اس پس منظر میں اشرافیہ کی اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش کا مطلب ترقی میں رخنہ اندازی نہیں بلکہ لوٹ مار کی آزادی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 25،25 ارب کے فلیٹ حلال کی کمائی سے خریدے جاسکتے ہیں؟ کیا کروڑوں روپوں کی ایک ایک گاڑی کے فلیٹ حلال کی کمائی سے رکھے جاسکتے ہیں؟ کیا پندرہ پندرہ کمپنیاں حلال کی رقم سے بنائی جاسکتی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب آپ حکمرانوں کی پیشانیوں پر دیکھ سکتے ہیں۔
ہم نے اس سوال سے کالم کا آغاز کیا تھا کہ دنیا کے جمہوری ملکوں میں انتخابات میں کامیاب ہوجانے والی پارٹی اپنے جس نمائندے کو وزیراعظم نامزد کرتی ہے اس سیاسی جماعت کی سربراہی نامزد وزیراعظم یا اس کا بھائی بیٹا نہیں ہوتا پارٹی کا منتخب شخص ہی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے اور یہ انتخاب خاندانی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اپنے پڑوسی ملک بھارت ہی کو لے لیں یہاں کوئی وزیراعظم اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے آئین میں ترامیم کرتا نظر نہیں آئے گا یہاں کا وزیراعظم غریب طبقات ہی سے نکلا ہوا ہوگا۔
سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہے کہ مسلم ملکوں ہی میں تا حیات حکمرانی کی خواہش کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی میں جو شخصی حکمرانیاں پائی جاتی تھیں ان کا تعلق خاندانوں سے ہوتا تھا اب ماضی کی شخصی حکمرانیوں کا دور نہیں بلکہ جمہوری حکمرانیوں کا دور ہے لیکن مسلم ملکوں میں خاندانی اور شخصی حکمرانیاں ماضی کا ورثہ ہیں اور یہ حکمرانیاں اس وقت تک جاری رہیںگی جب تک عوام انھیں برداشت کرتے رہیںگے۔