کوریائی تنازع کے خاتمے کیلیے سفارتی آپشنز موجود ہیں امریکا

ٹلرسن اورروسی وزیر خارجہ کی ٹیلی فون پر گفتگو، کوریائی تنازع کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا


News Agencies September 01, 2017
واشنگٹن حکومت اس معاملے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے، روس۔ فوٹو: رائٹرز

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ تنازع کے خاتمے کیلیے سفارتی کوششوں کی گنجائش موجود ہے۔

جنوبی کوریائی اپنے ہم منصب سے ملاقات سے قبل امریکی وزیر دفاع نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ امریکا کے پاس سفارتی حل کے آپشنز موجود ہیں۔ دوسری جانب روس نے واشنگٹن حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے جبکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے شمالی کوریا پر ممکنہ نئی پابندیاں خطرناک ثابت ہوں گی۔

روسی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ ٹلرسن اور لاوروف نے ٹیلی فون پر گفتگو میں کوریائی تنازع کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔

دریں اثنا چین نے کوریائی جزیرہ میں جوہری مسئلہ پر کشیدگی میں اضافے سے بچنے کے لیے متعلقہ فریقوں سے رابطہ کیا ہے، چین نے جوہری مسئلے پر کوریا ئی جزیرے متعلق اپنا موقف برقرار رکھا ہے،چین دنیا بھر میں امن اور استحکام کی امید کرتا ہے۔ مذاکرات اور مشورے کے ذریعے کوریائی ایٹمی مسئلہ حل کیا جائے گا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر سنجیدگی اور مکمل طور پر عمل کیا جانا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

چین نے کہا ہے کہ شمالی کوریا پر عائد کی جانے والی پابندیاں سلامتی کونسل کے فریم ورک کے اندر ہونا چاہئیں، چین کسی بھی قسم کی یکطرفہ پابندی یا کسی ایک ملک کے مقامی قانون کے مطابق فیصلوں کی مخالفت کرتا ہے۔

مقبول خبریں