بس ایک بارش اور کراچی ڈوب گیا

طوفانی بارشوں نے کراچی کو ڈبو دیا جس سے شہری زندگی مفلوج ہو گئی


Editorial September 02, 2017
طوفانی بارشوں نے کراچی کو ڈبو دیا جس سے شہری زندگی مفلوج ہو گئی ۔ فوٹو : فائل

FAISALABAD: ایسی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملے گی کہ 70 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے رہائشی ناگہانی حالات میں لاوارث ہو کر اپنی کم مائیگی پر نوحہ کناں دکھائی دیں، لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے نہ صرف انفراسٹرکچر کی تباہ حالی کی داستان سنائی بلکہ ان تشہیری مہمات کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا جن میں سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی بلدیاتی اداروں نے شہریوں کو ریلیف کے بلند بانگ دعوے کیے تھے۔ کراچی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تیز ہواؤں کے بعد ہونے والی طوفانی بارش نے تباہی مچا دی، بجلی کا کرنٹ لگنے اور دیواریں و چھتیں گرنے سے مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق جب کہ 10 زخمی ہو گئے، کرنٹ لگنے سے قربانی کے 8 جانور بھی ہلاک ہو گئے۔

طوفانی بارشوں نے کراچی کو ڈبو دیا جس سے شہری زندگی مفلوج ہو گئی، ندی نالے اوور فلو ہونے سے اہم شاہراہیں، سڑکیں، انڈر پاسز اور اندرونی علاقے ڈوب گئے، گھروں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، ہزاروں گاڑیاں برساتی پانی میں پھنس گئیں جب کہ گڈاپ ٹاؤن میں واقع تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے برساتی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا، شدید بارش کے باعث تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، برساتی پانی 6 فٹ تک جمع ہو گیا، لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر اپنی جان بچائی۔ شہر بھر میں بدترین ٹریفک جام رہا جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہی۔ دوران بارش شہر قائد میں سیلاب کا عالم تھا، آسمان سے برستے پانی کے ساتھ ندی نالے بھی بپھر گئے تھے، ایک عرصے سے شہر میں ناقص صفائی، کچرے کے ڈھیر، سیوریج لائنوں کی خرابی کے معاملات زیر بحث تھے لیکن اس کا سدباب نہ تو صوبائی حکومت نے کیا، نہ ہی وہ بلدیاتی ادارے اس سلسلے میں کچھ کر سکے جن کے پاس اب تک اپنے اختیارات اور فنڈز کی کمی کا عذر موجود ہے۔

اور یہ حقیقت بھی ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور واٹر بورڈ صوبائی حکومت کا کام ہی نہیں ہے، زبردستی بلدیہ عظمی کراچی کے محکمے اپنے پاس رکھنے کے باوجود عوام کو کچھ ڈیلیور نہیں کیا جا رہا ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ شہر کے لیے نیا نظام درکار ہے۔ لیکن عوام اس بات کی وضاحت مانگنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ نیا نظام آئے گا کہاں سے؟ صائب ہو گا کہ سندھ حکومت سیوریج اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے نظام کو بہتر بنائے اور کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر کرے۔ مصیبت کے اس وقت میں پاک فوج نے ہمیشہ کی طرح شہریوں کی مدد کی، شہری انتظامیہ کی درخواست پر پاکستان آرمی اور نیوی نے طوفانی بارش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی کارروائیاں کیں، جب کہ پاک بحریہ نے بارش میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ اگر تمام وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی ادارے اپنی ذمے داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی نبھائیں تو عوام کے درد کا درماں ہو سکتا ہے ورنہ نیا نظام، نئے پاکستان کے نعرے صرف دل خوش کن خیال سے زیادہ کچھ نہیں۔