حرفِ آخر

اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ بایاں بازو عضو معطل بنا ہوا ہے


Zaheer Akhter Bedari September 02, 2017
[email protected]

ISLAMABAD: عام انتخابات جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں، ملک میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال ہر جمہوری ملک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ انتخابات سیاسی پارٹیوں کو عوام کی طرف سے دیا جانے والا ایک اجازت نامہ ہوتا ہے، اس اجازت نامے کو سیاسی زبان میں مینڈیٹ کہا جاتا ہے، یعنی یہ ایک ایسا لائسنس ہوتا ہے جو مینڈیٹ حاصل کرنے والی جماعت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ آئین کے تحت دی جانے والی مدت تک اقتدار میں رہے۔

اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اس لائسنس کو حاصل کرنے کے لیے ایسے ایسے پاپڑ بیلتی ہیں کہ اہل خرد حیرانی سے اس ستم رسیدہ مینڈیٹ کو دیکھتے رہتے ہیں اور عبرت پکڑتے رہتے ہیں۔ دور کیوں جائیں، 2013ء کے الیکشن پر ہی ایک نظر ڈال لیں آپ کو جمہوریت کا خوبصورت چہرہ نظر آ جائے گا۔

1977ء میں سیاسی جماعت پی پی پی پر انتخابات میں بدعنوانی کا الزام لگا کر ایسی تحریک چلائی گئی جو بھٹو کی پھانسی پر ختم ہوئی۔ 1977ء میں پیپلزپارٹی پر چند سیٹوں پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا، 2013ء کے انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ ہی کہا گیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستانی جمہوریت ہی انتخابات کے حوالے سے اس قدر داغدار کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابات جیتنے والی پارٹیاں عموماً اشرافیہ پر مشتمل ہوتی ہیں اور اشرافیہ کو اقتدار کا مزہ اتنی شدت سے لگا ہوتا ہے کہ ''چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ہوئی'' والا معاملہ ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بددیانتی سے شروع ہوتا ہے اور بددیانتی پر ختم ہوتا ہے، یوں سرمایہ دارانہ جمہوریت بھی ان ہی اصولوں کی پیروی کرتی رہتی ہے۔

ہمارے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اس حوالے سے بڑی گمبھیر ہے۔ برسر اقتدار مسلم لیگ ن کے صدر اور ملک کے وزیراعظم سنگین الزامات کی زد میں ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ان الزامات کے حوالے سے میاں محمد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ اور اپنی پارٹی کی قیادت سے نااہل قرار دے دیا ہے، یہی نہیں بلکہ نواز شریف کا پورا خاندان سنگین الزامات کی زد میں ہے۔

ان الزامات کی تحقیق جاری ہے اور اس حوالے سے تحقیقی ادارے ''نیب'' کی طرف سے میاں صاحب کے خاندان کو طلب کیا جا رہا ہے لیکن یہ خاندان نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار نہیں۔ میاں خاندان اس حوالے سے اس قدر بدنام ہو گیا ہے کہ 2018ء کے انتخابات اگر دھاندلی زدہ نہ ہوں تو مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔

اس تناظر میں گرچہ ساری سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن پیپلزپارٹی ہر قیمت پر اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی انتخابات جیت کر اقتدار میں آئی تھی، اس کی سب سے بڑی وجہ بینظیر بھٹو کا قتل تھا، اس قتل کی وجہ سے عوام کی ہمدردیاں پیپلزپارٹی کے ساتھ ہو گئیں۔ یوں پیپلزپارٹی اقتدار میں آ گئی، لیکن 2008ء سے 2013ء تک پیپلزپارٹی کی کارکردگی اس قدر مایوس کن رہی کہ 2008ء میں پورے پاکستان سے حمایت حاصل کرنے والی پارٹی 2013ء کے انتخابات میں سندھ کے دیہی علاقوں کی پارٹی بن کر رہ گئی۔

2008ء سے 2013ء تک پیپلزپارٹی کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے اس بات کا شک ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی بھی روایت کے مطابق اپنی میعاد پوری نہ کر سکے گی، لیکن مسلم لیگ ن کی خاموش حمایت کی وجہ سے پیپلزپارٹی اپنی 5 سالہ میعاد پوری کرنے میں کامیاب رہی اور اس کامیابی کو پاکستان کی تاریخ کی تاریخی کامیابی کہا گیا۔

پیپلزپارٹی 2018ء کے انتخابات کو جیتنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے لیے پنجاب میں عوام کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ میاں خاندان کی شدید بدنامی کے باوجود پنجاب پر مسلم لیگ یا میاں خاندان کی گرفت اب بھی مضبوط ہے اور پیپلزپارٹی کی قیادت حصول اقتدار کی خاطر ہر ممکنہ کوششوں میں مصروف ہے اور مسلم لیگ ن کے سامنے کھڑی ہوئی ہے اور اعلان کر رہی ہے کہ وہ کسی قیمت پر ن لیگ سے اتحاد نہیں کرے گی، لیکن پیپلزپارٹی کے رہنما زرداری ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ''سیاست میں کوئی فیصلہ حرفِ آخر'' نہیں ہوتا۔ اس احتیاط کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی ناخوشگوار اور توقع کے خلاف حالات میں پی پی مسلم لیگ ن سے اتحاد کرسکتی ہے۔

اس حوالے سے حقیقی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاست میں ن لیگ کی حقیقی اپوزیشن یا متبادل تحریک انصاف ہی ہو سکتی ہے، لیکن حکمران جماعت نے اس قدر ناخوشگوار صورتحال میں عمران خان کو دیوار سے لگانے کی بڑی حد تک کامیاب کوشش کر رہی ہے۔ عمران خان کے خلاف اتنی مہارت سے جال بُنا جا رہا ہے کہ عمران خان بڑی حد تک بے دست و پا نظر آ رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے سر سے 70 ولیوں کا سایہ ہٹتا جا رہا ہے۔ ہمارے سیزنل سیاست دان مولانا طاہر القادری جس آب و تاب سے پاکستان تشریف لا کر تحریک قصاص شروع کرنے کا اعلان کر رہے تھے، وہ لاہور کے دھرنے کے ساتھ غائب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں کہ اس بلندی، اس پستی کا کارن کیا ہے؟

اگر میاں فیملی بقول میاں صاحب خدا کے فضل سے 70 ولیوں کے عتاب سے بچ جاتی ہے تو پھر پیپلزپارٹی کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل سکتا، امکان یہی رہتا ہے کہ دو پارٹی کا باری باری کھیل جاری رہے گا۔ عمران خان کا حملے کے بجائے دفاع میں آ جانا جہاں 70 ولیوں کی پسند ناپسند کا معاملہ ہے وہیں ان کی لا ابالی طبیعت اور غلطیوں کا بھی اس میں بڑا دخل ہے۔ اس حوالے سے عمران خان پر یہ الزام باوزن ہو جاتا ہے کہ انھوں نے 5 سال کا وقت ملنے کے باوجود خیبرپختونخوا میں کچھ کر کے نہیں دکھایا۔ اگر خیبرپختونخوا میں عمران کی کارکردگی مثالی ہوتی تو پھر انھیں اس صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جس کا سامنا انھیں کرنا پڑ رہا ہے۔

اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ بایاں بازو عضو معطل بنا ہوا ہے اور انقلابی فلسفوں میں اس طرح مگن ہے کہ زمینی حقائق پر اس کی نظر جا ہی نہیں رہی ہے۔ اگر بایاں بازو فعال ہوتا تو باری باری کا کھیل کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ صرف بایاں بازو ہی اس 70 سالہ ''اسٹیٹس کو'' کو توڑ سکتا ہے۔ بائیں بازو کی نااہلی کی وجہ سے عوام عمران خان کی طرف دیکھ رہے تھے، اگر موجودہ گمبھیر صورتحال میں کوئی بامعنی تبدیلی نہیں آتی تو پھر زرداری کی یہ بات درست ثابت ہو سکتی ہے کہ ''سیاست میں کوئی فیصلہ حرفِ آخر نہیں ہوتا۔''

مقبول خبریں