دنیا اسرائیل کو فلسطین میں غیر قانونی تعمیرات سے روکے صدر زرداری

قوانین سے انکارعالمی برادری کے منہ پرطمانچہ ہے، خطاب،جدوجہد آزادی جاری رہے گی،فلسطینی صدر


Numaindgan Express February 18, 2013
دونوںممالک کاتعاون پراتفاق، پاکستان کی فلسطینی سفارتخانے کی تعمیرکیلیے 10لاکھ ڈالر کی پیشکش۔ فوٹو: فائل

صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل کوفلسطینی علاقوں میںغیرقانونی بستیوںکی تعمیرسے روکے، اگراسے نہ روکا گیاتوتنازع فلسطین کے حل کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں گی۔

عالمی قوانین سے اسرائیل کا انکار عالمی برادری کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست جسکا دارالحکومت بیت المقدس ہو ،کے قیام تک فلسطینی بھائیوں کی مکمل اوربھرپورحمایت جاری رکھے گا۔ اتوار کوایوان صدرمیں فلسطین کے صدرمحمودعباس کے اعزازمیںاستقبالیہ تقریب سے خطاب میں صدر زرداری نے کہا کہ فلسطینیوں اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت سے محروم رکھاجارہا ہے ، ہم فلسطینی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی جدوجہد آزادی ضرور رنگ لائے گی اور استعمار سے فلسطینی مسلمانوں کو آزادی حاصل ہو گی ۔

انھوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور قابل مذمت ہے۔ اس موقع پر صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی ہتھکنڈوں کے باوجود فلسطین کی جدوجہد آزادی جاری رہے گی، اسرائیل کو یہودی بستیوں کی تعمیر یاامن مذاکرات میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انھوں نے فلسطین کیلیے اقوام متحدہ میں مبصر ملک کی رکنیت کے حصول میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ دونوں صدور کے مابین ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے ، جس میں مسئلہ فلسطین کے پرامن ذرائع سے پائیدار حل اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

7

صدر مملکت نے فلسطین کو اسلام آباد میں سفارتخانے کی تعمیر کیلیے 10 لاکھ ڈالر کی گرانٹ دینے کی پیشکش بھی کی۔ بعدازاں جاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے موجودہ سیاسی تعلقات کو معاشی، زرعی، بینکنگ، تعلیم، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون میں بدلنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کیلیے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ پر مشتمل مشترکہ کمیشن بنایا جائے گا ۔ صدر نے فلسطینی ہم منصب اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا، اس موقع پر وزیراعظم راجا پرویز اشرف، چیئرمین سینیٹ، صدر آزادکشمیر اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔

محمود اچکزئی بھی اس موقع پر موجود تھے جو ظہرانے میں توجہ کا مرکز رہے ، صدر نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا، حکومتی اتحادیوں میں صرف (ق) لیگ کے شیخ وقاص اکرم نے شرکت کی ۔ قبل ازیں محمود عباس جب ایوان صدر پہنچے تو صدر زرداری اور وزیراعظم پرویز اشرف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، پاک فوج کے چاک وچوبند دستے نے مہمان صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ علاوہ ازیں فلسطین کے صدر نے شکرپڑیاں کا دورہ کیا اور زیتون کا یادگاری پودا لگایا، اس موقع پر وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین، چیئرمین سی ڈی اے سید طاہر شہباز اور دیگر حکام موجود تھے۔