کرم اور کرِم کا فرق
لیکن کچھ کرمے بالکل ہی چھپ چھپا کر انڈر گراؤنڈ رہتے ہیں صرف کرتوت دکھائی دیتے ہیں
پشتوکی ایک لوک داستان ہے ''فتح خان رابیا'' اصل میں یہ ایک نیم تاریخی قسم کا رومان ہے جسے بہت سے شاعروں نے نظم کیا ہے اس داستان میں ایک شعر ہے
دا کرمے ڈم ہر گز د بدو نہ آوڑی
چہ چرتہ بدوی د فتحے سرلہ بہ ئے راوڑی
یعنی یہ جو ''کرمے '' ڈم (میراثی ) ہے یہ ہر گز ہر گز اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتا اور جہاں کہیں کوئی ''شر '' ہوتا ہے وہ لاکر فتح خان کے سرمنڈ دیتا ہے۔
اب کرمے یا کرم خان کون ہے اس کا پورا تعارف اسی ایک شعر سے ہو جاتا ہے اور اس کردار یعنی کرمے ڈم کو اگر ہم پھیلا دیں تو تقریباً ہر کسی کا اپنا اپنا ایک کرمے ہوتا ہے جو باہر کسی شخصیت کے روپ میں بھی ہو سکتا ہے اور اندر اس کے اپنے اندر بھی ہو سکتا ہے جیسے ہمارے اندر بھی ایک ''کرمے '' بیٹھا ہے دیکھتا رہتا ہے ڈھونڈتا رہتا ہے کہ کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی شر لاکر ہمارے گلے ڈال لے۔اگر ذرا غور اور گہرائی سے دیکھا جائے تو ہماری سیاست میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک کرمے پڑا ہوا جو کبھی نچلا نہیں بیٹھتا کہیں نہ کہیں سے کوئی لفڑا ڈھونڈ کر لے ہی آتا ہے۔
فرداً فرداً یہ بتانے میں تو خطرہ گیارہ ہزار واٹ کا ہے کہ کس لیڈر پارٹی کا کرمے کون ہے اور ویسے بھی آپ بھلے ہی احمق ہوں بھولے ہوں نا سمجھ ہوں لیکن اتنے اندھے بھی نہیں ہیں کہ سیاست کی دنیا میں صاف صاف کرموں اور فتح خانوں کو دیکھ نہ سکتے ہوں کیونکہ کرمے کہیں بھی ہو کیسا بھی ہو کسی کا بھی ہو اپنے کرتوت ہی سے اپنی پہچان دے دیتا ہے ۔ہاں بعض اوقات یہ کرمے لوگ فتح خانوں کے پیچھے کچھ چھپ چھپا کر رہنے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں لیکن تھوڑے بہت نظر آہی جاتے ہیں وہ جیسا داغ دہلوی نے کہاں کہ
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
لیکن کچھ کرمے بالکل ہی چھپ چھپا کر انڈر گراؤنڈ رہتے ہیں صرف کرتوت دکھائی دیتے ہیں چہرہ دکھائی نہیں دیتا اور اصل تے وڈے بلکہ نہایت ہی ماہر کرمے یہی ہوتے ہیں۔ وہ دو بھائیوں کا قصہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا جس میں ایک مکھن کھا لیتا تھا اور ہونٹ دوسرے سوئے ہوئے بھائی کے چکنے کر لیتا تھا۔ ماں اس دوسرے کو دھنک کر رکھ دیتی اور دوسرا اپنے خشک کیے ہونٹوں سے مسکراتا رہتا تھا ۔یہ بھی ایک کہاوت ہے کہ دنیا خراڑوں نے (یہ ایک چھوٹا بھورا پرندہ ہوتا ہے ) تبا ہ کردی اور بدنام کوے ہوگئے۔
ان کرموں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ فتح خان کے کان میں ہینڈ فری کی طرح ہر وقت لگے رہتے ہیں اور ہر وقت گنگناتے رہتے ہیں دور سے لوگ دیکھتے ہیں کہ سب کچھ فتح خان کر رہا ہے حالانکہ وہ کرم خان کروا رہا ہوتا ہے، فتح خان اس میں خوش ہوتا ہے کہ ''نام '' اس کا ہو رہا ہے اور کرمے اس میں خوش کہ ''کام '' اس کا ہو رہا ہوتا ہے لیکن فتح خان یہ بالکل نہیں جانتا صرف کرمے جانتا ہے کہ ہوا جب پلٹے گی تو ساری کالک بھی فتح خان کے منہ پر لگے گی۔ اس کی جدیدترین مثال ہمیں بہت سے مقامات پر دکھائی دے رہی ہے جہاں صرف فتح خان ہی فتح خان دکھائی دیتا ہے لیکن اصل میں کئی کرمے بھی مصروف کار ہیں اور سب سے خطرناک قسم ''کرموں '' کی یہی ہے بلکہ یوں کہیے کہ ''فن کرمیت '' یا کرامت کی نہایت ہی ترقی دادہ اور ماڈرن قسم ہے کہ فتح خان سمجھتا ہے کہ سب کچھ میں کر رہا ہوں کیونکہ ان قسم کے کرموں کا طریقہ واردات یا کاروباری راز یہ ہوتا ہے کہ فتح خان کی ''میں '' کو اپنی کرمیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ویسے بھی ''میں '' اندھا بہرا گونگا یعنی صرف ''میں '' ہوتا ہے اسے صرف ''میں '' کی میں قائم رکھنے کا جنون ہوتا ہے اس لیے سمجھ ہی نہیں پاتا کہ کب اور کیسے اس کی ''میں '' میں کرمے نے اپنا رنگ بھر دیا کیونکہ یہ اعلیٰ درجے کے ''کرمے '' سب کچھ ''میں '' ہی سے کرواتے ہیں اور اسے ہر گز پتہ نہیں چلنے دیتے کہ میں کے اندر کب کسی نے اپنا میں بھر دیا ہے ۔ابکچھ مقامات پر بہت سارے کرمے ہیں جو میں کے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں اس لیے کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ کون سا ''میں '' کس کا نکلوایا ہوا ہے، جب خود میں کو پتہ نہیں کہ میرے ''میں '' کہ اندر ''میں '' کتنا ہے اور ''کرمے کتنا تو دور کے لوگوں کو کیسے اندازہ ہو سکتا ہے۔
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے
ہم بھی کیا ؟ اصل میں ہم اپنے ''کرمے '' کا رونا رونا چاہتے ہیں جو ہمارے اندر بیٹھا شرارتوں سے ہرگز باز نہیں آتا جہاں بھی جاتے ہیں یہ وہاں ہمارے لیے دو چار دشمن پیدا کر لیتا ہے چنانچہ اس وقت اگر ہم اپنے دشمنوں کا حساب لگائیں تو تقریباً تین آدمیوں میں دوکا تناسب نکلے گا، وہ بھی یوں کہ ان تین آدمیوں میں سے ایک ہم خود ہوں لیکن اس کرمے کے ہوتے ہوئے ہم خود بھی واقعی اپنے ''دوست '' ہیں ؟۔کم ازکم ہمیں تو ایسا کوئی ثبوت آج تک نہیں ملا ، اس کرمے کے کرم سے ہم نے جتنے دشمن کمائے ہیں ان کا حساب دوستوں سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ جو دوست ہیں ان کو بھی تو ایک اس '' گناہ'' میں شامل ہونا ہے۔بہر حال ایسا کوئی بندہ بشر ہمارے خیال میں تو ہو ہی نہیں سکتا جس کا کوئی کرمے نہ ہو اور اگر کسی کا کوئی کرمے دکھائی نہیں دیتا تو اس کا کرمے اس کے اندر ہی ہوتا ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی پیڑ نہیں جسے ہوا نہ لگی ہو، کرمے بھی ایک ہوا ہوتا ہے بلکہ اگر ایک ''ہوا''کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا جس سے کوئی بھی مائی کا لال اور باپ کا گلال ابھی تک بچا ہوا نہیں ہے۔ یہ جو ہمارے سامنے بڑے بڑے ناموں والے بڑے بڑے لوگ نظر آتے ہیں یہ اصل میں اتنے بُرے نہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں لیکن بیچاروں کو باہر یا اندر کے ''کرموں '' نے جکڑ رکھا ہے۔ اگر کوئی ان کے ''کرموں '' کو مارڈالے تو اندر سے یقینًا ''بندے کے پتر''نکل آئیں گے لیکن اپنی جگہ یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے کہ کیا ''کرموں '' کو مارنا ممکن ہے ؟ کیونکہ ''کرم '' کوئی ''کرم '' نہیں کہ کسی دوا سے مارے جاسکیں ۔ زیر اور زبر کا فرق بہت بڑا فرق ہوتا ہے حالانکہ دونوں ہی انسان کے اندر ہوتے ہیں۔