’اسٹیٹس کو ‘ کو توڑنے کا چانس

اس حوالے سے اس قسم کی صورتحال میں میڈیا اگر تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتا ہے


Zaheer Akhter Bedari September 07, 2017
[email protected]

جیسے جیسے انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں، پرانے پاپیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ اور تیزی آتی جا رہی ہے۔ ہمارے ملک میں آہستہ آہستہ خاندانی سیاست اور خاندانی حکمرانیوں کا جو عوام دشمن کلچر ابھرتا رہا ہے اب وہ اس قدر مستحکم ہوگیا ہے کہ ان کے بغیر سیاست اور اقتدارکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقی عوامی قوتوں کو احساس کمتری میں اس طرح مبتلا کرکے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اس عیارانہ نظام میں اپنے لیے جگہ بنانے کے بجائے اپنے آپ کو ان فٹ سمجھ کر انتخابی نظام سے الگ کیے بیٹھی ہیں ، اس منفی سیاست کی وجہ سے پورے ملک میں اشرافیہ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ بالادست اشرافیہ کے ساتھ ساتھ کمزور اطاعتی اور ضمنی سیاسی طاقتیں اقتدار مافیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد بنانے کے لیے کوشاں رہتی ہیں اور ان بے اثر اتحادیوں کے ذریعے قانون ساز اداروں میں چند نشستیں حاصل کرکے اپوزیشن کی چھتری کے نیچے کھڑی ہوجاتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی لوٹ مار کے ذریعے اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔

ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد ہمارے ملک میں دو پارٹی سسٹم مضبوط ہوا لیکن جلد سے جلد لوٹ مارکی کوششوں کی وجہ سے دو پارٹی سسٹم عوام میں بدنام اور غیرمقبول ہوتا چلا گیا یوں سیاست میں ایک خلا پیدا ہوگیا۔ اگر ملک میں عوام سے مخلص سیاسی جماعتیں ہوتیں تو اس خلا کو آسانی سے پورا کرسکتی تھیں لیکن بدقسمتی سے ایسی سیاسی طاقتیں موجود تھیں جو اس خلا کو ایک بہتر متبادل کی طرح پُرکرسکیں ۔ اس کمزوری کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے سامنے کوئی آپشن موجود نہیں اور مجبوراً بار بار آزمائے ہوئے سیاسی زعما کو ہی ایک بار پھر آزمانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں عوام دوست ٹریڈ یونین رہنماؤں، طلبا تنظیموں، ڈاکٹرز اور وکلا کی تنظیموں کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ وسائل، پبلسٹی اور شناخت سے محروم ان سیاسی جماعتوں کو آگے لانے کی کوشش کریں جو اس پورے کرپٹ نظام کو تبدیل کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہیں ملک میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جن کی قیادت ایماندار مخلص اور اہل لوگوں پر مشتمل ہے لیکن وسائل سے محرومی کی وجہ وہ عوام میں اپنی شناخت نہیں بناتیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں بھاری وسائل کے بغیر سیاست کی جا سکتی ہے نہ انتخابات لڑے جاسکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وسائل سے محروم سیاسی پارٹیاں غیر منطقی طور پر مایوسی کا شکار ہو کر انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہوکر بیٹھ گئی ہیں۔

اس حوالے سے اس قسم کی صورتحال میں میڈیا اگر تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو پھر اس کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس کرپٹ سسٹم میں تبدیلی پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر عوام میں متعارف کرائے۔ اس قسم کی شناخت سے محروم سیاسی جماعتوں کے رہنما ہمیشہ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے مالی وسائل کا حال یہ ہے کہ وہ نہ چند بینرز بنا سکتی ہیں نہ پمفلٹ اور پوسٹر نکالنے کی پوزیشن میں ہیں۔ البتہ بعض وسائل سے محروم سیاسی جماعتوں کے پاس مخلص محنتی کارکن موجود ہیں لیکن وہ بھی وسائل کی معذوری کا شکار ہیں اور سیاست کے میدان میں عضو معطل بنے ہوئے ہیں۔

اگر ملک کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو اس مایوس کن صورتحال میں تحریک انصاف روشنی کی ایک کرن کی طرح سامنے آئی ہے جس سے کوئی بڑی توقعات تو نہیں باندھی جاسکتیں لیکن اگر وہ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرے تو کچھ اور کرے نہ کرے وہ اس خاندانی نظام میں ایک بڑا سوراخ کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے اس ممکنہ کردار سے خائف اشرافیہ اپنے اختلافات کو نمائشی طور پر برقرار رکھتے ہوئے اس بات پر متحد ہے کہ عمران خان کو اقتدار کی منزل تک کسی صورت آنے نہ دیا جائے۔ اس حوالے سے عمران خان کو ذاتی زندگی کے حوالوں سے بدنام کرنے کے لیے ایسے ایسے حربے استعمال کیے جارہے ہیں ایسے ایسے ''فنکاروں'' کو سامنے لایا جا رہا ہے جو انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ عمران کی ذات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کرداروں کو سامنے لایا جا رہا ہے ان کی طرف سے پیش کی جانے والی شکایتیں نئی نہیں بہت پرانی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان شکایتوں کی پبلسٹی عین انتخابات کے قریب ہی کیوں کی جا رہی ہے؟

اس ملک کی سیاست کو عوام کے لیے شجر ممنوعہ بناکر رکھ دیا گیا ہے اور یہ بدترین صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ملکی سیاست میں خاندانی نظام برقرار رہے گا۔ ملک میں ایسی چھوٹی چھوٹی شناخت اور وسائل سے محروم جماعتیں موجود ہیں جو خاندانی سیاست کے تباہ کن اثرات کا ادراک رکھتی ہیں لیکن وہ اس مضبوط نظام کو توڑنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔

برسر اقتدار جماعت اپنے سربراہ کی نااہلی کے بعد اگرچہ سخت مشکلات کا شکار ہے لیکن وسائل کی بھرمار میڈیا کی کنفیوژڈ پالیسیوں کی وجہ سے ابھی تک کھڑی ہوئی ہے اس کا سب سے بڑا سہارا پنجاب کی حکومت ہے۔ شریف خاندان اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے کہ جب تک پنجاب میں چھوٹے میاں کی حکومت مضبوط ہے وہ ہر آفت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ بوجوہ پنجاب کا ووٹ بینک ابھی تک حکمران طبقے کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس ہتھیار کے ذریعے مخالفین کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ حریف جماعتوں کو بھی ہے۔

چونکہ برسر اقتدار طبقے کا مقابلہ بڑی حد تک تحریک انصاف ہی کرسکتی ہے لیکن پنجاب میں اسے بھی سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک تو تحریک انصاف کو عوامی مفادات، عوام کے دیرینہ مسائل کے حل پر مشتمل انتخابی منشور بنانا ہوگا اور پنجاب میں ان چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملانا ہوگا جو اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے پر اتفاق کرتی ہیں۔ پنجاب میں مزدوروں، کسانوں، طلبا، ڈاکٹرز، وکلا کی تنظیمیں موجود ہیں جو اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کی اہمیت سے واقف ہیں، نادیدہ قوتوں پر انحصار کے بجائے ان دیدہ قوتوں کو ساتھ ملانے سے تحریک انصاف پنجاب کے ووٹ بینک کو متاثر کرسکتی ہے۔ مسئلہ کسی حوالے سے بھی محض ایک فرد واحد یا ایک خاندان سے چھٹکارا حاصل کرنے کا نہیں بلکہ اس طاقتور اسٹیٹس کو کو توڑنے کا ہے جو 70 سال سے عوام کے سروں پر مسلط ہے۔

مقبول خبریں