جنوبی کوریا میں امریکی میزائل شکن نظام نصب

پیانگ یانگ سے لاحق خطرات کے نام پر میزائلوں کی تنصیب، کوریائی شہریوں اور چین کا شدید احتجاج


News Agencies September 08, 2017
شمالی کوریا کیخلاف جاپان اور سیئول کا سخت موقف اپنانے کا اعلان، ٹرمپ کے مشیروں کی کانگریس ارکان سے ملاقات۔ فوٹو: نیٹ

جنوبی کوریا نے امریکی میزائل شکن نظام ''تھاڈ'' نصب کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی اضافی میزائل لانچرز کی تنصیب بھی شروع کر دی گئی، تنصیب کا مقصد شمالی کوریا کے کسی ممکنہ میزائل حملے کو روکنا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوان نے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکا شمالی کوریا سے لاحق خطرات کے نام پر میزائلوں کی تنصیب اور تمام متعلقہ فوجی نقل و حرکت ختم کر دیں، انھوں نے کہاکہ چین جنوبی کوریا سے سفارتی سطح پر اپنے سخت احتجاج کا اظہار کرے گا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کے اعلیٰ اراکین نے کانگریس کے ارکان کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ میں شمالی کوریائی بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔

میٹنگ میں صدر ٹرمپ کے شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف کو بھی زیر بحث لایا گیا، شمالی کوریا کے تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شمالی کوریا ایسے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قریب ہے جنھیں میزائلوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا جا سکے۔ اس شدید تناؤ کے دوران جنوبی کوریا نے امریکی میزائل شکن نظام پر مشتمل مزید 4 لانچر نصب کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سب سے بڑے حلیف ملک چین سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہمسائے کے اشتعال انگیز اقدامات کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے، دریں اثنا اسامہ بن لادن کو قتل کرنے والے امریکی سیلز کو شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان کو مارنے کی ذمے داری دینے پر غورکیا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبار کا دعویٰ ہے کہ جنگ کی صورت میں سیلز ٹیم۔ 6جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر کم جانگ کو مارنے کی کوشش کرے گی، جنوبی کوریا کے صدر مْون جے اِن اور جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ شمالی کوریا کے شہریوں نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ایٹمی تجربے کی خوشی میں اپنے ملک کے سائنسدانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جشن منایا، اس دوران آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔

مقبول خبریں