خارجہ پالیسی نئے حالات سے ہم آہنگ ہونی چاہیے

افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی


Editorial September 09, 2017
افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ۔ فوٹو : فائل

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے، افغانستان میں فوجی کارروائی کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی، امریکی صدر کی نئی افغان پالیسی ناکام ہو جائے گی، ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا حال پہلے منصوبوں جیسا ہی ہوگا، کسی کو افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہیں دینگے، بھارت کو افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال کرنے سے روکنا ہوگا۔ وزیراعظم کو سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے بریفنگ دی اور سفیروں کی جانب سے تیار کردہ سفارشات پیش کی گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں معاشی ترقی پر فوکس کرنا ہو گا کیونکہ ملکی معیشت بہتر ہو گی تو دنیا ہماری بات سنے گی، انھوں نے برآمدات میں اضافے اور معیشت کی بہتری کے لیے وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کو مل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا پاکستان ایک خود دار ملک ہے، اسے قربانی کا بکرا نہیں بننے دیں گے، اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے، پاکستان اور امریکا کے تعلقات ختم نہیں ہوئے، دونوں ممالک کے روابط کو ملکی مفادات کی نظر سے دیکھا جائے گا، خطے میں بدلتے حالات کے تحت ہی پاکستان کو نئی سمت کا تعین کرنا ہوگا، واشنگٹن کو خطے کی صورت حال کا ادراک نہیں' امریکا سے تعلقات ختم نہیں کر رہے ہیں' خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینگے۔

گزشتہ چند ماہ سے نہ صرف ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں' نئے اتحاد وجود میں آ رہے جس کے باعث مختلف ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط مضبوط ہو رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نئے اتحاد دہشت گردی پر بھی اپنی توجہ فوکس کیے ہوئے ہیں' تشویشناک امر یہ ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ان ممالک کا تمام فوکس پاکستان پر ہے، امریکا بھی افغانستان میں دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد ساری صورت حال کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کررہا اور اس منصوبے میں بھارت اس کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے' برکس کانفرنس میں بھی بھارت نے پاکستان کو دہشت گردوں کی بڑی آماجگاہ قرار دینے کے لیے درپردہ سفارتی کوششیں کیں' وہ اپنی اس کوششوں میں کس حد تک کامیاب ہوا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن دنیا میں پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات نے ضرور جنم لیا۔ عالمی دنیا سے کٹ کر کوئی ملک بھی تنہا اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتا اس لیے دیگر ممالک کی جانب سے اٹھائی جانے والی آوازوں پر توجہ دینا اور انھیں قائل کرنے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پریشان کن صورت حال یہ ہے کہ دنیا پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتی رہی لیکن وزیر خارجہ نہ ہونے کے باعث اس معاملے میں پاکستان عالمی سطح پر موثر طور پر نہ اپنی آواز اٹھا سکا اور نہ بہتر سفارتکاری کے ذریعے دنیا کو اس بات پر قائل کر سکا کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں جب کہ یہ عفریت امریکا اور اس کے اتحادیوں ہی کا اس پر مسلط کردہ ہے۔ وزارت خارجہ کی ان کمزوریوں کا اعتراف نئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی ان الفاظ میں کیا کہ ایک ماہ میں اندازہ ہو گیا کہ ہماری خارجہ پالیسی بحران کا شکار ہے تاہم افسران نے اس پر قابو پایا، ہمیں شدت سے احساس ہے کہ دنیا ہماری قربانیوں کو دوسرے انداز میں دیکھتی ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں اور اب ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر سرد مہری کی نذر ہو رہے ہیں لیکن ان حالات میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے پالیسی سمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ختم نہیں ہوئے' اب امریکا پر پاکستان کا انحصار کم ہو گیا لیکن دونوں ملکوں کے روابط کو ملکی مفادات کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرنے والے ممالک کے ساتھ ہی آگے بڑھا جائے گا' اس جنگ میں ہم نے کھویا ہی ہے پایا کچھ نہیں' دنیا تسلیم کرے یا نہ کرے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں' ہمیں دنیا کا نقطہ نظر تبدیل کرنا ہو گا۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے سفارتی محاذ پر جس قدر سرگرم ہے اس کے پیش نظر دنیا کا نقطہ نظر تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط حالات سے ہم آہنگ بنانا اور بیرون ملک پاکستانی سفیروں کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرنا ہو گا' صرف ملکی سطح پر بیانات دینے سے بات نہیں بنے گی۔