دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز اور مسلسل آپریشنز کی ضرورت

گزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی


Editorial September 10, 2017
گزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی ۔ فوٹو : فائل

گزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال اور آپریشن ردالفساد میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی سے مکمل نجات دلانے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے، انھوں نے واضح کیا کہ ہمارے نزدیک کوئی اچھا یا برا دہشتگرد نہیں، سب کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری ہے۔

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گرد گروہوں میں اچھے یا برے کا امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دہشت گرد گروہوں میں اچھے اور برے کی تقسیم کر کے کوئی راہ عمل متعین کیا جائے گا تو یہ کبھی فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی واضح ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے کثیرالجہتی مقاصد اور نظریات ہیں، کہیں یہ گروپ قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، کہیں لسانیت کا ماسک پہنے ہوئے ہیں اور کہیں مذہبی فرقہ واریت کی آڑ میں کام کر رہے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہا ہے، یہ انتہائی مشکل جنگ ہے۔ فاٹا اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد گروہوں کا رنگ اور ہے، کراچی میں کچھ اور ہے، پنجاب اور بلوچستان میں کچھ اور ہے۔ گزشتہ روز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ایک مذہبی شخصیت کو ان کے صاحبزادے، ان کے سیکریٹری اور گارڈ سمیت اغوا کیا گیا ہے۔ یہ ایک تشویش ناک واردات ہے۔ دہشت گردوں کے ماسٹر مایند ملک کو ہر طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں ایک جانب قوم پرستی کے نام پر تخریب کاریاں ہوتی ہیں تو دوسری جانب مذہبی اور فرقہ واردیت کے نام پر بھی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ ادھر بدقسمتی سے غیرملکی طاقتیں بھی اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ ایسے حالات میں دہشت گردوں کے تمام گروہوں کے خلاف مسلسل اور بلاروک ٹوک آپریشن جاری رکھنا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک اہم اقدام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار وعمل کی جانچ پڑتال کرنا بھی ہے۔

دہشت گردی اور جرائم پر قابو پانے کے لیے درست اطلاعات انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ اگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار مشکوک یا کمزور ہو گا تو پھر دہشت گردوں پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو گا۔ بہرحال کورکمانڈر کانفرنس میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی بات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی فورسز اپنا کام درست انداز میں کر رہی ہیں اور اگر یہ کام جاری رہا تو وطن عزیز سے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔