روہنگیا مسلمانوں کے لیے او آئی سی کی اپیل

روہنگیا مسلمانوں کی درد انگیز اور اندوہ ناک صورتحال پر او آئی سی کا نمایندہ اجلاس خوش آیند اور بروقت ہے


Editorial September 12, 2017
میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار اور ان کے قتل عام کے خلاف جو موقف اختیار کیا گیا۔ فوٹو : فائل

قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی تحقیقات کرے اور میانمار حکومت سے اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو حقائق جاننے کے لیے علاقے میں جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتوار کو آستانہ میں سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے افتتاحی سیشن کی صدارت قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بایوف نے کی۔ دریں اثنا میانمار کی ریاست رخائن میں سرگرم باغیوں نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

ارکان روہنگیا سالویشین آرمی کے مطابق جنگ بندی اس وجہ سے کی جارہی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز ہوسکے۔اس ریاست میں حکومتی فوجی آپریشن کی وجہ سے سیکڑوں افراد ہلاک جب کہ3 لاکھ بے گھر افراد نے بنگلہ دیش نقل مکانی کی ہے۔ رخائن میں مسلح کارروائیاں کرنے والا عسکری گروہ خود کو ارکان روہنگیا سالویشین آرمی کے نام سے پکارتا ہے اور اس نے جنگ بندی کا یہ پیغام ٹویٹر پر جاری کیا ہے۔

پیغام میں میانمار کی سرکاری فورسز سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بدلے میں بلا امتیاز تمام متاثرین کی مدد کریں۔ میانمار حکومت کی طرف سے ابھی اس حوالے سے کوئی بھی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے میانمار میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو بڑی مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے متاثرین کی امداد کے لیے محفوظ رسائی مل سکے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی درد انگیز اور اندوہ ناک صورتحال پر او آئی سی کا نمایندہ اجلاس خوش آیند اور بروقت ہے، اس تنظیم سے عالم اسلام کو بڑی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ اس کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ عالم اسلام کو عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل عمل میں آئے اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا ٹھوس ،پائیدار اور فوری حل تلاش کرنے کے لیے عظیم مسلم فکر اور دانش کو بروئے کار لانے کی مشترکہ کوششوں کو مہمیز کیا جائے۔ اس ضمن میں آستانہ میں سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق او آئی سی کے پہلے سربراہی اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں مسلمان ممالک کے آپس میں تعلقات کے علاوہ میانمار میں ظلم کے شکار مسلمانوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار اور ان کے قتل عام کے خلاف جو موقف اختیار کیا گیا اب ضرورت اس اعلامیہ پر اس کی روح اور الفاظ کی روشنی میں مکمل عملدرآمد کی ہے ۔ بلاشبہ روہنگیا پر جو بلاجواز ظلم و تشدد ہورہا ہے اس نے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے، ساتھ ہی میانمار کی جمہوریت پسند حکمراں آنگ سان سوچی کے لیے روز افزوں بگڑتی ہوئی صورتحال ایک بڑا چیلنج بھی ہے جس سے انھیں نمٹنے میں تاخیر بالکل نہیں کرنی چاہیے اور روہنگیا کے مظلوموں کی داد رسی کرنی چاہیے۔

میڈیا کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلامی کانفرنس کے سیکریٹری جنرل نے مظالم کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھا ہے جس میں انسانیت سوز مظالم کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔او آئی سی کے اراکین نے میانمارمیں مظلوم مسلمانوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میانمار کی حکومت سے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ او آئی سی کے اعلامیے میں میانمار حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو شہریت دی جائے۔ او آئی سی کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر میانمار کی حکومت پر شدید تنقید بھی کی گئی۔

یہ موقع مسلم دنیا کے لیے اجتماعی خود احتسابی کا بھی ہے کہ وہ سائنس وٹیکنالوجی سے بے بہرہ ہونے کے باعث دہشتگردی کا مرکز کہلائے جانے کے الزام سے بھی بری الذمہ نہیں ہوپاتی، مغرب کے الزامات کا جواب دینے کے لیے مسلم دنیا کو استحصال،ظلم وتشدد اور ناخواندگی سمیت عوامی حکمرانی کے لیے جمہوری اسپرٹ کو اپنی سیاست کی رگوں میں داخل کرنا ہوگا تاکہ دہشتگردی اور اسلامو فوبیا کا تدارک کیا جا سکے۔یہ اطلاع دل خوش کن ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے سربراہان نے مسلم دنیا کی سائنس و ٹیکنالوجی میں شاندار ترقی کو بحال کرنے اور اسلاموفوبیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ اسلامی دنیا کو اپنے جائز مقام کے حصول اور ترقی وخوشحالی کے لیے ہر شعبے میں خودکفالت حاصل کرنی چاہیے، اسلامی معاشروں کو درپیش نئے چیلنجزسے نمٹنے کے لیے طبعی و عمرانی علوم دونوں میں تحقیق ضروری ہے، ترک صدر نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے بے پناہ مظالم پر میانمار حکومت کی شدید مذمت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی روہنگیا مسلمانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریگا۔

بلاشبہ روہنگیا مسلمانوں کو ظلم سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر صدائیں بلند ہورہی ہیں ،عالمی ضمیر بیدار ہوا ہے، پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے، جلوس اور ریلیاں نکالیں ، جماعت اسلامی نے کراچی میں ایک بڑی ریلی نکالی۔میانمار حکمرانوں کے لیے عالم اسلام کا احتجاج صورتحال کی اصلاح کے لیے ایک پیش قدمی ہے جس کا میانمار حکومت کی طرف سے مثبت جواب آنے کی اشد ضرورت ہے۔