پاکستان مخالف عناصر بلوچستان میں پھر سے سرگرم

ملک دشمن قوتوں کی نظر بلوچستان کے بدلتے سماجی اور اقتصادی حالات کو بگاڑنے پر مرکوز ہے


Editorial September 12, 2017
بلوچستان میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ فوٹو: فائل

بلوچستان میں دہشتگردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، اس بار بہیمانہ لہر نے ہزارہ برادری کو اپنا نشانہ بنالیا۔ ایک اطلاع کے مطابق کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں نامعلوم شرپسندوں کی گاڑی پر فائرنگ سے ہزارہ برادری کے 7سالہ بچے سمیت4افراد جاں بحق اور2زخمی ہوگئے، حملہ آور موقع سے فرارہوگئے، واقعہ کے بعد ایف سی اور پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔

سیکیورٹی ذرایع کے مطابق سی پیک کے فعال ہونے کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسندوں اور پاکستان مخالف قوتوں کی کوشش ہے کہ سی پیک کے مثبت اثرات آنا شروع ہونے کا مطلب ان کی تزویراتی موت ہے،اور یہ بریک تھرو بھی کم اہمیت کا حامل نہیں کہ گوادر پورٹ کی فعالیت کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں ، سی پیک کی وجہ سے توانائی بحران اپنے انجام کو پہنچنے کے قریب ہے۔

ادھر چینی ماہرین اور مزدوروں کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کے لیے بھی بعض عناصر دہشتگردانہ وارداتوں کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

ایک طرف ہزارہ کمیونٹی کوٹارگٹ کیا گیا تو دوسری طرف صوبہ میں جمعیت اہلحدیث صوبہ سندھ کے نائب امیر ،چیئرمین تحریک تحفظ حرمین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا ابو تراب کا اغوا سیکیورٹی اداروں اور حکومت بلوچستان کے لیے سوالیہ نشان ہے ، جب کہ تین ماہ قبل اغوا کیے گئے چینی جوڑے کی مسخ شدہ لاشیں مستونگ کے پہاڑی علاقہ سے ملی ہیں، باور کیا جاتا ہے کہ ایک مرد اور خاتون کی لاشیں ان ہی چینیوں کی ہوںگی، ان کے ڈی این اے کے لیے متوفیوں کے اہل خانہ سے رابطہ کرلیا گیا ہے، اور نمونے اسلام آباد بھیجے جاچکے ہیں، انھیں کوئٹہ کے جناح ٹاؤن سے اغوا کیا گیا دریں اثنا بلوچستان نے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت اورانسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر پنجگور میں نیشنل پارٹی کے علاقائی دفتر پر دستی بم حملے اور فائرنگ سے دفتر کو نقصان پہنچا، نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں واقعے کی شدید مذمت کی گئی، تربت میں فائرکیے گئے2راکٹ محکمہ جنگلات کے فارم میں گرکرپھٹ گئے۔

بلوچستان کی داخلی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ خطے کے مجموعی جیو پولیٹیکل تناظر میں دہشتگرد نیٹ ورکس کی باقیات کا بھرپور تعاقب جاری رکھا جائے، ملک دشمن قوتوں کی نظر بلوچستان کے بدلتے سماجی اور اقتصادی حالات کو بگاڑنے پر مرکوز ہے لہذا بین الصوبائی اشتراک عمل اور شورش پسندوں اور تخریب کاروں کو اس بات کی ہر گز مہلت نہیں ملنی چاہیے کہ وہ ری گروپنگ میں کامیاب ہوں اور اور امن کوششوں کو سبوتاژ کرسکیں۔