اسلام آباد میں آتشزدگی کا سانحہ اور نوجوانوں کی ہلاکت

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتوں نے انسانی جان کوکبھی کوئی اہمیت ہی نہیں دی


Editorial September 12, 2017
پولیس ذرایع کے مطابق عوامی مرکز کی پانچویں منزل تک فائر بریگیڈ کی گاڑیوں سے پانی ہی نہیں پہنچ رہا تھا۔ فوٹو: فائل

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عوامی مرکز میں آتشزدگی سے سی پیک سینٹر آف ایکسی لینس' آئی ٹی پارک اور وفاقی ٹیکس محتسب سمیت نصف درجن سے زائد نجی کمپنیوں کے دفاتر جل کر خاکستر ہو گئے جب کہ جان بچانے کی کوشش میں عمارت سے چھلانگ لگانے والے 2نوجوان جاں بحق جب کہ تیسرا شدید زخمی ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق 6سے 7پولیس اہلکاروں نے مسجد کی ایک چٹائی کو مضبوطی سے پکڑا اور ایئرپورٹ کارپوریشن کے ملازم علی رضا کو اس پر چھلانگ لگانے کے لیے کہا' علی رضا کے چھلانگ لگانے پر پولیس اہلکار توازن برقرار نہ رکھ سکے اور نوجوان شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پر کوئی سانحہ رونماہو جائے تو شہریوں کی جان بچانے کے لیے عملے کے پاس مناسب آلات ہی نہیں موجود ہوتے اور وہ انتہائی غلط طریقہ اختیار کرتے ہوئے شہریوں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں جو مدد کے بجائے نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔

یہی طریقہ علی رضا کو بچانے کے لیے اختیار کیا گیا، اگر مناسب حکمت عملی کا مظاہرہ کیا جاتا تو ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ مگر یہاں انسانی جان کی کسے پرواہ ہے۔کچھ عرصہ قبل کراچی میں بھی ایک نوجوان بروقت امداد نہ ملنے کے باعث عمارت سے گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس ذرایع کے مطابق عوامی مرکز جیسی اہم عمارت میں نصب آگ بجھانے والے سلنڈر بھی زائد المیعاد ہو چکے تھے ۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتوں نے انسانی جان کوکبھی کوئی اہمیت ہی نہیں دی اور نہ ریسکیو اداروں کو جدید آلات اور تربیت فراہم کرنے کی کوشش کی' یہی سبب ہے کہ جائے حادثہ پر ریسکیو ادارے پہنچنے کے باوجود جدید آلات اور سہولتوں کی کمی کے باعث وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔

یہی صورت حال عوامی مرکز میں آتشزدگی کے موقع پر پیش آئی' پولیس ذرایع کے مطابق عوامی مرکز کی پانچویں منزل تک فائر بریگیڈ کی گاڑیوں سے پانی ہی نہیں پہنچ رہا تھا۔ یہ مظاہر حکومت اور انتظامیہ کی بے حسی اور لاپروائی کے عکاس ہیں۔ دیگر ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کو بچانے والے اداروں کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔