امن خطے کی ضرورت ہے

درحقیقت دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور دہشت گرد دنیا بھر میں اپنا ٹارگٹ خود سیٹ کرتے ہیں


Editorial September 13, 2017
درحقیقت دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور دہشت گرد دنیا بھر میں اپنا ٹارگٹ خود سیٹ کرتے ہیں. فوٹو: فائل

خطے کی مشکلات کو بیرونی مداخلت کے بغیر حل کرنے کی ضرورت ہے، افغانستان سمیت خطے کی مشکلات علاقائی ہے اور بیرونی طاقتیں ان معاملات کوکبھی حل ہوتے نہیں دیکھ سکتیں، ان خیالات کا اظہار ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف سے گفتگو میں کیا ۔ پاکستانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوج ناکام ہوچکی ہے پاکستان،ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔

چند دن بیشتر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کے تناظر میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ اور قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، جن جارحانہ خیالات کا اظہارکیا تھا، اس کے بعد یہ پاکستان کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ سفارتی سطح پر خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطہ کرے اور حقیقی صورتحال کو واضح کرے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جاسکے ۔ اسی تناظر میں وزیرخارجہ خواجہ آصف مختلف ممالک کے دورے پر ہیں ۔انھیں ان سفارتی کوششوں میں نمایاں کامیابی بھی مل رہی ہے، ایران کے جوگلے شکوے تھے پاکستان سے، ان میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے، اس کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں نے ہی بارڈر منیجمنٹ کے تعاون کو فروغ دیا اور سرحد کے آر پار شرپسندوں اور دہشت گردوں کی حرکات کو بارڈر منیجمنٹ سے ہی روکا گیا جس کے باعث ایران نے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ ایرانی صدر کے خیالات خطے کے ممالک کودعوت فکر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم اپنے اختلافات کو باہمی گفت وشنید سے حل کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب عید قرباں کے موقعے پر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کشیدہ تعلقات کے خاتمے کے لیے پاکستان کو جامع سیاسی مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے ، ایک ایسا امن جس کی بنیاد سیاسی نظریے پر ہو ،انھوں نے کہا کہ ساری دنیا کو معلوم ہوچکا ہے کہ اس ملک کو زور سے کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا ، لیکن خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہرقدم اٹھانے کو تیار ہیں ۔ افغان صدر نے عسکریت پسندوں پر زور دیا کہ وہ امن کے عمل کا حصہ بنیں، جب کہ اس سال مئی میں اشرف غنی نے پاکستان کے دورے کی دعوت مسترد کردی تھی۔ اب صورتحال قدرے واضح ہورہی ہے اورافغان صدر اشرف غنی کی باتیں انتہائی اہم اور قابل غور ہیں، وہ بھی امن چاہتے ہیں۔

جب پاکستان ،ایران اور افغانستان خطے کو پرامن بنانا چاہتے ہیں اور اپنے باہمی مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتے ہیں تو پھرکون سی ایسی قوت ہے جو ان کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے ، جواب انتہائی آسان ہے کہ سپرپاور امریکا ۔ جوخطے میں جنگ کو ختم کرنے کے بجائے اس کو مزید ہوا دینا چاہتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی جلتی پر تیل کا کام کرے گی اور جب خطے کے ممالک آپس میں لڑ کر مزید کمزور ہوجائیں گے تو خطے کی چوہدراہٹ منی سپر پاور بھارت کو دے دی جائے گی ، یہ ہے نئی افغان خارجہ پالیسی کا لب لباب ۔اسی پس منظر اور پیش منظر کے تناظر میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد میں کمی اور پابندیوں سے خود امریکا کو نقصان ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے برطانوی خبر ایجنسی کو ایک انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ہر مسئلے کا الزام پاکستان پر لگانا ٹھیک نہیں، اس کے بجائے واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ 3.5 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے۔ پاکستانی وزیراعظم کے خیالات انتہائی صائب اور بروقت ہیں۔

درحقیقت دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور دہشت گرد دنیا بھر میں اپنا ٹارگٹ خود سیٹ کرتے ہیں اور پھر باسانی اپنے اہداف بھی حاصل کرتے ہیں۔ فرانس ، امریکا ، برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اس کی بہترین مثال ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہاں بھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟ پاکستان کے خلاف منفی اور جھوٹا پروپیگنڈہ امریکا اور بھارت ملکر کرتے رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان چار دہائیوں سے افغان بدامنی کے تکلیف دہ اثرات برداشت کررہا ہے حالانکہ کیا دھرا سب امریکا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات امریکا اور بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھائے ، پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک ہماری نمایندگی نہیں کرتے اور نہ ہی ہم چاہیں گے کہ وہ ہماری سرزمین استعمال کریں، امریکا افغانستان کے مسائل کی دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس کے پاس جھوٹی الزام تراشی کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ خطے کی سلامتی امن وامان کی بحالی ، پائیدار استحکام اور آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان ، ایران ، افغانستان اور چین کی قیادت سر جوڑکر بیٹھے اور مدبرانہ فہم وفراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی اختلاف کو مذاکرات کی میز پر حل کرے اور امریکا کو خواہ مخواہ چوہدری بننے نہ دے ، ورنہ خطے میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکے گا بلکہ مزید جنگ کے شعلے بھڑک جائیں گے جوکہ امریکا چاہتا ہے۔